محمد فواد کوپرولو
| محمد فواد کوپرولو | |
|---|---|
| (ترکی میں: Mehmet Fuat Köprülü)، (ترکی میں: Fuat Köprülü) | |
![]() |
|
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 5 دسمبر 1890ء [1] استنبول [2] |
| وفات | 28 جون 1966ء (76 سال)[3][1][4] استنبول |
| وجہ وفات | ٹریفک حادثہ |
| طرز وفات | حادثاتی موت |
| شہریت | |
| جماعت | جمہوری خلق پارٹی (1935–1945) |
| رکن | اکیڈمی آف سائنس سویت یونین [5] |
| عملی زندگی | |
| مادر علمی | مکتب حقوق السطانی |
| پیشہ | سفارت کار ، سیاست دان ، مورخ ، استاد جامعہ |
| مادری زبان | ترکی |
| پیشہ ورانہ زبان | ترکی [6][7]، فرانسیسی ، فارسی ، عربی |
| ملازمت | جامعہ انقرہ ، استنبول یونیورسٹی ، گالاتسرائے ہائی اسکول |
| درستی - ترمیم | |
محمد فواد کوپرولو 5 دسمبر 1890ء کو پیدا ہوئے- ان کا انتقال 28 جون 1966ء کو ہوا۔ انھیں کوپرولو زادہ محمد فواد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔ وہ ایک انتہائی بااثر ترک ماہر معاشیات، ماہر ترکیات، عالم، وزیر برائے امور خارجہ اور جمہوریہ ترکی کے نائب وزیر اعظم تھے۔ وہ نامور البانوی کوپرولو خاندان کے ایک فرد تھے جس نے 1656ء سے 1711ء کے درمیان سلطنتِ عثمانیہ کو مستحکم کرنے کی کوششوں میں خاندانِ آلِ عثمان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔وہ 20 ویں صدی کے اوائل میں ترکی میں اسکالرشپ اور سیاست کے حوالے سے اہم شخصیت گردانے جاتے تھے۔
بچپن اور تعلیم
[ترمیم]1890ء میں استنبول میں محمد فواد کے نام سے پیدا ہوئے۔ ان کے دادا ، احمد ضیا بے ، بخارسٹ کے سابق سفیر تھے اور دیوانِ ہمایوں کے سابق سربراہ ، کوپرولو زادہ عارف بے کے بیٹے تھے۔کوپرولو زادہ عارف بے 17 ویں صدی کے کوپرولو خاندان سے تعلق رکھتے تھے ، جن کے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں کی گئی اصلاحات اور فتوحات سے سلطنت عثمانیہ کے خاتمے میں تاخیر ہوئی تھی۔ ان کا نام کوپرولو دور کے پہلے وزیر اعظم ، کوپرولو محمد پاشا کے نام پر رکھا گیا تھا۔
مصطفٰی کمال اتاترک سے تعلق
[ترمیم]فواد کوپرولو کو صدر اتاترک کی درخواست پر وزیر تعلیم کا سیکریٹری مقرر کیا گیا اور وہ آٹھ ماہ تک اس عہدے پر رہے۔ مزید برآں ، فواد کوپرولو کو صدر اتاترک کے حکم پر قائم کردہ ادارہ برائے ترکیات کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا اور انھوں نے ترکیات مجموعہ سی (مجلہ برائے ترکیات) کی اشاعت شروع کی۔ 1950ء کے انتخابات میں جب خلق پارٹی بر سر اقتدار آئی تو یہ وزیر برائے خارجہ امور بنے اور 1955ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ [8] 1953 میں ، یوگوسلاویہ کے صدر ٹیٹو اور فواد کوپرولو کے مابین ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت البانیوں کی یوگوسلاویہ سے اناطولیہ ہجرت کو فروغ ملا۔ [9] انھوں نے مختصر طور پر 1955ء میں نائب وزیر اعظم کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ 6 ستمبر 1957ء کو پارٹی کی طرف سے ظاہر کردہ آمرانہ رحجانات سے اختلاف رائے کے بعدانھوں نے خلق پارٹی سے استعفیٰ دے دیا۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب عنوان : Encyclopædia Britannica — دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Mehmed-Fuat-Koprulu — بنام: Mehmed Fuat Koprulu — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
- ↑ https://www.dailysabah.com/portrait/2015/05/29/mehmet-fuat-koprulu-doyen-of-modern-historians
- ↑ مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb12055379s — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
- ↑ Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000003350 — بنام: Mehmed F. Köprülü — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
- ↑ عنوان : Летопись Российской академии наук. Т. VII. 1946—1953 — صفحہ: 164 — ISBN 978-5-6046932-6-1
- ↑ مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12055379s — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
- ↑ مصنف: آزاد اجازت نامہ — مدیر: آزاد اجازت نامہ — عنوان : آزاد اجازت نامہ — ناشر: آزاد اجازت نامہ — خالق: آزاد اجازت نامہ — اشاعت: آزاد اجازت نامہ — باب: آزاد اجازت نامہ — جلد: آزاد اجازت نامہ — صفحہ: آزاد اجازت نامہ — شمارہ: آزاد اجازت نامہ — آزاد اجازت نامہ — آزاد اجازت نامہ — آزاد اجازت نامہ — ISBN آزاد اجازت نامہ — حوالہ یو آر ایل: آزاد اجازت نامہ — اقتباس: آزاد اجازت نامہ — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
- ↑ Reem Abou-El-Fadl (13 Dec 2018). Foreign Policy as Nation Making: Turkey and Egypt in the Cold War (بزبان انگریزی). Cambridge University Press. pp. 126–127. ISBN:978-1-108-47504-4.
- ↑ Arben Qirezi (2017)۔ "Settling the self-determination dispute in Kosovo"۔ در Leandrit I. Mehmeti؛ Branislav Radeljić (مدیران)۔ Kosovo and Serbia: Contested Options and Shared Consequences۔ University of Pittsburgh Press۔ ص 50۔ ISBN:978-0-8229-8157-2
{{حوالہ کتاب}}: پیرامیٹر|حوالہ=harvدرست نہیں (معاونت)
- 1890ء کی پیدائشیں
- 5 دسمبر کی پیدائشیں
- استنبول میں پیدا ہونے والی شخصیات
- 1966ء کی وفیات
- 28 جون کی وفیات
- استنبول میں وفات پانے والی شخصیات
- استنبول یونیورسٹی کا تدریسی عملہ
- بیسویں صدی کے مؤرخین
- ترک مورخین
- ترک غیر افسانوی مصنفین
- ترکیہ کے نائب وزرائے اعظم
- ترکیہ کے وزرائے خارجہ
- ترکی کے وزرائے دفاع
- شخصیات سلطنت عثمانیہ
- ماہرین ترکیات
- بیسویں صدی کے مصنفین سلطنت عثمانیہ کے مصنفین
- انیسویں حکومت ترکیہ کے ارکان
- بیسویں حکومت ترکیہ کے ارکان
- اکیسویں حکومت ترکیہ کے ارکان
- بائیسویں حکومت ترکیہ کے ارکان
- جامعہ استنبول کے شعبۂ قانون کے فضلا
- ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کے اراکین
- قسطنطنیہ میں پیدا ہونے والی شخصیات
- انقرہ یونیورسٹی کا تدریسی عملہ
- ترکی ماہرین عمرانیات
- استنبول یونیورسٹی کے فضلا
- 1888ء کی پیدائشیں
