محمد مرسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد مرسی
(عربی میں: مُحمَّد مُرسي خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Mohamed Morsi-05-2013.jpg 

مناصب
Flag of the President of Egypt.svg صدر مصر   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
30 جون 2012  – 3 جولا‎ئی 2013 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png محمد حسین طنطاوی 
عدلی منصور  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
ناوابستہ ممالک کی تحریک کا جنرل سیکریٹری (27 )   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
30 جون 2012  – 30 اگست 2012 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png محمد حسین طنطاوی 
محمود احمدی نژاد  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 8 اگست 1951  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 17 جون 2019 (68 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
قاہرہ[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات دورۂ قلب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات طبعی موت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Egypt.svg مصر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
عارضہ ذیابیطس (1998–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بیماری (P1050) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ قاہرہ
جامعہ جنوبی کیلیفونیا (–1982)[3]
یو ایس سی وٹربی انجینئرنگ اسکول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
تعلیمی اسناد پی ایچ ڈی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان،  انجینئر،  استاد جامعہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی،  انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت جامعہ زقازیق،  کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی، نارتھ ریج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
Orden Nila rib.gif آرڈر آف دی نیل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
Muhammed Morsi Signature.png 

محمد مرسی (مکمل نام عربی زبان میںمحمد مرسي عيسى العياط، اگست 1951ء – 17 جون 2019ء) مصر کے سیاست دان اور 30 جون 2012ء تا 3 جولائی 2013ء مصر کے پانچویں صدر بھی رہے۔ عبدالفتاح السیسی نے انہیں ایک طویل عوامی مظاہرے کے بعد 2013ء مصری فوجی تاخت کے دوران میں انہیں معزول کر کے قید کر دیا۔[4]۔۔[5] بحیثیت صدر انہوں نے 2012ء میں ایک عبوری آئینی اعلان جاری کیا تھا جس کے تحت انہیں خود مختاری حاصل ہو گئی اور مکمل اختیارات ان کے ہاتھ میں آگئے یہاں تک کہ عدالت کی مداخلت کے بغیر قانون سازی کا حق بھی مل گیا۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

محمد مرسی کی ولادت شمالی مصر کے محافظہ الشرقیہ کے گاوں العدوان میں 8 اگست 1951ء کو ہوئی۔ یہ علاقہ قاہرہ کے شمال میں واقع ہے۔[6] والد کسان تھے اور والدہ امور خانہ داری تک ہی محدود تھیں۔[6] اپنے پانچ بھائیوں میں وہ سب سے بڑے تھے۔ بچپن میں وہ گدھے کی پیٹھ پر سوار ہو کر اسکول جایا کرتے تھے۔[7] 1960ء کی دہائی میں انہوں نے قاہرہ کا رخ کیا 1975ء میں قاہرہ یونیورسٹی سے امتیازی نمبرات سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ مصری افواج کی کیمیکل وارفیئر یونٹ میں انہوں 1975ء تا 1976ء خدمات انجام دیں۔ پھر قاہرہ یونیورسٹی میں داخلہلیا اور 1978ء میں دھات کاری میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔[8][9] ماسٹر کی ڈگری لینے کے بعد انہیں ریاستہائے متحدہ امریکا میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے وظیفہ مل گیا۔ انہوں نے سال 1982ء میں یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا سے اموادی علم میں علامہ فلسفہ حاصل کیا۔ ان کا تخصص ایلومینا (Al2O3) پر تھا۔[10][11]

انجینئری زندگی[ترمیم]

1982ء تا 1985ء وہ کیلی فورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر رہے۔ انہوں نے 1980ء کی دہائی کے اوائل میں ناسا میں بھی کام کیا۔ وہاں وہ خلائی شٹل کے انجن کو ڈولپ کرنے والی ٹیم کا حصہ تھے۔ وہ دھات کی سطح کو پہچاننے کی مہارت رکھتے تھے۔[12][13] 1985ء میں مرسی امریکا کی اپنی تمام مصروفیات کو چھوڑ کر مصر آگئے اور جامعة الزقازيق میں پروفیسر مقرر ہو گئے۔ بعد ازاں وہ شعبہ انجیئرنگ کے صدر مقرر ہوئے۔ وہ 2010ء تک جامعة الزقازيق میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔[13]

سیاسی سفر[ترمیم]

سال 2000ء میں مصر کی پارلیمان میں ان کا انتخاب ہوا۔[14] اور 2000ء تا 2005ء وہ ایک آزاد رکن کی حیثیت سے پارلیمان کے رکن رہے کیونکہ حسنی مبارک کے عہد میں اخوان المسلمین کو انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی تھی۔[15] ان کا تعلق اخوان المسلمین سے تھا مگر اخوان الیکشن لڑنے اہل نہیں تھی لہذا انہوں نے 2011ء میں فریڈم انیڈ جسٹس پارٹی کی بنیاد رکھی۔[16] اس نئی پارٹی کے وہی صدر مقرر ہوئے۔ 2010ء میں انہوں نے کہا کہ “دو قومی نظریہ ایک فریب ہے جس کا وہی نتیجہ ہونے والا ہے جو فلسطین کا ہوا ہے۔‘‘[17] مرسی نے سانحہ ستمبر 2001ء کو “معصوم عوام کے خاف ایک سنگین جرم“ قرار دیا تھا۔ تاہم انہوں نے امریکا پر الزام لگایا کہ اسی نے حملہ کی سازش رچی ہے اور اس کا مقصد افغانستان اور عراق پر حملہ کا جواز ثابت کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ حملہ آور مسلمان تھے۔[18] ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر طیاروں کے حملہ سے نہیں گرا تھا بلکہ عمارت کے اندر سے کچھ ہوا جس کی وجہ عمارت مندہم ہو گئی۔ ایسا نظریہ رکھنے والے مرسی تنہا نہیں تھے نلکہ اکثر مصریوں کا یہی ماننا ہے حتی آزاد خیال مصرہ بھی اسی نظرئے کے قائل ہیں۔[19] ریاستہائے متحدہ امریکا میں ان کے ان تبصروں کی پرزور مخالفت ہوئی۔ [20]

2011ء میں حراست[ترمیم]

28 جنوری 2011ء کو مرسی اور اخوان کے 24 دیگر ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ [21] دو دن بعد وہ قاہرہ سے فرار ہو گئے۔ وادی نطرون قید خانہ کو توڑنے اور اس سے فرار ہونے کی خبر مصری میڈیا میں خوب پھیلی اور چند گھنٹوں میں پورے مصر میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی۔[22] کچھ صحافیوں کا دعوی تھا کہ مصری تحریک کے ہجوم میں اخوانی سیاسی قیدی فوج کو چکمہ دینے میں کامیاب رہے تھے اور انہیں قید ہی نہیں کیا گیا تھا۔[23][24] چار برس بعد جیل توڑنے کے جرم میں ان کے ساتھ 105 دیگر لوگوں پو سنوائی ہوئی اور 16 مئی 2015ء میں انہیں سزائے موت دی گئی۔[25]

2012ء مصری صدارتی مہم[ترمیم]

2012ء میں محمد خيرت سعد الشاطر کو صدارتی امیدوار کے لیے نا اہل قرار دے دیا گیا۔ محمد مرسی کو اخوانیوں نے محفوظ امیدوار کے طور پر کھڑا کیا۔[26] مرسی کی امیدواری کو مشہور مصری عالم دین صفوت حجازی کی تائید بھی حاصل رہی۔ [27][28] انتخابات کے پہلے دور میں انہیں 25.5 ووٹ ملے اوراپنے مخالف امیدوار سے آگے رہے[29] ان کے ہزاروں حمایتوں نے تحریر چوک پر حشن منایا۔ 24 جون 2012ء کو مرسی کو 51.73 فیصد کے ساتھ فاتح قرار دیا گیا۔[30] نتائج کے اعلان کے معا بعد انہوں فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کی صدارت سے استعفی دے دیا۔[31]

عقائد[ترمیم]

حکومت بدلنے پر[ترمیم]

مجھے امید ہے کہ عوام مجھے منتخب کرے گی، میں اخوان المسلمون اور فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کا ایک اسلام پسند امیدوار ہوں۔ اور اللہ کی مرضی ہے کہ اب یہ نظام ترقی اور استقامت کی طرف گامزن ہو۔

مرسی نے کہا کہ “قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے“۔ لیکن فوج کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا فوج کا بجٹ پارلیمان طے کرے گی مگر اسے صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔[32] انہوں نے آئین مصر کا تعظیم کرنے کا عہد کیا اور کہا کہ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی اپنے نظریات عوام پر نہیں تھوپے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصری عوام ایک سماج میں رہنا چاہ رہی تھی جہاں مساوات ہو۔[33] انہوں نے مزید کہا کہ2011ء کی تحریک ایک اسلامی تحریک ہے جو مشرق وسطی میں امت اسلامیہ میں کو بیدار کرے گی۔[34]

اسلامی سماج اور مصر کی غیر مسلم عوام[ترمیم]

مرسی نے کہا کہ “قبطی مسیحی میری ہی طرح مصر کی عوام ہیں اور ان کے بھی اتنے ہی حقوق ہیں جتنے کسی اور مصری کے ہیں“ انہوں نے کہا کہ اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کی آزادی اللہ کی دین ہے اور شریعت اسلامیہ مسلمان کو حکم دیتی ہے کہ غیر مسلم کے عقائد و نظریات کی بھی تعظیم کی جائے۔[35]

صدر مصر[ترمیم]

30 جون 2012ء کو محمد مرسی مصر کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر بنے۔[36] انہوں نے حسنی مبارک کی جانیشنی کی جنہیں 11 فروری 2011ء کو استعفی دینا پڑا تھا۔[37][38][39]

داخلہ پالیسی[ترمیم]

10 جولائی 2012ء کو مرسی نے مصری پارلیمان کو پرانی حالت پر واپس لا دیا اور اسی وجہ سے ان کے اور فوج کے درمیان میں ایک خلیج قائم ہو گئی کیونکہ پرانی پارلیمان کو فوج کے تحلیل کر دیا تھا۔ مرسی نے نئے آئین مصر کو نئے سرے سے ترمیم کرنے کی کوشش کی جس میں شہری حقوق کا خیال رکھا گیا ہو اور شریعت کا رنگ غالب ہو۔[40]

ذاتی زندگی[ترمیم]

مرسی کی شادی 1979ء میں ان کی ش ایک رشتے دار نجلا علی محمود سے ہوئی۔ [41] انہوں نے اعلان کیا کہ انہیں “فرسٹ لیڈی“ نہ کہا جائے۔[42] مرسی کی پانچ اولادیں ہوئیں: [43] احمد محمد مرسی، وہ سعودی عرب میں ڈاکٹر ہیں؛ شائمہ، جامعہ زقازیق سے گریجویٹ ہیں؛ اوسامہ، اٹارنی ہیں؛ عمر، جامعہ زقازیق سے گریجویٹ ہیں؛ اور عبد اللہ، ہائی اسکول کے طالبعلم ہیں۔[44] مرسی کی دو اولادیں کیلیفورنیا میں پیدا ہوئیں اور ان کے پاس ریاستہائے متحدہ امریکا کی شہریت ہے۔[45] ان کی پاکستان آمد پر انہیں 18 مارچ 2013ء کو دنیا میں امن و سکون کی راہ ہموار کرنے اور مسلم ممالک بالخصوص پاکستان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں ان کی کاوشوں کے عوض انہیں اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سے اعزازی پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا گیا۔[46][47]

وفات[ترمیم]

17 جون 2019ء کو اچانک میڈیا میں خبر نشر ہوئی کہ قاہرہ میں عدالت میں سنوائی کے دوران مرسی اچانک گرگئے اور میڈیکل رپورٹ کے مطابق دورہ قلب کی وجہ سے ان کی موت ہو گئی۔[48][49][50] انہیں اخوان المسلمون کے دیگر قائدین کے پاس قاہرہ میں دفن کیا گیا۔[51] مصری حکومت کے ناقدین نے مرسی کی وجات کی وجہ ان کی سنوائی کو بتایا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ مرسی سنوائی میں کھڑے ہونے کے قابل نہیں تھے۔ اخوان المسلمون کے ایک بڑے رہنما محمد سودان نے کہا کہ ان کی موت دراصل قبل از وقت قتل ہے۔[52] کرپسن بلنٹ، جنہوں نے برطانوی پارلیمان میں مرسی کی حات اور سنوائی کو لے کر ایک پینل کی قیادت کی تھی، کہا “ہمیں خدشہ تھا ڈاکٹر محمد مرسی کو اگر بروقت بطی مدد نہ دی گئی تو ان کی صحت ہمیشہ کے لیے جواب دے جائے گی، ہمیں افسوس ہے کہ ہم صحیح ثابت ہوئے۔“[53] ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے مصری حکومت کو مرسی کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور انہیں شہید کہا ہے۔[54] استنبول میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ بھی پڑھی گئی۔[55]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Meghalt a bíróságon az előző egyiptomi elnök, Mohamed Murszi — شائع شدہ از: 17 جون 2019
  2. https://www.bbc.com/news/world-middle-east-48668941
  3. ProQuest document ID: https://search.proquest.com/docview/303079427
  4. "Egypt's army chief Abdel Fattah al-Sisi receives a promotion ahead of likely presidency bid"۔ Australian Broadcasting corporation۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 مئی 2015۔
  5. Muslim Brotherhood's candidate and first president after Mobarak
  6. ^ ا ب "Profile: Egyptian presidential frontrunner Mohamed Mursi"۔ Asharq Alawsat۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 اپریل 2013۔
  7. "Muhammad Morsi: An ordinary man"۔ The Economist۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 نومبر 2012۔
  8. "Who is Mohamed Morsi? - Presidential elections news – Presidential elections 2012 – Ahram Online"۔ ahram.org.eg۔
  9. CNN Library۔ "Mohamed Morsy Fast Facts"۔ CNN۔
  10. David Matthews۔ "Academic-turned-politician aims to fix engine of state"۔ The Times of Higher Education۔ مورخہ 13 اگست 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 اگست 2012۔
  11. Alexis Driggs۔ "Egyptians elect USC alumnus"۔ Daily Trojan۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 ستمبر 2012۔
  12. Mertz, Ed۔ "Egyptian President-Elect Has Ties To USC, CSUN"۔ KNX (CBS News)۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 جولائی 2013۔
  13. ^ ا ب Katherine Jane O'Neill۔ "How Morsi's English 'destroyed' his US students"۔ Saudi Gazette۔ مورخہ 1 اکتوبر 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  14. Mayy El Sheikh؛ David D Kirkpatrick۔ "Egypt's Everywoman Finds Her Place is in the Presidential Palace"۔ The New York Times۔ مورخہ 12 اگست 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 اگست 2012۔
  15. Yolande Knell۔ "Egypt president: Muslim Brotherhood's Mohammed Mursi"۔ BBC News۔ مورخہ 12 اگست 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 اگست 2012۔
  16. "Egypt's Muslim Brotherhood selects hawkish leaders"۔ Egypt Independent۔ مورخہ 31 مئی 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 دسمبر 2011۔
  17. "Morsy calls for a national uprising to save Al-Aqsa Mosque"۔ Ikhwan Web۔
  18. Ben Birmbaum۔ "Top Egyptian presidential candidate doubts al Qaeda role in 9/11"۔ The Washington Times۔
  19. Shadi Hamid۔ "Brother Number One"۔ Foreign Policy۔
  20. Robert Satloff؛ Eric Trager۔ "Getting Egypt's Morsi to give up his 9/11 'truther' talk"۔ The Washington Post۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 ستمبر 2012۔
  21. "Mohamed Morsi – Meet the candidates – Presidential elections 2012 – Ahram Online"۔ ahram.org.eg۔
  22. Reuters۔ "Egypt Muslim Brotherhood says 34 key members escape prison"۔ Reuters۔
  23. Simon Tisdall۔ "Egypt protests: Cairo prison break prompts fear of fundamentalism"۔ The Guardian۔ London۔
  24. Molly Hennessy-Fiske۔ "Egypt: Muslim Brotherhood members escape prison, rally in Tahrir Square"۔ Los Angeles Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 ستمبر 2017۔
  25. "Update: Morsi, Badie sentenced to death in "prison break case""۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 مئی 2015۔
  26. "Egypt Brotherhood candidate: army wants to retain power"۔ Al Akhbar۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 اگست 2012۔
  27. "Dr. Morsi Presidential Campaign Kickoff in Mahalla Al-Kubra on مئی Day" (full coverage)۔ اخوان المسلمون۔
  28. Perry, Tom. Newsmaker: Egypt's Morsy goes from prisoner to president۔ MSNBC۔ Original published by Reuters۔ 24 جون 2012.
  29. David D. Kirkpatrick۔ "Mohamed Morsi of Muslim Brotherhood Declared as Egypt's President"۔ The New York Times (انگریزی زبان میں)۔ ISSN 0362-4331۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-06-21۔
  30. "Muslim Brotherhood's Mursi declared Egypt president"۔ BBC News۔ مورخہ 13 اگست 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 اگست 2012۔
  31. Yasmine Fathi۔ "Brotherhood campaigners elated as Mursi is named Egypt's next president"۔ Al Ahram۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 اگست 2012۔
  32. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ reuters.com نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  33. An interview with the MB's Mohamed Morsi by Issandr El Amrani. The Arabist, مئی 2011
  34. Egyptian presidency denies Morsi gave interview on stronger ties with Iran. نسخہ محفوظہ 22 فروری 2014 در وے بیک مشین Al Arabiya, جون 2012
  35. with Dr. Mohammed Morsy, president of Egypt's 'Freedom and Justice' party.[مردہ ربط] France 24. Retrieved مئی 2011.
  36. "Mohamed Morsi sworn in as Egypt's first popularly-elected president"۔ CNN۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 جون 2012۔
  37. Conal Urquhart۔ "Mohamed Morsi sworn in as Egyptian president"۔ دی گارڈین۔ London۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 جولائی 2012۔
  38. Hamza Hendawi۔ "Egypt votes for president to succeed Mubarak"۔ گوگل۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 جولائی 2012۔
  39. with Dr. Mohammed Morsy, president of Egypt's 'Freedom and Justice' party.[مردہ ربط] France 24. Retrieved مئی 2011.
  40. Jeffrey Fleishman۔ "Egypt's Mohammed Morsi moves into Mubarak's presidential office, meets with military"۔ ٹورانٹو اسٹار۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 اگست 2012۔
  41. Mayy El Sheikh۔ "Egypt's Everywoman Finds Her Place is In The Presidential Palace"۔ The New York Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2012۔
  42. Aya Batrawy۔ "Morsi's wife prefers 'first servant' to first lady"۔ The Globe and Mail۔ Toronto۔ مورخہ 2 جولائی 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 جولائی 2012۔
  43. "Egyptian president's son is Saudi-based urologist"۔ Asharq Alawsat۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 اپریل 2013۔
  44. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ AA276 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  45. Tom Perry۔ "Newsmaker: Egypt's Morsy goes from prisoner to president"۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 اگست 2012۔
  46. "NUST awards honourary doctorate degree to Egyptian President Mohamed Morsi"۔ مورخہ 22 فروری 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 مارچ 2013۔
  47. "Morsi gets an honourary doctorate"۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 مارچ 2013۔
  48. "Former Egyptian president Morsi dies during court hearing"۔ The Jerusalem Post۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 جون 2019۔
  49. "Egypt's ousted president Mohammed Morsi dies in court"۔ BBC News۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 جون 2019۔
  50. "Egypt's former president Mohamed Morsi dies: state media"۔ Al Jazeera۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 جون 2019۔
  51. "Former Egyptian president Mursi buried in Cairo, son says"۔ The Reuters۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 جون 2019۔
  52. Samy Magdy۔ "Egypt's ousted president Morsi dies in court during trial"۔ Associated Press۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 جون 2019۔
  53. Declan Walsh؛ David D. Kirkpatrick۔ "Mohamed Morsi, Egypt's First Democratically Elected President, Dies"۔ The New York Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 جون 2019۔
  54. "Egypt's Mohammed Morsi: Ex-leader buried after court death"۔ BBC News۔
  55. Clémence Barral۔ "À Istanbul, des milliers de personnes prient à la mémoire de Morsi"۔ www.lefigaro.fr (فرانسیسی زبان میں)۔