محمد یونس جونپوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد یونس جونپوری
معلومات شخصیت
پیدائش 2 اکتوبر 1937  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جونپور، اترپردیش  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 2017ء (1438ھ)
سہارنپور  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فرقہ سنی
فقہی مسلک حنفی
عملی زندگی
مادر علمی مظاہر علوم سہارنپور
پیشہ محدث، عالم  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو، ہندی، فارسی، عربی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر محمد زکریا کاندھلوی
P islam.svg باب اسلام

محمد یونس جون پوری (1937-2017ء) بر صغیر کے مشہور عالم دین اور مظاہر علوم سہارنپور کے شیخ الحدیث تھے۔ 1937ء میں جون پور میں ولادت ہوئی۔ ابتدائی اور متوسط تعلیم جون پور کے مدارس میں حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور میں حاصل کی اور فراغت کے بعد مظاہر علوم میں استاذ حدیث مقرر ہوئے۔ اور تا وفات وہیں کتب حدیث کی تدریس کی ذمہ داری انجام دی۔ شیخ الحدیث محمد زکریا کاندھلوی اور مولانا محمد اسعد اللہ سے مجاز بیعت و ارشاد تھے۔ 2017ء میں طویل علالت کے بعد وفات پائی اور سہارن پور کے قبرستان شاہ کمال میں مدفون ہوئے۔

ولادت اور تعلیم و تربیت[ترمیم]

محمد یونس جون پوری کی ولادت 2/اکتوبر 1937ء (25/ رجب 1355ھ) کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے تاریخی شہر جون پور میں ہوئی۔ گاؤں کے مکتب میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد مدرسہ ضیاء العلوم مائی کلاں میں شرح وقایہ تک پڑھا۔ پانچ سال کے تھے کہ والدہ کا انتقال ہو گیا۔ شوال 1377ء میں مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور آ گئے جہاں مولانا اسعد اللہ ناظم مدرسہ اور مولانا محمد زکریا کاندھلوی کی خصوصی توجہ اور شفقت میں تعلیم حاصل کی۔[1]

تدریس[ترمیم]

فراغت کے بعد وہیں استاذ مقرر ہو گئے۔ شوال 1382ھ میں مظاہر علوم میں استاذ مقرر ہو گئے۔ ذی قعدہ 1390ھ سے 1438ھ تک کل 48 سال تک شیخ الحدیث کے منصب پر رہے۔

اجازت بیعت و ارشاد[ترمیم]

ان کو سلاسل اربعہ چشتیہ، قادریہ، نقشبندیہ اور سہروردیہ میں مولانا اسعد اللہ رام پوری (خلیفہ مولانا اشرف علی تھانوی) اور اس کے بعد شیخ الحدیث محمد زکریا کاندھلوی (خلیفہ مولانا خلیل احمد سہارنپوری) سے اجازت بیعت و ارشاد حاصل ہوئی۔

تصانیف[ترمیم]

علمی وتصنیفی خدمات میں ان کا سب سے بڑا تحقیقی کارنامہ صحیح بخاری کا حاشیہ اور محققانہ شرح ہے، نیز ان کے علمی افادات کو ان کے کئی تلامذہ نے الگ الگ جمع کر کے شائع کیا ہے۔ جس میں اليواقيت الغالية(مرتبہ محمد ایوب سورتی لندن)،كتاب التوحيد في الرد على الجهمية (مرتبہ محمد ایوب سورتی)، نوادر الحدیث اور نواد الفقہ (مرتبہ محمد زید مظاہری ندوی) اہم ہیں۔ نیز علم حدیث میں ان کے مقام اور مرتبہ اور ان کی اسناد پر ڈاکٹر محمد اکرم ندوی کی کتاب الفرائد في عوالي الأسانيد وغوالي الفوائد ایک کتاب ہے۔

اس کے علاوہ ان کے ہزاروں تلامذہ ہیں جو پورے عالم میں حدیث و علوم حدیث کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔

وفات[ترمیم]

11 جولائی 2017ء (14 شوال 1438ء) کو صبح میں زیادہ ضعف محسوس ہونے پر سہارن پور کے میڈی گرام اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں ساڑھے نو بجے صبح کو ان کی وفات ہو گئی۔ نماز جنازہ بعد نماز عصر مولانا محمد طلحہ کاندھلوی نے پڑھائی اور قبرستان حاجی شاہ کمال سہارن پور میں تدفین عمل میں آئی۔[2]

شیخ یونس جونپوری کی وفات کے بعد مولانا فیصل احمد بھٹکلی ندوی نے ان کی مجالس پر ایک کتاب مراتب کی جس کا نام "مجالس محدث العصر" ہے[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. محدث جلیل مولانا محمد یونس صاحب از محمود حسن حسنی ندوی، فکر و خبر ڈاٹ کام، استفادہ بتاریخ 12 جولائی 2017ء۔
  2. روزنامہ انقلاب، میرٹھ ایڈیشن، مؤرخہ 12 جولائی 2017ء، صفحہ 1۔
  3. https://quranwahadith.com/product/majalis-e-muhaddis-ul-asr/

بیرونی روابط[ترمیم]