محمد مسعود احمد نقشبندی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مسعود ملت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی(1429ھ/2008ء) دنیائے علم و فن کی نام ور شخصیت کا نام ہے۔ جو مسعود ملت کے نام سے معروف ہیں جن کے علم و فضل اور تحقیقاتِ علمیہ کا لوہا نہ صرف برّ ِ صغیر ہند و پاک نے مانا ہے بلکہ آپ کے محاسن کا چرچا بلادِ یورپ و امریکا اورافریقا وغی رہا ممالک میں ہو رہا ہے

علمی خدمات[ترمیم]

آپ کی علمی و دینی خدمات کا دائرہ بڑا ہی وسیع ہے۔... بالخصوص مجددین اسلام(مجدد الف ثانی و امام احمد رضامحدث بریلوی) پرآپ کے علمی کارنامے قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔... امام احمد رضا کی ہمہ پہلو شخصیت پر ہونے والے بیش تر علمی وتحقیقی کام(پی۔ ایچ۔ ڈی وایم۔ فل)آپ کے ہی مرہونِ منت ہیں۔... آپ نے مطالعہ رضویات کو بین الااقوامی دانش گاہوں تک پہنچایا یہی وجہ ہے کہ آپ کو ’ماہرِ رضویات‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔... آپ تا حیات دین متین کی خدمت انجام دیتے رہے مگر کبھی اسے ذریعہ معاش نہیں بنایا۔...آپ کی درجنوں تصانیف کئی ملکوں سے مستقل شائع ہو رہی ہیں۔...جو ہمہ جہت موضوعات کو محیط ہیں، جن میں قرآنیات، سیرت، سائنس،اصلاح، مجددیات،رضویات اور تصوف شامل ہیں۔...آپ عصری دانش گاہوں کے اعلیٰ مناصب پر فائز رہے۔[1]

ماہر رضویات[ترمیم]

امام احمد رضا خان پر پوری اسلامی دنیا میں تحقیقی کام جاری ہے۔ اعلیٰ حضرت کے علمی کارناموں کو سراہا جا رہا ہے۔ جن بڑی بڑی شخصیات نے اعلیٰ حضرت جیسی پاکیزہ ہستی پر قلم اٹھایا ہے‘ ان میں ایک نام ڈاکٹر مسعود احمد کا ہے‘ ڈاکٹر مسعود احمد ایک معروف علمی شخصیت ہیں۔ آپ نے اعلیٰ حضرت پر جوآج تک تحقیقی کتب تصنیف فرمائی ہیں تو اس سے پوری دنیا حضرت مسعود ملت کی علمی و روحانی قدرومنزلت کی معترف ہے [2] آپ نے عظیم کام سر انجام دے کر علم و فضل اور نور و نکہت کی تاریخ رقم فرمائی ہے۔ آپ نے اپنی زندگی کا پیشتر حصہ دینی و علمی تحقیقات میں گزارا ہے۔

حالات زندگی[ترمیم]

آپ 1348ھ/11930ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ آپ نے جس ماحول میں آنکھ کھولی وہاں کا محور فکر قرآنی تعلیمات تھا۔ آپ دہلی کے ممتاز عالم دین اور روحانی پیشوا مفتی اعظم شاہ محمد مظہر اﷲ کے فرزند رشید ہیں۔ آپ کے والد ماجد بے مثل عارف و عالم اور فقیہ و مفتی تھے اور مسجد فتح پوری کے امام و خطیب تھے۔ آپ کا خاندان علما و مشائخ سے تعلق رکھتا تھا۔ حضرت مسعود ملت نے قرآن حکیم کی تعلیم‘ درس نظامیہ کی بعض کتابیں اپنے والد ماجد سے پڑھیں۔ اس کے بعد مدرسہ عالیہ مسجد فتح پوری دہلی اور اورینٹل کالج‘ مسجد فتح پوری‘ دہلی میں آٹھ سال پڑھا۔ آپ کو سلسلہ عالیہ نقشبندیہ اور قادریہ میں اجازت و خلافت حاصل ہے۔ آپ نے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں اپنے والد ماجد سے بیعت کی ہے۔ آپ نے ایم اے سندھ یونیورسٹی (حیدرآباد) سے کیا اور پی ایچ ڈی کی ڈگری سندھ یونیورسٹی (جام شورو پاکستان) سے حاصل کی۔

علمی سفر[ترمیم]

مسعود ملت نے اپنے سفرنگارش کاآغاز 1951ء میں کیا۔ جب آپ نے اسلام کی تعلیمات پر مبنی ایک انگریزی کتاب (Islam at the Cross Road) کے چند ابواب کا ترجمہ کیا جس کا عنوان ’’اسلام دوراہے پر‘‘ تھا۔ 1958ء میں آپ کو سندھ یونیورسٹی حیدرآباد کی جانب سے تمام امتحانات میں اول آنے پر گولڈ میڈل دیا گیا۔ آپ 1958ء سے 1966ء تک لیکچرار کے عہدے پر فائز رہے۔ 1966ء سے 1974ء تک اسسٹنٹ پروفیسر رہے اور 1974ء سے 1992ء تک پروفیسر اور پرنسپل کے فرائض سر انجام دیے۔ آپ کے استاد پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفی خان نے ڈاکٹریٹ کے لیے یہ عنوان تجویز کیا ’’اردو میں قرآنی تراجم و تفاسیر… ایک تاریخی جائزہ‘‘ 1971ء میں آپ کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملی… اس سے قبل 1963ء میں سندھ یونیورسٹی حیدرآباد سندھ میں منعقدہ ’’آل پاکستان اسلامک اسٹیڈیز‘‘ کانفرنس میں شرکت کی اور وہیں بارہویں صدی کے اردو قرآنی تراجم کے موضوع پر مقالہ پڑھا۔

تحقیقی کام[ترمیم]

آپ نے 1970ء میں امام احمد رضا خان پر تحقیقی کام کا آغاز فرمایا اور امام صاحب کے سیاسی افکار پر پہلی کتاب ’’فاضل بریلوی اور ترک موالاۃ‘‘ لکھی جو 1971ء میں لاہور سے شائع ہوئی۔ دوسری کتاب ’’فاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں‘‘ مرتب فرمائی جو 1973ء میں لاہور سے شائع ہوئی۔ اس کے بعد علمی تحقیقات کا ایک وسیع سلسلہ شروع ہو گیا۔ آپ نے امام صاحب کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا۔ اب تک امام احمد رضا پر 30 سے زائد تصانیف اور 70 سے زائد تحقیقی مقالات و مضامین چھپ چکے ہیں۔ آپ ممبر بورڈ آف اسٹیڈیز شعبہ اردو سندھ یونیورسٹی کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔ اس کے علاوہ آپ شعبہ اردو، شاہ عبد اللطیف یونیورسٹی، خیرپور (سندھ) اور شعبہ علوم اسلامیہ، کراچی یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ریسرچ بھی رہے۔ 1990ء میں ایڈیشنل سیکریٹری وزارت تعلیم حکومت سندھ مقرر ہوئے۔ آپ کی علمی خدمات کو سراہتے ہوئے آپ کو پاکستان اینٹی لیکچوئل فورم کی جانب سے گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ 1993ء میں صدر پاکستان کی جانب سے نشان اعزاز فضیلت عطا کیا گیا۔ آپ ادارہ تحقیقات امام احمد رضا‘ کراچی کے سرپرست اعلیٰ رہے۔ ادارہ نے آپ کی علمی کاوشوں کو مدنظر رکھتے ہوئے 1991ء میں آپ کو طلائی تمغے سے نوازا۔[3] آپ کی تحقیقات ہر مکتب فکر کے علما میں اچھی نظر سے دیکھی جاتی ہیں۔ (جن کی تعداد 600 سے زائد ہے) آپ نے دوسرے موضوعات کے علاوہ امام احمد رضا خان کو تحقیقی موضوع بنایا ہے لیکن 1992ء سے مسلک اہل سنت و جماعت پر آپ کی تحقیقی کاوشیں اور رسائل و کتب، عربی، اردو، انگریزی، ہندی وغیرہ میں ترجمہ ہو کر شائع ہوئے ہیں۔

تصنیفات[ترمیم]

  1. فاضل بریلوی اور ترک موالاۃ، مطبوعہ 1971ء
  2. فاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں، مطبوعہ 1973ء
  3. عاشق رسول، مطبوعہ 1976ء
  4. حیات فاضل بریلوی، مطبوعہ1987ء
  5. مولانا احمد رضا خان بحیثیت سیاست دان، مطبوعہ 1979ء
  6. مولانا احمد رضا خان بریلوی، مطبوعہ 1979ء
  7. گناہ بے گناہی، مطبوعہ 1981ء
  8. اکرام امام احمد رضا خان، مطبوعہ 1981ء
  9. امام اہل سنت‘ لاہور، مطبوعہ 1981ء
  10. اجالا، 1983ء
  11. امام احمد رضا خان اور عالم اسلام، مطبوعہ 1983ء
  12. امام احمد رضا خان اور حرکت زمین، مطبوعہ 1984ء
  13. دائرۃ معارف امام احمد رضا، مطبوعہ 1984ء
  14. حیات امام اہل سنت، مطبوعہ 1984ء
  15. رہبر و رہنما، مطبوعہ1987ء
  16. حیات امام احمد رضا بریلوی، مطبوعہ1987ء
  17. تنقیدات و تعاقبات امام احمد رضا، لاہور مطبوعہ 1988ء
  18. غریبوں کے غم خوار، مطبوعہ 1990ء
  19. سرتاج الفقہاء، مطبوعہ 1990ء
  20. امام احمد رضا خان اور علوم جدیدہ و قدیمہ، مطبوعہ 1990ء
  21. گویا دبستان کھل گیا، مطبوعہ 1991ء
  22. امام احمد رضا اور عالمی جامعات، مطبوعہ 1991ء
  23. امام احمد رضا محدث بریلوی، مطبوعہ 1992ء
  24. عشق ہی عشق‘ لاہور، مطبوعہ 1993ء
  25. ارمغان رضا‘ کراچی، مطبوعہ1994ء
  26. انتخاب حدائق بخشش‘ کراچی، مطبوعہ 1995ء
  27. آئینہ رضویات 3 مجلدات‘ کراچی، مطبوعہ 1989ء۔1996ء
  28. خلفائے اعلیٰ حضرت‘ لاہور، مطبوعہ 1996ء
  29. خوب و ناخوب (اردو‘ فارسی)، مطبوعہ 1999ء
  30. مکتوبات مسعودی (بابت امام احمد رضا) لاہور، مطبوعہ 1999ء

انگریزی مقالات[ترمیم]

  1. The Neglected Genius of the East‘مطبوعہ لاہور 1987ء
  2. مولانا شاہ احمد رضا خان‘ماہنامہ دی میسج انٹرنیشنل 1987ء کراچی
  3. ماہ و سال مجلہ معارف رضا 1988ء‘ کراچی
  4. کرونیکل آن امام ا حمد رضا مجلہ معارف رضا 1995ء کراچی
  5. The Reformer of Muslim کراچی مطبوعہ 1995ء

مقالات برائے انسائیکلو پیڈیا[ترمیم]

  1. رضا بریلوی برائے انسائیکلو پیڈیا آف اسلام‘ جلد دہم‘ پنجاب یونیورسٹی 1975ء
  2. رضا بریلوی برائے شاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا
  3. احمد رضا خان برائے انسائیکلو پیڈیا آف اسلام 1982ء
  4. احمد رضا خان برائے انسائیکلوپیڈیا اسلامیکا فائونڈیشن 1995ء، تہران،‘ ایران
  5. احمد رضا خان برائے مجمع الملکی لبحوث الحضارۃ الاسلامیہ 1990ء، عمان، اردن

اس کے علاوہ صرف امام احمد رضا سے متعلق تصانیف و مقالات کے عربی ‘ فارسی‘ ہندی‘ فرانسیسی‘ گجراتی‘ بنگلہ وغیرہ میں تراجم کی تعداد 25 سے زیادہ ہے‘ اخبارات و رسائل کے لیے امام احمد رضا پر 115 مضامین و مقالات تحریر فرمائے۔ بے شمار تقدیمات بھی آپ کے علمی گوہر کا پیغام دیتی ہیں۔ حضرت مسعود ملت نے مجدد اسلام کی دینی و علمی کاوشوں کو نیا رنگ و روپ دیا ہے۔ حرف آخر کے طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت مسعود ملت نے اعلیٰ حضرت کے موضوع پر تحریر فرما کر آنے والی نسلوں کے لیے راہ ہموار کی ہے۔ آپ کی دینی وعلمی خدمات کو ہمیشہ اہل علم و قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے رہیں گے۔ آپ علیہ الرحمہ کا مزار شریف ماڈل کالونی قبرستان میں مرجع خلائق ہے۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Other/Miscellaneous Articles : Hamariweb.com - مسعود ملت علیہ الرحمہ کے اقوال زریں
  2. محمد عبد الستار طاہر (لاہور) ،مسعود ملت اور رضویات‘ لاہور 1994ء
  3. ڈاکٹر اعجاز انجم لطیفی ،بعنوان ’’پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد کی نثری خدمات‘‘ بہادر‘بہار یونیورسٹی مظفر پور‘ انڈیا سے ڈاکٹریٹ کیا ہے۔
  4. محمد عبد الستار طاہر (لاہور) نے یہ جلد اور مسعود ملت کے دیگر مکتوبات تین چار جلدوں میں مرتب کیے ہیں