محمد عباس (اسکی باز)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد عباس
2010 Opening Ceremony - Pakistan entering.jpg 

شخصی معلومات
پیدائش 16 فروری 1986 (33 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ الپائین اسکیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
کھیل الپائین اسکینک  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کھیل (P641) ویکی ڈیٹا پر

محمد عباس کا تعلق گلگت سے بتیس کلومیٹر دورگاؤں نلتربالا سے ہے جہاں ان کے والد پاک فضائیہ میں بطور چوکیدار ریٹائیر ھوئے اورآجکل کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ سات بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر محمد عباس نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی ہے اور ائیرفورس میں بطور کھلاڑی بھرتی ہوِگئے۔ بارہ سو کے قریب خاندان اس خوبصورت مگر پسماندہ گاؤں میں زندگی گزار رھے ہیں اور یہ علاقہ جنگلات اور پہاڑوں پر مشتمل ہے جہاں سردیوں میں خوب برف باری ھوتی ہے۔

شوق کی تسکین[ترمیم]

انہوں نے المپکس کے لیے ترکی ایرن اور لبنان میں ہونے والے کوالیفائینگ راؤنڈ میں کامیابی حاصل کی اور سن دو ہزار آٹھ اور نو کے دوران میں آسٹریا میں ٹریننگ کی۔ ان المپکس میں عباس نے دونوں رن تین منٹ اور اکیس سیکنڈ میں مکمل کیے۔ عباس کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع تھا کہ وہ اتنے لمبے سلوپ سے کھیل رھے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ شروع میں لکڑی کی مدد سے سکیئز بنا کرگاؤں کے لڑکوں کے ھمراہ برف پر کھیلا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ سال کی عمر میں وہ لکڑی کے دو ٹکروں کو ھموار کرکے رسیوں کی مدد سے پاؤں کے نیچے باندھ کر اور دو درخت کی ٹہنیوں کو ہاتھ میں پکڑ کر برف پر پھسلتے۔ عباس کی عمر نو سال تھی جب ان کو باقاعدہ سکیئز ملے جس کے بعد ان کا کھیل بہتر ہوا اور 1999ء میں انہوں نے تیرہ سال کی عمر میں ایران میں منعقد ھونے والی چلڈرن ایشیشن چیمپین شپ میں حصہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے گاؤں میں بہت لوگوں کو سکئینگ کا شوق ہے اوراب پاکستان کے مختلف اداروں میں اس گاؤں کے کئی لڑکے بطور سکیئرملازمت کر رہے ہیں۔

اعزاز[ترمیم]

کینیڈا کے شہر وینکور میں منقعد ہونے والے سرمائی اولمپکس 2010ء کے کھیلوں کے مقابلے میں بطور سکیئر پہلی مرتبہ پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کرنے والے محمد عباس۔ جنھوں نے گولڈ میڈل حاصل کرنے والے سوئس سکیئر کارلو جنکا سے بیالیس سیکنڈ کے فرق سے آخری لائین کراس کی۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]