محمد نبی محمدی
| محمد نبی محمدی | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سنہ 1937ء صوبہ لوگر |
| وفات | 21 اپریل 2002ء (64–65 سال) پاکستان |
| شہریت | |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | سیاست دان |
| عسکری خدمات | |
| لڑائیاں اور جنگیں | افغانستان میں سوویت جنگ |
| درستی - ترمیم | |
محمد نبی محمدی افغانستان کے ایک ممتاز مذہبی عالم، سیاست دان اور سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد کے ایک اہم ترین کمانڈر تھے۔ وہ "حرکتِ انقلاب اسلامی" نامی تنظیم کے بانی اور امیر تھے اور انھوں نے افغانستان کی تاریخ کے نازک ترین ادوار میں کلیدی کردار ادا کیا۔
پارلیمانی سیاست اور اشتراکیت کی مخالفت
[ترمیم]مولوی محمد نبی محمدی افغانستان کی پارلیمنٹ کے ان چند علما میں سے تھے جنھوں نے ایوان کے اندر ببرک کارمل، حفیظ اللہ امین اور اناہیتا راتب زاد جیسے مارکسی (کمیونسٹ) رہنماؤں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔[1] وہ افغانستان میں بڑھتے ہوئے اشتراکی اثر و رسوخ کے سخت مخالف تھے اور اس مقصد کے لیے انھوں نے پاکستان کے ذریعے سرمایہ دارانہ بلاک کے ساتھ بالواسطہ اتحاد کیا۔ پارلیمنٹ میں ان کا ببرک کارمل کے ساتھ مشہور جھگڑا ہوا تھا جس کے نتیجے میں کارمل کو ہسپتال داخل ہونا پڑا تھا۔ ان کی تقاریر ریڈیو افغانستان پر نشر ہوتی تھیں اور عوام میں بہت مقبول تھیں۔
افغان انقلاب اور ہجرت
[ترمیم]1973 میں داؤد خان کے بر سر اقتدار آنے اور پارلیمنٹ کی تحلیل کے بعد مولوی محمد نبی نے دوبارہ تدریس کا رخ کیا، لیکن 1978 کے "ثور انقلاب" (کمیونسٹ بغاوت) کے بعد حالات بدل گئے۔ کمیونسٹ حکومت نے علما اور قبائلی رہنماؤں کا قتلِ عام شروع کر دیا۔ جب ان کے بھائی ملا جان کو گرفتار کر کے قتل کر دیا گیا، تو مولوی محمد نبی محمدی ہجرت کر کے پاکستان کے شہر کوئٹہ منتقل ہو گئے۔[2] وہاں انھوں نے سوویت قبضے کے خلاف سیاسی اور عسکری جدوجہد کے لیے علما کو متحد کرنا شروع کیا۔
حرکتِ انقلابِ اسلامی کا قیام
[ترمیم]ستمبر 1978 میں پشاور میں موجود افغان مذہبی رہنماؤں نے ایک نئے اتحاد "حرکتِ انقلابِ اسلامی" کی بنیاد رکھی اور مولوی محمد نبی کو اس کا امیر منتخب کیا۔ اگرچہ بعد میں گلبدین حکمت یار اور برہان الدین ربانی نے اپنی اپنی جماعتیں الگ کر لیں، لیکن مولوی محمد نبی کی تنظیم افغان مزاحمت کے "سات بڑے گروپوں" میں شامل رہی۔ جنگ کے دوران انھوں نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر رونالڈ ریگن سے بھی ملاقات کی، جنھوں نے افغان مجاہدین کو "آزادی کے سپاہی" قرار دیا تھا۔
نائب صدر اور خانہ جنگی سے دوری
[ترمیم]1992 میں کابل میں کمیونسٹ حکومت کے خاتمے کے بعد مولوی محمد نبی محمدی افغانستان کے نائب صدر بنے۔ تاہم، جب مجاہدین گروپوں کے درمیان اقتدار کی خاطر خانہ جنگی شروع ہوئی، تو انھوں نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا اور اپنے وفادار دستوں کو اس جنگ میں حصہ لینے سے روک دیا۔ انھوں نے اپنی تمام تر توانائیاں حکمت یار، ربانی اور سیاف کے درمیان صلح کروانے پر صرف کیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ طالبان تحریک کے اکثر ابتدائی رہنما ان کے مدارس کے طالب علم تھے، جس کی وجہ سے ان کے طالبان کے ساتھ اچھے تعلقات رہے۔
وفات اور آخری رسومات
[ترمیم]مولوی محمد نبی محمدی 21 اپریل 2002 کو تپِ دق (ٹی بی) کے باعث پاکستان کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ ان کی میت افغانستان کے صوبے لوگر لے جائی گئی، جہاں افغان حکومت نے انھیں مکمل سرکاری اعزاز (گارڈ آف آنر) کے ساتھ سپرد خاک کیا۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ M. J. Gohari (2002)۔ The Taliban: Ascent to Power۔ Delhi: Oxford University Press۔ ص 23۔ ISBN:9780195795608
- ↑ "Afghanistan"۔ 2013-04-08 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-04-29
