محمد نجیب اللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد نجیب اللہ
(پشتو میں: محمد نجيب الله خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Mohammad Najibullah 1986.jpg 

مناصب
Standard of the President of Afghanistan.svg صدر افغانستان   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
30 نومبر 1987  – 16 اپریل 1992 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png حاجی محمد چمکنی 
عبدالرحیم ہاتف  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 6 اگست 1947  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کابل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 28 ستمبر 1996 (49 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کابل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات پھانسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
مدفن گردیز  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات قتل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Afghanistan (2002–2004).svg افغانستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کابل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان،  سفارت کار،  طبیب،  ماہر امراضِ نسواں  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
عہدہ جرنیل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں عسکری رتبہ (P410) ویکی ڈیٹا پر

محمد نجیب اللہ 1987ء سے 1992ء تک افغانستان کے صدر رہے تھے۔ وہ کمیونسٹ تھے اور سوویت یونین کے حامی تھے۔ اسی لیے ان کے تختے کے پلٹنے کے کچھ ہی سال بعد ایک وقت ایسا آیا جب افغان جنگجوؤں نے انہیں پھانسی دے کر ہلاک کیا تھا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

نجیب اللہ 1947ء میں پیدا ہوئے۔ وہ پشتون قبیلہ غلجئی کے احمد زئی شاخ سے تعلق رکھتے تھے. انہوں نے ابتدائی تعلیم حبیبیہ اسکول کابل اور سینٹ جوزف اسکول بارہ مولا، کشمیر سے حاصل کی اور کابل یونیورسٹی سے طب کی ڈگری حاصل کی.[1]

بر صغیر کے تغیر پزیر حالات[ترمیم]

1996ء میں افغانستان کے طالبان کے برسر قتدار آنے کے بعد سابق صدر ڈاکٹر نجیب اللہ قابل میں مجاہدین کے ہاتھوں قتل ہو جاتے ہیں۔اسی سال افغان خانہ جنگی کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے، طالبان اور شمالی اتحاد طاقت کے حصول کے لیے باہم دست وگریباں ہوتے ہیں۔[2] حالاں کہ 1992ء سے اقتدار پہلے صبغۃ اللہ مجددی اور پھر برہان الدین ربانی کے ہاتھوں آیا تھا جو مخالف کمیونسٹ مجاہدین اتحاد سے تعلق رکھتے تھے۔ تاہم عرصے میں نجیب کابل میں ادارہ اقوام متحدہ میں پناہ گزیں بنے رہے۔ سفارتی تحفظ کی بنا پر کسی افغان نے انہیں ہاتھ نہیں لگایا۔ مگر طالبان عسکریت پسندوں نے تمام سفارتی روایات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نجیب اللہ کو جبرًا اپنے ساتھ لے گئے۔ ان کے ساتھ برا سلوک کیا گیا اور بالآخر انہیں بر سرعام سزائے موت دی گئی۔ کچھ اطلاعات کے مطابق انہیں مخنث بنایا گیا تھا اور انہیں برہنہ پھانسی پر لٹکایا گیا تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]