محمد عمر میمن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد عمر میمن
معلومات شخصیت
پیدائش 1939ء
علی گڑھ، برطانوی ہند
وفات 4 جون، 2018ء
وسکونسن
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان[1]
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی ہارورڈ یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ یونیورسٹی آف وسکونسن–میڈیسن میں 38 سال اردو، اسلامیات، عربی، فارسی زبانوں کی تعلیم اور ایک اسکالر کے طور پر کام
پیشہ ورانہ زبان اردو[2]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت یونیورسٹی آف وسکونسن–میڈیسن،  جامعہ سندھ  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ شہرت اردو شاعری، افسانہ نگاری، معروف جریدے The Annual of Urdu Studies کی ادارت
کارہائے نمایاں انتظار حسین اور نیرہ مسعود کی تحریروں کا اردو ترجمہ، تاریک گلی کے عنوان سے افسانوں کا مجموعہ، اور انگریزی زبان میں دو تحریریں Do You Suppose it’s the East Wind اور The Greatest Urdu Stories Ever Told

محمد عمر میمن ایک ماہر اردو زبان، شاعر، افسانہ نگار، اردو کی عمدہ تحریروں کے انگریزی ترجمہ نگار اور معروف جریدے The Annual of Urdu Studies کے مدیر رہ چکے ہیں۔وہ یونیورسٹی آف وسکونسن–میڈیسن میں اردو ادب اور اسلامیات کے پروفیسر ایمیریٹس رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے وہاں کے اردو منصوبے کے لیے مشیر کا کردار ادا کیا۔ انہوں جامعۂ ہٰذا میں 38 سال اردو، اسلامیات، عربی، فارسی زبانوں کی تعلیم دی اور اس کے بعد ایک اسکالر کے طور پر کام کیا۔


خاندان اور تعلیم[ترمیم]

عمر علی گڑھ میں 1939ء میں پیدا ہوئے۔ وہ چھ بچوں میں سب سے کم عم تھے۔ ان کا خاندان 1954ء میں تقسیم ہند کے بعد پاکستان منتقل ہوا اور کراچی میں قیام پزیر ہوا۔ اسی شہر میں عمر نے بیچلر اور ماسٹر کی ڈگریوں کی تکمیل کی۔ وہ ایک مختصر عرصے کے لیے ساچل سرمست کالج اور جامعہ سندھ میں درس و تدریس کی خدمت انجام دی۔ وہ 1964ء میں فل پرائٹ اسکالر شپ کے تحت تعلیم کے لیے روانہ ہوئے، جہاں انہوں نے شرقِ قریب کی زبانوں اور ادب میں ماسٹر کی تعلیم ہارورڈ یونیورسٹی میں مکمل کی۔ انہوں نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس سے اسلامیات میں پی ایچ ڈی کی تکمیل کی۔[3]


ادبی کام[ترمیم]

1989ء میں میمن نے اپنے افسانوں کا پہلا مجموعہ تاریک گلی کے عنوان سے شائع کیا۔

اس کے علاوہ عمر نے انتظار حسین اور نیر مسعود کی تحریروں کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔

ان کی انگریزی تحریروں میں Do You Suppose it’s the East Wind? اور The Greatest Urdu Stories Ever Told شامل ہیں۔[3]

انتقال[ترمیم]

عمر 4 جون، 2018ء کو وسکونسن میں شدید بیماری کی وجہ سے انتقال کر گئے۔ اکادمی ادبیات پاکستان نے ایک بیان میں محمد عمر میمن کے گزر جانے کو اردو ادب کے لیے ایک بہت بڑا نقصان قرار دیا تھا۔[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb12364074q — اخذ شدہ بتاریخ: 26 مارچ 2017
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12364074q — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: Bibliothèque nationale de France — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ^ ا ب پ