محمد طلحہ کاندھلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد طلحہ کاندھلوی
معلومات شخصیت
پیدائش 28 مئی 1941  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
سہارنپور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 12 اگست 2019 (78 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
میرٹھ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہی مسلک حنفی
والد محمد زکریا کاندھلوی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ سلمہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی مظاہر علوم سہارنپور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ عالم،  فلسفی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو،  فارسی،  عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

مولانا طلحہ کاندھلوی (28 مئی 1941ء – 12 اگست 2019ء) بھارت کے معروف محدث اور مظاہر علوم سہارنپور کے سابق شیخ الحدیث محمد زکریا کاندھلوی کے بیٹے، ان کے جانشین اور خانقاہ خلیلیہ کے سجادہ نشین تھے۔

سوانح[ترمیم]

اُن کی پیدائش 2 جمادی الاول 1390ھ بمطابق 28 مئی 1941ء کو محمد زکریا کاندھلوی اور اُن کی زوجہ ثانیہ، سلمہ کے ہاں سہارنپور میں ہوئی۔[1] ان کی والدہ چھ ماہ سہارنپور اور چھ ماہ نظام دہلی رہا کرتی تھیں اور والدہ کا جہاں قیام ہوتا ان کی تعلیم وہیں ہوتی، بیماری اور کمزوری کے سبب تکمیل حفظ قرآن میں ان کو دیر لگی، البتہ حفظ کے پورے ہونے تک مستقل قیام سہارنپور ہی رہا اور 16 رجب 1375ھ بمطابق 29 فروری 1956ء میں قرآن مجید مکمل ہوا، پہلی محراب 1376ھ میں مسجد شاہ جی دہلی میں سنائی۔ اُن کی فارسی کی تعلیم کا آغاز 5 دسمبر 1956ء میں سہارنپور میں ہوا، پھر اس کے بعد شش سال نظام الدین دہلی بسلسلہ تعلیم رہے اور عربی کی ابتدائی تعلیم یہیں سے پائی۔ مہینے میں ایک مرتبہ مولانا محمد یوسف کے ساتھ سہارنپور آتے تھے۔[2]

اُن کی ابتدائی تعلیم مظاہر علوم سہارنپور میں ہوئی پھر دہلی میں کاشف العلوم مرکز نظام الدین دہلی سے فراغت حاصل کی۔ وہ عابد زاہد سادگی پسند سادہ طبیعت تھے۔ اُنہوں نے کتابوں کی تجارت کو اپنا ذریعہ معاش بنایا۔ انہوں نے محمد زکریا کے قائم کردہ کتب خانہ یحیوی کو ترقی دی۔ انہوں نے اپنے والد کی بہت سی نایاب ہو چکی کتابوں کو اہتمام کے ساتھ شائع کرایا۔ 1400ھ سے باضابطہ مظاہر علوم سہارنپور کے رکن شوریٰ اور چند سال تک اس کے جنرل سکریٹری کے عہدہ پر فائز رہے۔[2] والد کی وفات کے بعد 1402ھ میں ان کی جگہ مظاہر علوم کے سرپرست بنائے گئے تھے۔[3]

2013ء میں اُن کی وفات کی جھوٹی خبر پھیلائی گئی تھی جس کی تردید کرتے ہوئے مفتی انیس احمد مظاہری نے کہا تھا کہ ”مولانا محمد زکریا کاندھلوی کے جانشین مولانا محمد طلحہ کاندھلوی سہارنپور ہندوستان میں خیریت سے ہیں ان کی وفات کے حوالہ سے خبر درست نہیں ہے۔“[4]

2018ء میں ان کی اہلیہ علالت کے بعد میرٹھ میں 68 سال کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں، ان کی نماز جنازہ محمد سعد کاندھلوی نے پڑھائی اور کاندھلہ سپرد خاک کی گئیں۔[5]

وہ طویل علالت کے بعد 10 ذوالحجہ 1440ھ مطابق 12 اگست 2019ء کو میرٹھ کے آنند ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ انہیں بعد نماز عشاء دیر رات میں بابا لال داس مارگ میں واقع حاجی شاہ کمال قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔[6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سوانح شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی از ابو الحسن علی ندوی ص 185، مکتبہ اسلام
  2. ^ ا ب ماہنامہ مظاہر علوم سہارنپور، پیر طریقت حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی کی رحلت ایک عہد کا خاتمہ از عبد اللہ خالد قاسمی خیرآبادی
  3. سوانح شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی از ابو الحسن علی ندوی ص 186، مکتبہ اسلام
  4. "مولانا محمد طلحہ کاندھلوی کے انتقال کی خبر درست نہیں 'خیریت سے ہیں، مفتی انیس احمد"۔ نوائے وقت۔ 17 فروری 2013ء۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 اگست 2019ء۔
  5. "مولانا طلحہ کاندھلوی کی اہلیہ انتقال کر گئیں، سپرد خاک کر دیا گیا"۔ روزنامہ پاکستان۔ 21 جون 2018ء۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 اگست 2019ء۔
  6. "हजरत मौलाना तल्हा के इंतकाल से शोक की लहर"۔ دینک جاگرن (ہندی زبان میں)۔ 12 اگست 2019ء۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 اگست 2019ء۔