مندرجات کا رخ کریں

محمد کمال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
محمد کمال
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1955ء (عمر 70–71 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت آسٹریلیا   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ فلسفی ،  مترجم ،  مصنف   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان سورانی   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

محمد کمال ایک ممتاز کرد فلسفی، ماہر تعلیم، مصنف اور مترجم ہیں جن کا علمی کام وجودی فلسفہ، مظہریت اور اسلامیات کے گرد گھومتا ہے۔ وہ 1955 میں عراق کے شہر کرکوک میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیم سلیمانیہ سے حاصل کی اور 1977 میں اربیل کے ٹیچرز انسٹی ٹیوٹ سے گریجویشن مکمل کی۔ تعلیمی سلسلہ مکمل کرنے کے بعد انھوں نے 1977 سے 1979 تک آواکالا نامی گاؤں میں بطور استاد خدمات انجام دیں۔[2]

ابتدائی زندگی اور تعلیم

[ترمیم]

محمد کمال نے 1979 میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے پاکستان کے شہر کراچی کا رخ کیا۔ انھوں نے جامعہ کراچی سے اپنی انڈرگریجویٹ، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ 1994 تک جامعہ کراچی میں بطور لیکچرار اور اسسٹنٹ پروفیسر وابستہ رہے۔ اسی دوران 1992 میں انھوں نے جرمنی میں مارٹن ہائیڈیگر کے فلسفے پر پوسٹ ڈاکٹرل تحقیق کی جس کے لیے انھیں ڈی اے اے ڈی فیلوشپ سے نوازا گیا۔

آسٹریلیا میں اکیڈمک کیریئر

[ترمیم]

1994 میں محمد کمال آسٹریلیا منتقل ہو گئے جہاں انھوں نے اپنے نئے تعلیمی سفر کا آغاز میلبورن کی موناش یونیورسٹی سے بطور لیکچرار کیا۔[3] اس کے بعد وہ 1997 میں لا ٹروب یونیورسٹی سے وابستہ ہوئے اور اسی سال سے وہ یونیورسٹی آف میلبورن کے ایشیا انسٹی ٹیوٹ میں فلسفے کے پروفیسر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ میلبورن یونیورسٹی میں اسلامک اسٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں اور ان کی مہارت وجودی فلسفہ، آنٹولوجی، مابعد الطبیعیات اور اسلامی فلسفہ میں ہے۔

تصانیف اور اعزازات

[ترمیم]

انھوں نے خاص طور پر سترہویں صدی کے فارسی فلسفی ملا صدرا اور جرمن فلسفی مارٹن ہائیڈیگر کے کاموں پر گہری تحقیق کی ہے۔[4][5] محمد کمال نے کرد علمی زندگی میں گراں قدر اضافہ کیا ہے کیونکہ انھوں نے فلسفے کی اہم کتب کو کرد زبان میں ترجمہ کیا اور کرد زبان میں فلسفیانہ تحاریر لکھیں جس سے مغربی فلسفیانہ روایات کرد قارئین کے لیے سہل ہو گئیں۔ 2020 میں یونیورسٹی آف راپرین نے ان کے اعزاز میں ایک سیمینار منعقد کیا جہاں انھوں نے انسانی وجود کے معنی اور زندگی کے مقصد پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انھیں 2022 میں یونیورسٹی آف میلبورن ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔[6]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. عنوان : Gemeinsame Normdatei — جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/1026247780 — اخذ شدہ بتاریخ: 20 جنوری 2026 — اجازت نامہ: CC0
  2. "Biography of Dr. Muhammad Kamal"۔ Existentialist Philosophy (بزبان کردی)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-09-17[مردہ ربط]
  3. "A/Prof Muhammad Kamal"۔ University of Melbourne۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-09-17
  4. Muhammad Kamal (26 اپریل 2010)۔ From Essence to Being: The Philosophy of Mulla Sadra and Martin Heidegger۔ ICAS Press۔ ISBN:978-1904063377
  5. Muhammad Kamal (2019)۔ From Essence to Being: The Philosophy of Mulla Sadra and Martin Heidegger۔ ICAS Press۔ ISBN:978-904063-37-7۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-09-18 {{حوالہ کتاب}}: تأكد من صحة |isbn= القيمة: طول (معاونت)
  6. "A/Prof Muhammad Kamal"۔ University of Melbourne۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-09-17