مندرجات کا رخ کریں

محمد ظفر اقبال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
محمد ظفر اقبال
(بنگالی میں: মুহম্মদ জাফর ইকবাল ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائش 23 دسمبر 1952ء (74 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سلہٹ   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش
پاکستان   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد فیض الرحمن احمد   ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ ڈھاکہ
یونیورسٹی آف واشنگٹن
ڈھاکہ کالج
بوگرہ ضلع اسکول   ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مصنف ،  سائنس فکشن مصنف ،  بچوں کے مصنف ،  طبیعیات دان   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان بنگلہ   ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان بنگلہ   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
بنگلہ اکادمی ادبی ایوارڈ   ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

 

محمد ظفر اقبال اپنی اہلیہ یاسمین حق کے ساتھ

محمد ظفر اقبال (پیدائش 23 دسمبر 1952ء) ایک بنگلہ دیشی سائنس دان، محقق، ادیب، صحافی اور تعلیم کے علمبردار ہیں۔ وہ معروف سائنس فکشن اور بچّوں کی ادب نگاری میں پیش پیش ہیں، نیز کمپیوٹر سائنس اور انجینئرنگ کے سابق پروفیسر اور شاہ جلال یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں الیکٹریکل اور الیکٹرانک انجینئرنگ کے شعبہ کے طور پر خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔

تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی

[ترمیم]

محمد ظفر اقبال نے اپنی ابتدائی تعلیم سلہٹ اور ڈھاکا کے اداروں سے حاصل کی۔ کم عمری سے ہی انھیں سائنس اور ریاضی میں غیر معمولی دلچسپی تھی۔ انھوں نے بعد ازاں ڈھاکا یونیورسٹی سے طبیعیات میں گریجویشن کیا اور اپنی علمی جستجو کو آگے بڑھاتے ہوئے امریکا کے کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (Caltech) سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ امریکا میں اپنے قیام کے دوران انھوں نے کئی تحقیقی پروجیکٹس میں حصہ لیا جو کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی سے متعلق تھے۔ ان کا تحقیقی کام مختلف بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکا ہے اور انھیں بنگلہ دیش اور بیرونِ ملک متعدد علمی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔

امریکا سے واپسی کے بعد انھوں نے شاہ جلال یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں کمپیوٹر سائنس اور انجینئرنگ کے شعبے کی بنیاد رکھی، جہاں انھیں نہ صرف ایک محقق اور استاد کے طور پر بلکہ ایک ادارہ ساز شخصیت کے طور پر بھی احترام حاصل ہے۔ انھوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں میں سائنسی شعور، تحقیق کی اہمیت، منطقی سوچ اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے وقف کیا۔

ادبی خدمات

[ترمیم]

محمد ظفر اقبال بنگلہ دیش میں جدید سائنسی ادب خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کے لیے لکھے جانے والے سائنس فکشن کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے ناول، کہانیاں اور مضامین سائنسی تخیل، تکنیکی حقائق اور سماجی پیغام کا حسین امتزاج ہیں۔ ان کی تصانیف میں "دوئترے چہرہ", "کاربن پلانٹ", "کویلا", اور بچوں کے لیے تحریر کردہ مشہور سیریز "کتاپور" شامل ہیں۔ ان کا تحریری اسلوب سادہ، رواں اور عام فہم ہے، جس کی وجہ سے نوجوان نسل میں سائنسی موضوعات کی طرف رغبت بڑھی۔

اس کے علاوہ وہ مختلف اخبارات میں کالم نگاری بھی کرتے ہیں اور تعلیمی اصلاحات، سوچ کی آزادی، سائنس کی ترویج اور معاشرتی مسائل پر اپنی رائے پیش کرتے ہیں۔ ان کی شخصیت کو بنگلہ دیش میں روشن خیالی، علمی تحقیق، اظہار رائے کی آزادی اور ترقی پسند فکر کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

ذاتی زندگی

[ترمیم]

محمد ظفر اقبال نے 1978ء میں ڈاکٹر یاسمین حق سے شادی کی،[1] جو شاہ جلال یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں لائف سائنسز کی ڈین اور فزکس شعبے کی سربراہ رہ چکی ہیں۔[2] ان کا ایک بیٹا نبیل اقبال ہے جو ڈرہم یونیورسٹی میں بطور سائنس دان کام کر رہا ہے۔[3][4][5]

ایوارڈز اور اعزازات

[ترمیم]

محمد ظفر اقبال کو ان کی خدمات کے اعتراف میں بنگلہ دیش کی مختلف تنظیموں، تعلیمی اداروں اور حکومتی سطح پر کئی ایوارڈز سے نوازا گیا ہے۔ ان میں بنگلہ اکیڈمی ایوارڈ، نیشنل ایجوکیشن آنر میڈل اور متعدد بین الاقوامی سائنسی اعزازات شامل ہیں۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Lovlu Ansar (7 جولائی 2012)۔ "Zafar Iqbal by Humayun's side"۔ bdnews24.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-07-28
  2. Rafi Hossain (17 جولائی 2010)۔ "Dr. Yasmeen Haque: A Voice of Strength"۔ Star Insight۔ The Daily Star۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-07-28
  3. "Liepe Research Group: About us"۔ www.classe.cornell.edu۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-17
  4. "MIT Department of Physics"۔ web.mit.edu۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-17
  5. "N Iqbal - Durham University"۔ Durham University۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-17