محمد یونس جون پوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محمد یونس جون پوری
{{#if:
اسلامی عالم
محمد یونس جون پوری
پیدائش 1937ء (1355 ھ)
وفات 2017ء (1438 ھ)
دور اکیسویں صدی
مذہب اسلام
فرقہ سنی
فقہ حنفی
تحریک دیوبندی
شعبۂ عمل حدیث، تصوف
مادر علمی مظاہر علوم سہارنپور
پیر/شیخ محمد زکریا کاندھلوی
مظاہر علوم سہارنپور کے شیخ الحدیث
پیشرو محمد زکریا کاندھلوی

محمد یونس جون پوری (1937-2017ء) بر صغیر کے مشہور عالم دین اور مظاہر علوم سہارنپور کے شیخ الحدیث تھے۔ 1937ء میں جون پور میں ولادت ہوئی۔ ابتدائی اور متوسط تعلیم جون پور کے مدارس میں حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور میں حاصل کی اور فراغت کے بعد مظاہر علوم میں استاذ حدیث مقرر ہوئے۔ اور تا وفات وہیں کتب حدیث کی تدریس کی ذمہ داری انجام دی۔ شیخ الحدیث محمد زکریا کاندھلوی اور مولانا محمد اسعد اللہ سے مجاز بیعت و ارشاد تھے۔ 2017ء میں طویل علالت کے بعد وفات پائی اور سہارن پور کے قبرستان شاہ کمال میں مدفون ہوئے۔

ولادت اور تعلیم و تربیت[ترمیم]

محمد یونس جون پوری کی ولادت 2/اکتوبر 1937ء (25/ رجب 1355ھ) کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے تاریخی شہر جون پور میں ہوئی۔ گاؤں کے مکتب میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد مدرسہ ضیاء العلوم مائی کلاں میں شرح وقایہ تک پڑھا۔ پانچ سال کے تھے کہ والدہ کا انتقال ہوگیا۔ شوال 1377ء میں مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور آگئے جہاں مولانا اسعد اللہ ناظم مدرسہ اور مولانا محمد زکریا کاندھلوی کی خصوصی توجہ اور شفقت میں تعلیم حاصل کی۔[1]

تدریس[ترمیم]

فراغت کے بعد وہیں استاذ مقرر ہو گئے۔ شوال 1382ھ میں مظاہر علوم میں استاذ مقرر ہوگئے۔ ذی قعدہ 1390ھ سے 1438ھ تک کل 48 سال تک شیخ الحدیث کے منصب پر رہے۔

اجازت بیعت و ارشاد[ترمیم]

ان کو سلاسل اربعہ چشتیہ، قادریہ، نقشبندیہ اور سہروردیہ میں مولانا اسعد اللہ رام پوری (خلیفہ مولانا اشرف علی تھانوی) اور اس کے بعد شیخ الحدیث محمد زکریا کاندھلوی (خلیفہ مولانا خلیل احمد سہارنپوری) سے اجازت بیعت و ارشاد حاصل ہوئی۔

تصانیف[ترمیم]

علمی وتصنیفی خدمات میں ان کا سب سے بڑا تحقیقی کارنامہ صحیح بخاری کا حاشیہ اور محققانہ شرح ہے، نیز ان کے علمی افادات کو ان کے کئی تلامذہ نے الگ الگ جمع کر کے شائع کیا ہے۔ جس میں اليواقيت الغالية(مرتبہ محمد ایوب سورتی لندن)،كتاب التوحيد في الرد على الجهمية (مرتبہ محمد ایوب سورتی)، نوادر الحدیث اور نواد الفقہ (مرتبہ محمد زید مظاہری ندوی) اہم ہیں۔ نیز علم حدیث میں ان کے مقام اور مرتبہ اور ان کی اسناد پر ڈاکٹر محمد اکرم ندوی کی کتاب الفرائد في عوالي الأسانيد وغوالي الفوائد ایک کتاب ہے۔

اس کے علاوہ ان کے ہزاروں تلامذہ ہیں جو پورے عالم میں حدیث و علوم حدیث کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔

وفات[ترمیم]

11 جولائی 2017ء (14 شوال 1438ء) کو صبح میں زیادہ ضعف محسوس ہونے پر سہارن پور کے میڈی گرام اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں ساڑھے نو بجے صبح کو ان کی وفات ہوگئی۔ نماز جنازہ بعد نماز عصر مولانا محمد طلحہ کاندھلوی سے پڑھائی، اور قبرستان حاجی شاہ کمال سہارن پور میں تدفین عمل میں آئی۔ [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. محدث جلیل مولانا محمد یونس صاحب از محمود حسن حسنی ندوی، فکر و خبر ڈاٹ کام ، استفادہ بتاریخ 12 جولائی 2017ء۔
  2. روزنامہ انقلاب، میرٹھ ایڈیشن، مؤرخہ 12 جولائی 2017ء، صفحہ 1۔