محمد ناظم ندوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

محمد ناظم ندوی  (1333ھ - 1421ھ / 1914ء - 2000ء) ایک عالم دین، عربی زبان کے ادیب اور شاعر  تھے۔

پیدائش[ترمیم]

بھارت کے صوبہ بہار کے بہار شریف موضع علی نگر میں دسمبر 1913ء کو پیدا ہوئے۔

تعلیم[ترمیم]

1926ء میں ان کا داخلہ مدرسہ عزیزیہ بہار میں ہوگیا۔ یہاں ان کی مولانا مسعود عالم ندوی مرحوم سے ملاقات اور دوستی ہوئی جو مولانا مسعود عالم ندوی کے انتقال تک برابر ترقی کرتی رہی۔جولائی 1929ء میں مولانا ناظم صاحب کا داخلہ برصغیر کے عظیم علمی، دینی و تعلیمی ادارے دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں فضیلت کے دوسرے سال میں ہوا۔ ندوہ آنے کا باعث مولانا مسعود عالم بنے جو مولانا ناظم صاحب سے قبل وہاں 1928ء میں پہنچ چکے تھے۔ یہی وہ سال ہے جب مولانا ناظم صاحب کا پہلی بار مولانا ابوالحسن علی ندوی سے تعارف ہوا۔ یہاں مولانا سید سلیمان ندوی ؒ ہی کے کہنے پر مولانا ناظم صاحب نے ’’خطباتِ مدراس‘‘ کا عربی ترجمہ بہ عنوان ’’الرسالۃ المحمدیہ‘‘ کیا جو پہلی مرتبہ دارالمصنفین اعظم گڑھ سے، اور بعد ازاں ادارہ تحقیقاتِ اسلامی اسلام آباد سے شائع ہوا۔ ندوہ سے آپ کی فراغت کا سن 1933ء ہے۔

تدریس[ترمیم]

1934ء کے آغاز میں مولانا ناظم صاحب، علامہ سید سلیمان ندوی کے مشورے سے جامعہ اسلامیہ ڈابھیل (گجرات) تشریف لے گئے۔ یہاں آپ کا تقرر بحیثیت استاد، ادبِ عربی ہوا تھا۔ ڈابھیل میں اُس وقت مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا بدر عالم میرٹھی، مولانا مفتی محمد شفیع اور مولانا محمد یوسف بنوری بحیثیت مدرس موجود تھے۔ یہاں مولانا ناظم صاحب کا قیام چار سال تک رہا۔ چنانچہ آپ 1938ء کے آغاز میں ڈابھیل سے واپس ندوۃ العلماء بحیثیت استاد ادب تشریف لائے۔ اس کے بعد مولانا ناظم صاحب کا اپنی مادرِ علمی سے تعلق مکمل دس سال تک جاری رہا۔ یہاں آپ نے عربی ادب کی مشکل ترین کتب یعنی مقدمہ ابن خلدون، دلائل الاعجاز، اسرار البلاغہ، حجۃ اﷲ البالغہ وغیرہ کا دس سال تک طلبہ کو درس دیا۔ اس کے علاوہ عربی ماہنامے ’’الضیاء ‘‘ کے لیے کئی مقالات اور تبصرے بھی لکھے۔ ندوہ کے اس قیام کے اخیر زمانے میں مولانا اس عظیم علمی ادارے کے مہتمم (پرنسپل) بھی بنادیے گئے۔ تقسیم برصغیر کے بعد کے دگرگوں حالات کی وجہ سے بڑی تعداد میں علماء و فضلاء نے ہجرت کی اور نو آزاد اسلامی مملکت پاکستان کو اپنا وطن بنایا۔ مولانا ناظم صاحب بھی مئی 1948ء میں لکھنؤ سے کراچی تشریف لائے۔ تقریباً ایک سال سعودی سفارت خانے میں ملازمت کی۔ دسمبر 1951ء میں مولانا ناظم صاحب کا تقرر جامعۂ عباسیہ بہاولپور میں بحیثیت شیخ الجامعہ ہوا۔ یہ تعلق نومبر 1963ء تک برابر جاری رہا۔ مولانا ناظم صاحب کی سربراہی کا دور ہی دراصل جامعہ عباسیہ کا سنہری دور کہا جاسکتا ہے۔ نومبر 1963ء میں مولانا ناظم ایک سال کی رخصت پر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ جب ایک سال بعد بہاولپور واپس تشریف لائے تو معلوم ہوا کہ جامعہ عباسیہ سے شیخ الجامعہ کا عہدہ ختم کرکے اس ادارے کو اوقاف کے ماتحت کردیا گیا ہے۔ اس کے بعد مولانا نے 1969ء تک بہاولپور میں بحیثیت ناظم امور دینیہ خدمات انجام دیں۔ 1963ء میں جب کراچی میں ادارۂ معارف اسلامی کی بنیاد رکھی گئی تو مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اس ادارے کے صدر اور مولانا ناظم ندوی نائب صدر بنے۔ مولانا ناظم صاحب تاوقتِ آخر اس عہدے پر فائز رہے۔ 1969ء میں مولانا ناظم ندوی بہاولپور سے کراچی منتقل ہوگئے اور تقریباً تیس برس تک ملیر کراچی کی ایک بستی درخشاں سوسائٹی ملیر ہالٹ میں مقیم رہے۔ یہیں مولانا درسِ قرآن و حدیث دیتے، اہلِ علم، طلبہ اور عربی زبان و ادب کے شائقین سے ملاقات کرتے، اور تمام عمر علمی فیوض پہنچاتے رہے۔

تصانیف[ترمیم]

متعدد علمی تصانیف یادگار چھوڑیں جن میں ان کا ایک عربی دیوان اور سید سلیمان ندوی کی کتاب خطبات مدراس کا عربی ترجمہ الرسالة المحمدية شامل ہے۔[1]

وفات[ترمیم]

9 جون 2000ء کو مختصر علالت کے بعد مولانا نے انتقال فرمایا۔ تدفین ماڈل کالونی کراچی کے قبرستان میں ہوئی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]