محمد علی طیب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

حکیم محمد علی طبیب کی تاریخ پیداٸش معلوم نہیں لیکن ان کا انتقال 1918 میں ہوا تو ان کی عمر اکیاسی بیاسی سال تھی ۔ اس حساب سے ان کی ولادت 1835 یا 1836 میں ہوٸی ہو گی ۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق حکیم صاحب نے ابتداٸی تعلیم کے بعد عربی و فارسی کے علاوہ فلسفہ منطق تاریخ اور ہیٸت میں بھی دسترس حاصل کی اور طب کی سند جھواٸی ٹولہ لکھنو کی مشہور طبی درس گاہ حاصل کی ۔ فارغ التحیصل ہونے کے بعد طبابت کو باقاعدہ پیشے کے طور پر اختیار کیا ۔ محمد علی طبیب بیک وقت ایک طبیب ، فلسفی ، مورخ ، ادیب ، عالم مترجم اور صحافی تھے ۔ طب کے علاوہ ہیٸت میں دخل رکھتے تھے ۔ انہوں نے رسالے اور ناول قوم کی اصلاح کے لیے لکھے ۔ شکل و صورت کے اعتبار سے وہ سر سید سے مشابہ تھے ۔ ان کی داڑھی تو بالکل سر سید جیسی تھی ۔ فکری طور پر بھی وہ سر سید کی تحریک کے حامی تھے ۔ ان کا انتقال جگر کے سرطان کی وجہ سے ہوا ۔ زندگی کے آخری نو دس مہینے انہوں نے بڑی تکلیف میں گزارے ۔ انہیں ہردواٸی کی جامع مسجد کے قریب پہلی بیوی عظمت النسا کے پہلو میں دفن کیا گیا ۔ ان کی دوسری بیوی کا نام مشتری خاتون تھا ۔ وہ حکیم صاحب کی وفات کے وقت زندہ تھیں ۔ ان کی پہلی بیوی سے دو بیٹے مجتبیٰ علی خان اور مصطفیٰ علی خان پیدا ہوٸے ان ایک بچپن میں اور نوجوانی میں انتقال کر گیا ۔ دوسری بیوی کے ہاں دو بیٹیاں پیدا ہوٸیں ۔ شہر بانو کے ہاں ایک بیٹا ہوا اور کے کچھ عرصے بعد وہ انتقال کر گٸیں ۔ اور صغریٰ بیگم کی شادی ہوٸی ۔ ان دنوں کا انتقال ہو گیا ۔ حکیم صاحب کا نواسہ چودھری محمد فہیم ان کا سہارا تھا ۔ حکیم صاحب نے کل آٹھ ناول لکھے ۔ ان میں پانچ تاریخی اور تین معاشرتی ناول ہیں ۔ تاریخی ناول عبرت ۔ نیل کا سانپ ۔ جعفر و عباسہ ۔ رام پیاری اور خضرخان دیول دیوی ۔ ان کے معاشرتی ناول گورا ۔ اختر حسینہ اور حسن و سرور ہیں ۔ انہوں نے ایک طبی رسالہ ”مسیحاٸے عالم “ اور ترجمہ ” المظاہر “ یادگار چھوڑا ۔ ایک رسالہ ” مرقع عالم “ جاری کیا ۔ جس میں مختلف موضوعات پر مضامین شاٸع ہوتے تھے ۔ ان پر ایک ہی کتاب شاٸع ہوٸی ۔ ” محمد علی طبیب ۔۔ حیات اور کارنامے “ مصنف ۔۔ ڈاکٹر عبدالحی ( شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی دہلی ) یہ پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے ۔ اشاعت 1989 ۔۔ صفحات 296