محمد قاسم نانوتوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
محمد قاسم نانوتوی

تحریک دیوبند
Jameah Darul Uloom Deoband.jpg

اہم شخصیات

محمد قاسم نانوتوی · رشید احمد گنگوہی
حسین احمد مدنی ·
محمود حسن
شبیر احمد عثمانی ·
اشرف علی تھانوی
انور شاہ کشمیری ·
محمد الیاس کاندھلوی
عبید اللہ سندھی ·
محمد تقی عثمانی

اہم ادارے

دارالعلوم دیوبند، بھارت
مظاہر علوم سہارنپور، بھارت
دار العلوم معین الاسلام، بنگلہ دیش
دار العلوم ندوۃ العلماء، بھارت
دار العلوم کراچی، پاکستان
جامعہ علوم اسلامیہ، پاکستان
جامعہ دار العلوم زاہدان، ایران
دار العلوم لندن, انگلینڈ
دار العلوم نیویارک، ریاستہائے متحدہ
دار العلوم کیناڈا،
مدرسہ انعامیہ، شمالی افریقہ

تحریکیں

تبلیغی جماعت
جمعیت علمائے ہند
جمعیت علمائے اسلام
تحریک ختم نبوت
سپاہ صحابہ
لشکر جھنگوی
طالبان


محمد قاسم نانوتوی (1833ء-1880ء) غیر منقسم ہندوستان کے ایک متبحر عالم، تحریک دیوبند کے سرکردہ قائد اور دار العلوم دیوبند کے بانیان میں سے ہیں۔ قاسم نانوتوی کی پیدائش 1833ء میں بھارت کے شہر سہارنپور کے قریب واقع ایک گاؤں نانوتہ میں ہوئی۔ [1]

تعلیم[ترمیم]

ابتدائی تعلیم اپنے ہی گاؤں میں حاصل کی اور اس کے بعد دیوبند پہنچے، جہاں مولانا مہتاب علی کے مکتب میں داخل ہوئے۔ اس کے بعد سہارنپور میں اپنے نانا سے کے ساتھ قیام پذیر رہے، یہیں مولانا نواز صاحب سے عربی نحو اور صرف کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ 1843ء کے اواخر میں مولانا مملوک علی نانوتوی اپنے ساتھ دلی لے گئے، جہاں کافیہ اور دیگر کتابیں پڑھیں، اور اس کے بعد سالانہ امتحان کے بغیر ہی دلی کالج میں داخلہ لے لیا۔ دلی کالج میں داخلہ لینے سے قبل مولانا مملوک علی نانوتویRAHMAT.PNG سے منطق، فلسفہ اور علم کلام پر متعدد کتابیں پڑھ چکے تھے۔[2]

ذاتی زندگی[ترمیم]

تعلیم کی تکمیل کے بعد محمد قاسم نانوتویRAHMAT.PNG مطبع احمدی میں ادارت کے فرائض انجام دینے لگے۔ دار العلوم دیوبند کے قیام سے قبل چھتہ مسجد میں اقلیدس کا درس دیا کرتے تھے، وہیں چھاپہ خانہ میں مولانا کا درس ہوا کرتا تھا۔ مولانا کے سلسلہ درس کے ذریعہ کئی نامی گرامی علماء پیدا ہوئے۔

1860ء میں حج سے واپسی پر میرٹھ کے مطبع مجتبی میں کتابوں کے نسخوں کا تقابل اور نظر ثانی کا کام شروع کیا۔ 1868ء تک اس مطبع سے وابستہ رہے اس کے بعد دوبارہ حج پر روانہ ہوئے۔ حج سے واپسی پر اسی شہر میں مطبع ہاشمی میں ملازمت اختیار کی۔

قیام مدارس[ترمیم]

مولانا کی سب سے بڑی کامیابی اور زندگی کا روشن ترین پہلو تحریک قیام مدارس ہے۔ اس تحریک نے ہندوستان کے طول وعرض میں دینی علوم کے حوالے سے بیداری کی ایک زبردست لہر برپا کردی جس کے نتیجہ میں سیکڑوں مدارس کا قیام عمل میں آیا اور گویا دینی علوم کی نشأۃ ثانیہ کی داغ بیل پڑگئی۔ مرادآباد، دیوبند اور رامپور کے مدارس اسی تحریک کا نتیجہ تھے۔

وفات[ترمیم]

1880ء میں مولانا قاسم نانوتویRAHMAT.PNG محض 47 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ مولانا کی قبر دار العلوم دیوبند کے شمال میں واقع مقبرہ قاسمی میں موجود ہے۔ اس قبرستان میں کثیر تعداد میں علماء اور مشائخ مدفون ہیں۔

شہر شاملی اب بھی آباد ہے اور صدیوں سے ہے انیسویں صدی کے نصف یعنی ۷۵۸۱ءمیں مڑکر دیکھئے اس انقلابی عہد میں جب پورا ملک جنگ ِ آزادی کے طوفان کی زد میں تھا شاملی بھی اس ولولے کی آگ سے نہ بچ سکا، فرنگی فوج کی اندھاد ھند گولہ باری چل رہی ہے اور ہرسو بندوقوں کی فائرنگ ہورہی ہے اس معرکہ میں ایک محاذ محبانِ وطن کا بھی قائم ہے یہ ایک مختصر سی جماعت دیسی ہتھیاروں اور چند توڑے دار بندوقوں سے توپ خانہ اور برطانوی کی تربیت یافتہ فورس سے سینہ سپر ہے، ہندوستانی جاں بازوں میں اکثر ادھیڑ عمر افراد شامل ہیں مگر ایک پچیس سالہ نوجوان نہایت دلیری اور جوش سے میدان حرب میں مورچے پرڈٹا ہے جس کو آگے چل کر حجة الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی کے نام سے دوامی شہرت وعظمت حاصل ہوئی۔

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]