مندرجات کا رخ کریں

محمد علی امیر معزی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

محمد علی امیر معزی فرانس کے ممتاز تحقیقی ادارے ایکول پراتیک ڈیس ہاؤٹس ایتھوڈز میں اسلام شناسی کے پروفیسر ہیں اور انھیں خاص طور پر ابتدائی اثناء عشری شیعہ عقائد کے مطالعے میں دنیا کے صف اول کے ماہرین میں شمار کیا جاتا ہے [1]۔ ان کی تحقیق کا بنیادی مرکز شیعہ عقائد کی وہ ابتدائی اور اصل صورت ہے جو بعد میں آنے والے منطقی، فلسفیانہ اور معتزلی اثرات سے پہلے موجود تھی۔ ان کے کام نے عالمی سطح پر شیعہ ازم کے علمی مطالعے کو ایک نیا رخ عطا کیا ہے اور وہ اس شعبے میں ایک مستند آواز سمجھے جاتے ہیں۔

زندگی

[ترمیم]

ابتدائی شیعیت اور تصور امامت

[ترمیم]

محمد علی امیر معزی کا ایک بنیادی استدلال یہ ہے کہ ائمہ معصومین علیہم السلام کے بارے میں مافوق الفطرت اور ماورائے عقل عقائد ہی دراصل ابتدائی اثناء عشری شیعیت کی اصل روح اور مرکز تھے۔ یہ نظریہ ان کے کئی معاصر محققین، جیسے کہ حسین مدرسی اور اس روایتی تشریح کے برعکس ہے جس کی بنیاد شیخ مفید جیسے عقلیت پسند علما نے رکھی تھی[2][1]۔ امیر معزی کے مطابق ابتدائی شیعہ تصور میں امام کے بغیر کائنات کا وجود برقرار نہیں رہ سکتا کیونکہ وہ خدا کی حجت، اس کا مظہر اور وہ وسیلہ ہے جس کے ذریعے انسان خدا کی معرفت حاصل کر سکتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ قدیم شیعہ مآخذ کے مطابق زمین کبھی امام سے خالی نہیں ہو سکتی ورنہ کائنات کا نظام ایک لمحے کے لیے بھی قائم نہیں رہ سکے گا۔

عقل بطور مقدس دانش کا تصور

[ترمیم]

اپنے نظریات کی وضاحت کے لیے امیر معزی نے عقل کے تصور کی ایک نئی تشریح پیش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر امامیہ فکر کو معتزلہ کی طرح ایک عقلی الہیات سمجھا جاتا ہے لیکن یہ مفروضہ ابتدائی شیعہ روایات کو سمجھنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ان کے نزدیک بعد میں یونانی فلسفے کے زیرِ اثر عقل کو محض عقلیت یا منطق کے ہم معنی سمجھا جانے لگا جبکہ ابتدائی مآخذ میں عقل سے مراد ایک مقدس دانش تھی جو خدا کے نور سے پیدا ہونے والی پہلی تخلیق ہے۔[3] اس مقدس دانش کے کائناتی، اخلاقی، روحانی اور نجات دہندہ پہلو ہیں، جہاں عقل انسان کی اندرونی حجت کے طور پر کام کرتی ہے جبکہ ائمہ بیرونی حجت کی حیثیت رکھتے ہیں۔[4]

بین الاقوامی اعزازات اور تصانیف

[ترمیم]

محمد علی امیر معزی کی علمی خدمات کے اعتراف میں انھیں متعدد بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا ہے، جن میں 2022 میں فرانس کا سب سے بڑا شہری اعزاز لیجن آف آنر اور 2020 میں انسٹی ٹیوٹ آف دی عرب ورلڈ کا گرینڈ پرائز شامل ہیں۔ ان کی کتب اگرچہ اصل میں فرانسیسی زبان میں ہیں لیکن ان کے انگریزی تراجم جیسے کہ ابتدائی شیعت میں الہامی رہنمائی اور خاموش قرآن اور بولتا قرآن نے پوری دنیا میں محققین کو متاثر کیا ہے۔ ان کے کام نے ثابت کیا ہے کہ عقل اور امامت کے ابتدائی تصورات کو سمجھے بغیر شیعہ تاریخ کا درست ادراک ممکن نہیں ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 Rizvi 2012, p. 379
  2. Gleave 2009, p. 1598
  3. Amir-Moezzi 1994, p. 8
  4. Amir-Moezzi 1994, p. 9