محمد فضل الدین سیالوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

محمد فضل الدین سیالوی سیال شریف کے روحانی پیشوا خواجہ شمس الدین سیالوی کے دوسرے صاحبزادے تھے۔

خواجہ محمد فضل الدین سیالوی
ذاتی
پیدائش(1257ھ)
وفات( 1903ء)
مذہباسلام
والدین
سلسلہچشتیہ
مرتبہ
مقامسیال شریف سرگودھا
دورانیسیویں، بیسویں صدی
پیشروشمس العارفین

ولادت[ترمیم]

خواجہ شمس الدین سیالوی کے ہاں دوسرے بیٹے کی پیدائش 1257ھ میں سیال شریف میں ہوئی۔ شمس العارفین نے اپنے بیٹے کا نام محمد فضل الدین رکھا۔

تعلیم[ترمیم]

خواجہ محمد فضل الدین سیالوی نے قرآن مجید شیخ محمد عبد الجلیل قریشی سے حفظ کیا۔ آپ نے علوم متداولہ کی تحصیل سیال شریف میں حاصل کی۔

بیعت[ترمیم]

خواجہ محمد فضل الدین سیالوی نے بیعت کا شرف اپنے والد ماجد خواجہ شمس العارفین کے دست حق پرست پر حاصل کیا۔ آپ کو والد ماجد نے اپنے وصال سے چند روز قبل وظائف کی اجازت مرحمت فرمائی تھی۔

معمول[ترمیم]

خواجہ محمد فضل الدین صاحب زہد و تقوی میں درجہ کمال رکھتے تھے۔ ان کا وقت اوراد و وظائف سے معمور تھا۔ زیادہ تر گوشہ تنہائی مرغوب طبع تھا۔ آخر دم تک اللہ اللہ کہتے رہے اور اس بابرکت نام پر آپ کا خاتمہ بالخیر ہوا۔ خواجہ محمد فضل الدین بہت طاقتور تھے۔ عشاء کی نماز باجماعت سیال شریف ادا کر کے کڑاڑاں پہاڑ پر پیدل تشریف لے جاتے اور وہاں نماز تہجد ادا کرتے۔ ایک ختم قرآن مجید جاتے وقت اور دو سرا ختم شریف و اپسی کے وقت کرتے تھے۔ نماز فجر باجماعت سیال شریف میں اگر ادا کرتے تھے۔

قوت کشف[ترمیم]

خواجہ فضل الدین سیالوی ایک دن نماز تہجد کے لیے وضو کے لیے مشرقی کنواں پر تشریف لے گئے تو ایک بزرگ پہلے وضو کر رہے تھے۔ پوچھا آپ کون ہیں؟ تو فرمایا میں شادی شہید ہوں۔کبھی کبھی سیال شریف آتا رہتا ہوں۔ وصال سے پہلے میری تمنا تھی کہ جہاں غوث اعظم ہوں گے ان کے پڑوس میں میری قبر ہو۔ چنانچہ اپنی قبر کی جگہ پہلے ہی سے میں نے اس لیے بتا دی تھی کہ مجھے اسی جگہ رکھنا تا کہ غوث اعظم (خواجہ شمس العارفین سیالوی) کے زیر سایہ رہوں۔ ان کا وصال خواجہ شمس العارفین سیالوی سے کافی پہلے کا ہے۔ کفار کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔ خواجہ فضل الدین سیالوی ایک مرتبہ کہیں جا رہے تھے کہ زمین سے آواز آئی مجھے ڈھانپ دو- وہاں آپ نے لکیر کھینچ کر نشان بنا دیا۔ پھر قبر بنانے کی آواز آئی۔ اس کے بعد آپ نے قبر تیار کروا دی کہ نیچے سے دفن شده کسی ولی اللہ نے مجھے آواز دی تھی۔

جسمانی قوت[ترمیم]

خواجہ محمد فضل الدین سیالوی کو اللہ تعالی نے زبردست جسمانی قوت عطا کی تھی۔ آپ کی جسمانی قوت کے چند واقعات درج ذیل ہیں۔

  1. آپ چوبی میخ کو ہاتھ سے دبا کر زمین میں گاڑ دیتے تھے۔ چھت کے شہتیر کو بازوں اور کندھوں کی ٹیک دے کر چوبی ستون بدلوا لیتے تھے۔
  2. جیون ترکھان کو ایک بار معمولی حالت میں چار انگلی کا طمانچہ پہلو پر مارا۔ جس سے اس کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔ بعد میں علاج کرتا رہا تو تب جا کر درست ہوئیں۔ حالانکہ جیون ترکھان خود بڑے قد کاٹھ کا اور طاقتور آدمی تھا۔
  3. شیخ الاسلام سیالوی نے فرمایا کہ مجھے والدہ ماجدہ نے بتایا کہ خواجہ محمد فضل الدین سیالوی لنگر کا نمک بھی پیستے تھے۔ وہ اس طرح کہ عرس مبارک کے موقع پر خادمائیں نمک کوٹتی تھیں۔ جب آپ گھر تشریف لاتے تو نمک کے بڑے بڑے ڈھیلے دیکھ کرکہتے کہ بچیو! مجھے بھی لنگر کی خدمت کرنے دو۔ وہ اٹھ کھڑی ہوتیں اور آپ بیٹھ جاتے۔ پہلے دونوں ہاتھوں سے بڑے بڑے موٹے نمک کے ڈھیلے ریزہ ریزہ کرتے۔ بعد میں جب چھوٹی چھوٹی کنکریوں کی ماند ہو جاتے تو دونوں ہتھیلیوں کے درمیان مل کر میدہ کی طرح بنا لیتے تھے لیکن نہایت معمولی اور عدم توجہی سے ملتے تھے تب بھی باریک ہو جاتا۔ بعد میں کہتے کچھ تو میری بھی خدمت لنگر شریف کے کام میں ہو گئی۔
  4. ایک بار خواجہ محمد الدین سیالوی نے پاک پتن شریف حاضری کا ارادہ فرمایا۔ سبز گھوڑی پر سوار ہو کر چل دیے۔ خواجہ محمد فضل الدین سیالوی نے پیچھے سے بلایا۔ خواجہ ثانی سیالوی نے خیال کیا کہ اگر میں ان کے پاس چلا گیا تو مجھے اٹھا کر خواجہ شمس العارفین کی خدمت بابرکت میں لے جائیں گے اس لیے بجائے ان کے پاس آنے کے گھوڑی دوڑا دی۔ بعد میں بھائی محمد الدین سے دریافت کیا کہ میرے پاس کیوں نہ آئے اور گھوڑی کیوں دوڑا دی تھی؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے فکر ہوئی کہ تم مجھے اٹھا کر حضرت صاحب کی خدمت میں لے جاؤ گے۔ آپ نے کہا واقعی میں آپ کو سمیت گھوڑی اٹھا لیتا لیکن آپ دوڑ گئے۔ خواجہ ثانی سیالوی نے لوگوں کے استنفار پر فرمایا اس میں شک نہیں یقینا مع گھو ڑی مجھے اٹھا لیتے۔

وصال[ترمیم]

خواجہ محمد فضل الدین سیالوی نے 1903ء میں وفات پائی۔ آپ کی تدفین سیال شریف میں کی گئی۔

اولاد[ترمیم]

خواجہ محمد فضل الدین سیالوی کا ایک بیٹا تھا۔

  1. صاحبزادہ نجم الدین سیالوی [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. فوز المقال فی خلفائے پیر سیال جلد اول مولف حاجی محمد مرید احمد چشتی صفحہ 83 تا 86