محمد غزالی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد ابراہیم زین الدین ابو غزالی ٹیسٹ کیپ نمبر 18
MEZ Ghazali 1954.jpg
M.E.Z غزالی 1954 میں
ذاتی معلومات
پیدائش12 ستمبر 1932(1932-09-12)
بمبئی، برطانوی ہندوستان (موجودہ بھارت)
وفات10 فروری 2020(2020-02-10)
کراچی
بلے بازیدائیں ہاتھ کا بلے باز بلے بازی
گیند بازیرائٹ آرم آف بریک باؤلر گیند بازی
حیثیتبلے بازی
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
پہلا ٹیسٹ1 جولائی 1954  بمقابلہ  انگلینڈ
آخری ٹیسٹ22 جولائی 1954  بمقابلہ  انگلینڈ
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ کرکٹ فرسٹ کلاس کرکٹ
میچ 2 47
رنز بنائے 32 1701
بیٹنگ اوسط 8.00 27.43
100s/50s 0/0 2/7
ٹاپ اسکور 18 160
گیندیں کرائیں 48 5065
وکٹ 0 61
بولنگ اوسط 83.00
اننگز میں 5 وکٹ 2
میچ میں 10 وکٹ 0
بہترین بولنگ 5/28
کیچ/سٹمپ 10/– {{{catches/stumpings2}}}
ماخذ: کرک انفو، 10 فروری 2020ء

محمد ابراہیم زین الدین ابو غزالی Mohammad Ebrahim Zainuddin Ghazaliانگریزی:(پیدائش:(12 ستمبر 1932ءبمبئی (اب ممبئی)، مہاراشٹر، ہندوستان |وفات: 10 فروری 2020ءکراچی، پاکستان،) ایک پاکستانی کرکٹر تھے[1] جو ایم زیڈای غزالی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں جنہوں نے پاکستان کی طرف سے 2 ٹیسٹ میچ کھیلے تھے آف سپنر آل رائونڈر تھے جب پاکستان نے 1954ء میں انگلستان کا دورہ کیا تھا تو انہیں ٹیست میچ کھیلنے کا موقع ملا وہ سیدھے ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے اور سیدھے ہاتھ سے آف بریک کرنے والے بائولر تھے۔

ابتدائی زمانہ[ترمیم]

ابراہیم غزالی 15 جون 1924ء کو بمبئی (اب ممبئی) میں مہاراشٹر صوبے (اس وقت برٹش انڈیا) میں پیدا ہوئے تھے اور آزادی سے قبل انہوں نے مہاراشٹر سٹیٹ کی طرف سے کرکٹ شروع کی تھی۔ ان کی پیدائش اردو سپیکنگ مسلمان فیملی میں ہوئی تھی اور یہ فیملی 1947ء میں آزادی کے بعد پاکستان شفٹ ہو گئی تھی۔ انہوں نے پاکستان،مہاراشٹر،مسلم اور پاکستان سروسز کی طرف سے کرکٹ کھیلی۔ایم زیڈ غزالی فیروز خان کے داماد تھے جنہوں نے 1926ء کے اولمپکس مقابلوں میں بھارتی ہاکی ٹیم کی طرف سے سونے کا تمغہ جیتا تھا جبکہ اسی فیروز خان کے بیٹے فاروق فیروز خان ایک وقت میں پاکستان ایئر فورس میں چیئرمین جوائنٹ چیف سٹاف کمیٹی رہ چکے ہیں۔ وہ بعد میں پاکستانی کرکٹ میں آنے والے کرکٹر اعجاز فقیہ کے بھی عزیز بنے کیونکہ ایم زیڈ غزالی کی بہن اعجاز فقیہ کی خوشدامن تھیں۔ ایم زیڈ غزالی بھی پاکستان ایئرفورس کے ساتھ وابستہ رہے اور ونگ کمانڈر کے عہدے تک پہنچے۔

ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز[ترمیم]

1954ء میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے دورہ انگلستان میں ایم زیڈ غزالی نے ٹرنٹ برج کے پہلے ٹیسٹ میں 18 اور 14 رنز بنائے لیکن اولڈ ٹریفوڈ کے دوسرے ٹیسٹ میں انہوں نے دو گھنٹے کے اندر ہی پیئر (دونوں اننگز میں صفر حاصل کیا) اور ایک منفرد مقام بنا لیا جو کسی کھلاڑی نے اتنے کم وقت میں پیئر حاصل کیا ہو تاہم انہوں نے اس دورے میں فرسٹ کلاس میچز شامل کرکے 601 رنز سکور کئے۔ 28.61 کی اوسط سے یہ رنز بنانے کے علاوہ انہوں نے 39.64 کی اوسط سے 17 وکٹ بھی حاصل کئے۔ محض ایک سال قبل وہ ایگلٹس ٹیم کا بھی حصہ تھے جس نے انگلینڈ کا دورہ کیا تھا۔ ان کا فرسٹ کلاس کرکٹ میں سب سے زیادہ سکور 160 تھا جو انہوں نے پاکستان سروسز کیلئے 1953-54ء میں کراچی کے مقام پر بنایا تھا اور ان کی بہترین بائولنگ 28 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کرنا تھا۔

ریٹائرمنٹ کے بعد[ترمیم]

کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے ایڈمسٹریٹر کے طور پر اپنا کردار نبھایا۔ 1972-73ء میں انہیں آسٹریلیا کا دورہ کرنے والی پاکستانی ٹیم کا منیجر مقرر کیا گیا تھا۔ وہ اس وقت پاکستان ایئرفورس کے ساتھ وابستہ تھے۔

اعداد و شمار[ترمیم]

ایم زیڈ غزالی نے 2 ٹیسٹ میچز کی 4 اننگز میں 32 رنز بنائے جس میں ان کا زیادہ سے زیادہ سکور 18 تھا۔ انہوں نے 47 فرسٹ کلاس میچز کی 70 اننگز میں 8 دفعہ ناٹ آئوٹ رہ کر 1701 رنز سکور کئے جس میں ان کا زیادہ سے زیادہ سکور 160 تھا جبکہ اوسط 27.43 تھی۔ 2 سنچریاں اور 17 نصف سنچریاں بھی اس میں شامل تھیں جو کہ فرسٹ کلاس میں 17 کیچز بھی ان کے ریکارڈ کا حصہ تھے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں اگرچہ وہ کوئی بھی وکٹ حاصل نہ کرسکے تاہم وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں 34.27 کی اوسط سے 61 وکٹ بھی ان کے کھاتے میں ہیں۔ 28 رنز کے عوض 5 وکٹیں ان کی بہترین کارکردگی تھی[2]

وفات[ترمیم]

ایم زیڈ غزالی 26 اپریل 2003ء میں 78 سال 315 دن کی عمر میں کراچی کے مقام پر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

  1. https://www.espncricinfo.com/player/ebbu-ghazali-40302
  2. https://www.espncricinfo.com/player/ebbu-ghazali-40302