محمد مقتدیٰ امکنگی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خواجہ محمد مقتدیٰ امکنگیسلسلہ نقشبندیہ کے معتبر اکابرین میں شمار کیے جاتے ہیں۔

نام[ترمیم]

آپ کا اسم گرامی محمد مقتدیٰ المعروف خواجگی ہے جس کے معنی منسوب بہ خواجہ کے ہیں۔ انہیں خواجہ امکنگی حضرت بھی کہا جاتا ہے۔

ولادت[ترمیم]

قطب عالم خواجہ درویش محمد کے گھر بخارا کے قریب امکنہ نامی گاؤں میں 918ھ بمطابق 1512ء یا 1513ء میں پیدا ہوئے اسی نسبت کی وجہ سے امکنگی کہلاتے ہیں۔

والد صاحب کا خواب[ترمیم]

قطب عالم خواجہ درویش محمدنے خواب دیکھا کہ نبی کریم رؤف رحیم ﷺ رونق افروز ہیں اور آپ نے اپنی آغوش مبارک میں ایک بچے کو لیا ہوا ہے۔ اور یہ دیکھ کر انہیں انتہائی خوشی ہوئی کہ وہ بچہ ان کا اپنا فرزند محمد مقتدیٰ ہے۔ اسی سرشاری میں ان کی آنکھ کھل گئی۔ لیکن یہ خواب دیکھنے کے بعد اپنے لخت جگر نور نظر پر نظرِ رحمت و شفقت بہت زیادہ کردی اور ان کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ تیس برس تک اپنے والد ماجد کے مسند مشیخیت پر جلوہ افروز رہے۔

ظاہری و باطنی علوم[ترمیم]

ظاہری باطنی علوم اپنے والد محترم سے حاصل کیے۔ سیر و سلوک کی تکمیل پر ان کو خرقۂ خلافت سے بھی سرفراز فرمایا۔ وصال کے بعد مسند نشین ہوئے اور خوب دین کی تبلیغ کی اور آپ شریعت و سنت کے نیز طریقہ عالیہ نقشبندیہ کے اصول و ضوابط کے سخت پابند تھے۔ باوجود انتہائی بڑھاپے کی مہمانوں کی خدمت اپنے ہاتھ سے کرتے خود کھانا لاتے علما ء و فضلا امراءو فقراء آپ سے استفادہ واستفاضہ کے لیے حاضر ہوتے عبد اللہ خان والئی توران اکثر خدمت میں حاضر ہوتے۔ آپ فرماتے کرامت کا کوئی اعتبار نہیں اللہ والوں کے پاس خالصۃ لوجہ اللہ آنا چاہئیے۔ تاکہ ان کے باطن سے حصہ ملے۔[1]

زہد و تقویٰ[ترمیم]

آپ کے والد ماجد اپنے زمانے کے اولیائے کاملین میں سے تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ نہایت بزرگ خاتون تھیں۔ جب والدین صاحبِ تقویٰ ہوں اور مقربین بارگاہ الٰہی بھی ہوں تو اولاد پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آپ کی طبیعت مبارک میں انتہا درجہ کی انکسار تھی، چنانچہ آپ کے بڑھاپے کے زمانہ میں ایک شخص نے عرض کیا کہ حضور مسجد بلندی پر واقع ہے اور آپ کا گھر کافی نیچے ہے، کمزوری کے باعث آنے جانے میں کافی تکلیف ہوتی ہے، اس لیے زیادہ بہتر ہوگا کہ آپ نماز عصر، مغرب و عشاء پڑھ کر ایک ہی بار واپس جایا کریں۔ جواب میں ارشاد فرمایا جیسی نمازیں ہم پڑھتے ہیں ان میں بس مسجد میں آنا جانا ہی تو کام ہے، باقی ہماری نمازوں میں کیا رکھا ہے۔ ایک طرف آپ کے اوپر دید قصور کا اس قدر غلبہ اور دوسری طرف خداداد مقبولیت کا یہ عالم کہ والی توران عبید اللہ خان ہر روز صبح کے وقت قدم بوسی کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا۔ برصغیر پاک و ہند خواجہ امکنگی کے ممنون و مشکور ہیں کہ آپ نے اپنے خلیفہ محمد باقی باللہ کو یہاں بھیج کر طریقہ عالیہ نقشبندیہ سے یہاں کے عوام و خواص کو فیضیاب کر دیا۔

طریقہ نقشبندیہ[ترمیم]

خواجہ خواجگان بہاؤالدین نقشبندکے اصل طریقہ نقشبندیہ کی بڑی سختی سے پابندی فرماتے تھے۔ اس طریقہ میں جو نئی باتیں پیدا ہو گئی تھیں، مثلا ذکر بالجہر، اذان و جماعتِ تہجد وغیرہ ان سے پرہیز فرماتے۔ آپ عزیمت کے بڑے پابند تھے اور آپ کی کوئی خانقاہ نہ تھی۔ آپ کو انتہا درجہ کی تمکین حاصل تھی۔ آپ کی مجلس میں رقص و سماع کی گنجائش نہ تھی۔ ایک مرتبہ بعض مخلصین نے درخواست کی کہ کیا حرج ہے اگر آپ کی مبارک مجلس میں مثنوی مولانا روم پڑھی جائے۔ اپ نے ارشاد فرمایا کہ مشکوۃ شریف کی چند حدیثیں پڑھی جایا کریں، بلاشبہ احادیث کا پڑھا جانا زیادہ بہتر ہے۔

وصال[ترمیم]

تقریباً نوے سال کی عمر میں 22 شعبان 1008ھ بمطابق 1600ء میں انتقال فرمایا۔ آپکا مزار شریف بخارا سے تین میل کے فاصلے پر امکنہ میں زیارتگاہ خاص و عام ہے۔۔[2][3][4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. خزینہ معرفت،محمد ابراہیم قصوری،صفحہ 85،پروگریسو بک لاہور
  2. تذکرہ مشائخ نقشبندیہ نور بخش توکلی صفحہ214 تا217 ناشر مشتاق بک کارنر لاہور
  3. http://www.naqshbandia.info/naqshbandia_sardaria/urdu.htm
  4. حضرت خواجہ محمد امکنگی۔ سلسلہ نقشبندیہ