محمد یار سلطانوف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد یار سلطانوف
Султанов Мухамедьяр.jpg
 

اورنبرگ مسلم روحانی مجلس کےپانچویں مفتی
مدت منصب
12 جون 1915 – 2 جنوری 1886
Fleche-defaut-droite-gris-32.png سلیم گیرے توکلوف
محمد صفا بایزید وف Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1837  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 12 جون 1915 (77–78 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اوفا  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Russia.svg سلطنت روس  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی قازان وفاقی یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ خادم دین  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
RUS Imperial Order of Saint Anna ribbon.svg آرڈر آف سینٹ آنا، درجہ اول
RUS Imperial Order of Saint Andrew ribbon.svg آرڈر آف سینٹ اینڈریو
Order of Osmanieh - Ribbon bar.svg نشان ِعثمانیہ  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مفتی حاجی محمد یار بن محمد شریف سلطانوف(باشقیر: Мөхәммәтйәр Мөхәммәтшәрип улы Солтанов؛1915-1837) مسلم مذہبی رہنما، اورنبرگ مسلم روحانی مجلس کے پانچویں مفتی تھے۔

سوانح حیات[ترمیم]

محمد یار سلطانوف کی مفتی کے طور پر25 ویں سالگرہ کے اعزاز میں کتاب ”خانانِ تاتار“ ، پرانی تاتار زبان میں ،از قاسم بیکولوف التنچالی ، 1911 میں شائع ہوئی۔

آپ ضلع مین زیلنسکی (اب اس کا کوئی وجود نہیں ، یہ جمہوریہ تاتارستان کے اکتانیش ضلع کا حصہ تھا)کے والست باسروسکایا کے گاؤں میستیووف(مچھتی ، مچٹیف) میں پیدا ہوئے۔ باشقیر کےعظیم سلطانوف خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ جامعہ قازان سے تعلیم حاصل کی۔

سن 1857 - 1859 میں ، محمد یار سلطانوف نے باشقیر مشیریک فوج کے کماندار کے خانہ مسودہ سازی(ڈرافٹنگ روم) میں خدمات انجام دیں ، 1861 - 1866 کے دوران 20 ویں اور 7ویں مین زلنسکی چھاؤنیوں کے سربراہ رہے۔ باشقورستان میں چھاؤنی انتظامی نظام کے خاتمے کے بعد، 1866 - 1885میں انہوں نے اوفا صوبے کے اضلاع مین زیلینسکی اور بیلفسکی میں ثالثِ امن اور مجسٹریٹ کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔ محمد یار سلطانوف متعدد صوبائی سرپرستی کمیٹیوں کے ناظم اور رکن بھی تھے۔

1886 میں انہیں مفتی اور اورنبرگ مسلم روحانی مجلس کا صدر مقرر کیا گیا ۔

1893 میں انہوں نے حج کیا اور عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید ثانی نے ان کا استقبال کیا۔سلطان عبد الحمید نے انہیں نشانِ عثمانیہ بھی عطا کیا۔

پہلی جنگ عظیم کے آغاز میں ، سلطنت عثمانیہ کے شیخ الاسلام نے (روس سمیت) اتحادی ممالک کے مسلمانوں سے اپنی حکومتوں کے خلاف اعلانِ جہاد [1] کرنے کی اپیل کی۔ اس کے جواب میں ، مفتی سلطانوف نے روسی مسلمانوں سےاپنی ہم مذہب عثمانی سلطنت کی مخالفت کرنے کا مطالبہ کیا۔

ان کا انتقال 1915 میں ہوا۔ انہیں اوفا میں پہلی جامع مسجد کے احاطے میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

سلطانوف کو پیش کردہ حضورؐ کا موئے مبارک[ترمیم]

مارچ 1893 میں ، سلطان نے سلطانوف کو حضرت محمد ؐ[2] کا موئے مبارک پیش کیا۔ 1961 تک ، روحانی انتظامیہ مسلسل سوویت روس کے یورپی حصے اور سائبیریا کے مسلمانوں کو اس کا دیدار کراتی رہی ۔ سن 1954 میں ،سربراہ کونسل برائے مذہبی امور پولیانسکی چہارم نے ، باشقیر خودمختار سوویت اشتراکی جمہوریہ کے لیے کونسل کے کمشنر کو ہدایت کی کہ وہ موئے مبارک کی زیارت کرنے پر پابندی نہ لگائے ۔ پولیانسکی کی موت کے بعد ، 1961 میں ، سوویت حکام نے اس کی زیارت پر پابندی عائد کردی۔

اعزازات[ترمیم]

  • تمغاسینٹ سٹنیسلس ،درجہ اول ، 1888 ۔
  • نشانِ عثمانیہ ، درجہ دوم ، 03/19/1893۔
  • تمغا سینٹ انا، درجہ اول، 1896۔
  • تمغا مقدس اینڈریو ، 1898 ۔

ثقافتی عکاسی[ترمیم]

پایہ تخت عبدالحمید میں مفتی محمد یار سلطانوف کا کردار دکھایا گیا ہے۔

نکات[ترمیم]

  1. Исхаков С. М. Отношение российских мусульман к Первой мировой войне // Российская история. — 2014. — № 5. — С. 111.
  2. Ахмадуллин В. А. Деятельность советского государства и духовных управлений мусульман по организации паломничества (1944—1965 гг.): анализ исторического опыта и значение для современности. — М.: Исламская книга, 2016. — С. 99.

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ڈی۔ڈی۔، اعظم توف (1996). سلطانوف محمد یارمحمد شری پووچ۔//باشقورستان: ایک مختصر دائرۃ المعارف. اوفا: باشقیر انسایکلوپیڈیا. صفحات 551. ISBN 5-88185-001-7.