محمد ہارون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ڈاکٹر محمد ہارون
پیدائش Alfred Neville May
1944ء
لیور پول، برطانیہ
وفات 1998ء (عمر 53–54)
مذہب اسلام
فرقہ سنی [1] (صوفی)
کارہائے نماياں ترجمہ قرآن کنزالایمان اردو ترجمے کا انگریزی میں ترجمہ [2]
مادر علمی کیمبرج یونیورسٹی [3]

ڈاکٹر محمد ہارون 1944ء تا 1998ء (پیدائشی نام: الفریڈ نے ول مئے) کیمبرج یونیورسٹی کے فاضل (پی ایچ ڈی) اور ایک برطانوی نو مسلم تھے۔ انہوں نے 1970ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی پھر 1988ء کے دوران میں 44 سال کی عمر میں مسیحیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کیا۔

کام[ترمیم]

انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اسلام کے بارے میں ایک درجن سے زائد کتب لکھیں رضا اکیڈمی (برطانیہ) نے ان کی کتابوں کو شائع کیا اس کے علاوہ رضا اکیڈمی کے ترجمان 'دی اسلامک ٹائمز' میں ڈاکٹر صاحب کے کئی مضامین بھی چھپتے رہے۔ ذیل میں ان کی چند کتب کے عنوانات درج ہیں۔

  1. امام احمد رضا خان بریلوی کی عالمی اہمیت 1994ء
  2. مسلمانوں میں وحدت کیسے قائم کی جائے
  3. حزب التحریر کے بارے میں مسلمان کے لیے ایک انتباہ
  4. اسلام کا سماجی ڈھانچہ: روایتی اسلام میں معاشرے کی نوعیت
  5. سورہ یسین (ترجمہ)
  6. غوث اعظم حضرت شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی کی عالمی اہمیت 1995ء
  7. میں نے اسلام کیوں قبول کیا 1990ء
  8. خدا کی حکمرانی: جدید دنیا کے مسائل، سنی اسلام کے جوابات 1994ء
  9. امام احمد رضا بریلوی کی اصلاحی حکمتِ عملی 1997ء
  10. اسلام اور تصورِ ریاست 1997ء
  11. اسلام اور خواتین 1995ء
  12. اسلام اور سزا 1993ء
  13. اسلام اور شراب 1994ء
  14. امام احمد رضا خان بریلوی (رحمۃاللہ علیہ) کے 1912ء کے چار نکاتی پروگرام کی اہمیت اور اس پر لائحہ عمل 1996ء
  15. قرآن کی اہمیت اور حقیقت 1994ء
  16. عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (حضور نبی کریم کی سالگرہ) 1994ء
  17. میں نے اسلام کیوں قبول کیا 1990ء (اشاعتِ اول)
  18. اسلام اور سائنس کی حدود 1995ء

حوالہ جات[ترمیم]