محمود الرشید حدوٹی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

}}

مولانا محمودالرشید حدوٹی، كو مری كے پهلے جید اسلامی دانشور جن كی كتابیں اندرون اور بیرون ملك مدارس میں بهی پڑهائی جاتی هیں، یه بیك وقت عالم دین، صحافی، مبلغ اسلام اور مصنف بهی هیں

مولانا محمودالرشید حدوٹی کوہ مری کے اکثریتی قبیلے ڈھونڈ عباسی خاندان کے چشم وچراغ اورحاجی محمدارشاد عباسی کے صاحب زادے ہیں ہیں ،مولانا محمودالرشید حدوٹی 15نومبر 1969میں مری شہر کے مضافاتی گاؤں حدوٹ میں پیداہوئے ،ان کی والدہ نے 197میں انہیں ایک مقامی پرائمریا سکول میں داخل کروا جہاں سے انہوں نے پرائمری کا امتحان اعلی نمبروں میں پاس کیا،اسی دوران گاؤں کی مسجد میں مولوی داؤد مرحوم سے قرآن کریم ناظرہ مکمل کیا،1980میں ان کے داد حاجی محمد سلیمان مرحوم نے انہیں گلہڑہ گلی مری کے جامعہ اشاعت اسلام میں داخل کروا دیا،جہاں انہوں نے عصری اوردینی علوم حاصل کرنے میں چارسال گزارے ،1984میں گورنمنٹ ہائی سکول مری سے فرسٹ پوزیش میں میٹرک کاامتحان پاس کیا،اسی سال وہ جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم میں تشریف لائے ،جہاں انہوں نے ازسرنودینی تعلیم میں داخلہ لیااورچارسال یہاں گزارے ،1988میں مولانامحمودالرشیدحدوٹی لاہورتشریف لائے ،جہاں موقوف علیہ میں داخلہ کے لیے جامعہ اشرفیہ لاہورمیں درخواست دی ،مگرداخلوں کامقررہ وقت گزرچکاتھا جس کے باعث انہیں یہاں داخلہ نہیں مل سکا،پھرانہوں نے اپنے چنداحباب کے مشورے پرجامعہ عثمانیہ ماڈل ٹاؤن لاہورمیں موقوف علیہ میں داخلہ لے لیا،ایک سال کاعرصہ یہاں گزارا،اس کے بعد1989اور1990کاایک سال جامعہ اشرفیہ لاہورمیں گزارا،جہاں دورہ حدیث شریف کی تعلیم حاصل کی اورسندفراغت سے نوازے گئے ۔

مولاناحدوٹی کے اساتذہ[ترمیم]

مولانا حدوٹی کے اساتذہ میں مولوی داؤد، مولانا محمد سفارش عباسی ،مولانا فرید احمد آزاد، قاری ممتازعباسی ،مولانا قاری نوراشرف ہزاروی ،مولاناعبدالودودہزاروی ،مولاناقاری ظفراقبال ،مولاناخلیل الرحمن حقانی ،مولانافریداحمدحقانی ،مولاناخادم حسین ،مولاناعاشق حسین ،مولاناعبدالرؤف علوی ،مولانامحمدموسی روحانی بازیؒ،مولانامحمد سرور،مولانا عبد الرحمن اشرفی ،مولاناعبیداللہ قاسمی شامل ہیں ،اسی طرح سکول کے اساتذہ میں عبد الغفارفلک ،ماسٹر گل ،شامل ہیں ،دینی موضوعات پرپڑھانے والے اساتذہ میں مولانامحمدامین صفدراوکاڑوی ،مولاناعبدالرحیم اشعر،مولاناعبدالحی پھالیہ ،مولانامفتی شیرمحمد علوی ،مولانا یوسف رحمانی مولانا عبد الستار تونسوی ،مولانا قاضی مظہر حسین ،مولاناعبداللطیف جہلمی شامل ہیں۔ اسی طرح قرآن کریم پڑھانے والے اساتذہ میں قاری یعقوب،قاری عالمگیررحیمی ،قاری عاشق حسین اورقاری یونس شامل ہیں ۔

روحانی سلسلہ طریقت[ترمیم]

سلسلہ طریقت میں مولانا پیر عزیزالرحمن ہزاروی کے ہاتھ پر بیعت کی ،مگرعدم مناسبت کے باعث یہ سلسلہ زیادہ دیرقائم نہ رہا،پھر پیر ذو الفقار احمد کے ہاتھ پر بیعت کی ،مولانا صوفی محمد سرورسے بھی اصلاحی تعلق قائم رہا، تبلیغی جماعت میں ایک سال لگایا، جس سے دعوت و تبلیغ کے میدان میں کام کرنے کاجذبہ اجاگرہوا، تحریک خدام اہل سنت ،سنی تحریک اورجمعیت علما اسلام کے ساتھ وقتا فوقتا کام کرنے کاموقع ملا۔ 2015 ميں شيخ العرب والعجم حضرت حكيم محمد اختر صاحب كے خليفہ مجاز ڈاكٹرعبداالمقيم صاحب مدظلہ كے ہاتھ پر بيعت كي.حضرت نے ايك سال كے بعد چاروں سلاسل ميں خلافت عطا كي.

دینی تحریکات، تصنیف و تالیف اور خطابت میں کردار[ترمیم]

طالب علمی کے زمانے سے ہی تحریکی ذہن بن گیا تھا،عہدطالب العلمی میں سنی تحریک الطلبہ نامی تحریک میں سرگرم کارکن ہی نہیں علاقائی زمام قیادت سنبھال کرنمایاں کام کیا۔ دورطالب علمی ہی سے تحریروتصنیف کاشوق پیداہو گیاتھا،کھیل کود سے شروع سے ہی دل نہیں لگتا تھا،طالب علم جن اوقات میں کھیلنے کے لیے میدان میں اترتے مولانا محمودالرشید حدوٹی اسی موقع پرکسی نہ کسی لائبریری میں داخل ہوجاتے اوراپنی علمی پیاس بجھاتے تھے ،مولاناسیدابوالحسن علی ندوی مرحوم کی تقریباساری تصانیف عہدطالب العلمی ہی میں پڑھ کرختم کرلی تھیں۔ تقریرکے میدان میں طالب علمی کے زمانے ہی سے اپنے معاصرین پرسبقت رکھتے تھے ،جس پروگرام میں مولاناحدوٹی کابیان ہوتا وہ اپنے سننے والوں پرایک سحرطاری کردیتاتھا،کئی مقامات پربچپن میں تقریریں کرنے پرانعامات سے نوازے گئے ۔

امامت و خطابت کا باقاعدہ آغاز[ترمیم]

1990میں طالب علمی دورکااختتام ہوا تو شالیمارباغ کے مرکزی درواز ے کے سامنے موجود جامع مسجد ابوذرغفاری میں امامت کے فرائض سنبھال لیے ،جہاں کئی سالوں تک یہ ذمہ داری نبھاتے رہے ،اس دوران مختلف مساجدمیں جمعہ کاخطبہ دیتے رہے ،پھرجامع مسجد ابوذرغفاری میں جمعہ کا آغاز ہوا تو یکسوئی سے یہاں خطبہ دینا شروع کر دیا،اس دوران ان کی حق گوئی اوربے باکی کے ہرسمت چرچے ہونے لگے ،وقت کے حکمرانوں کے خلاف آوازحق بلندکرنے کی پاداش میں ہتھکڑیاں لگاکرجیل میں ڈال دیے گئے ،جیل میں مذہبی اوردینی تنظیموں کے کارکنان کی ایک بہت بڑی تعدادہونے کے باعث مولانامحمودالرشیدحدوٹی جیل میں بھی جمعہ کی تقریرکرتے تھے ،مختلف تربیتی نشستوں میں خطاب کرتے تھے ،آپ نے جیل میں نظربندی کے دوران مصباح الصرف ،مصباح النحو نامی کتابیں مکمل کیں ،اسی طرح دیوارچمن سے زنداں تک نامی کتاب میں مولانا حدوٹی نے شالیمارکی دیواروں سے لے کرجیل کی سلاخوں تک کے تمام مناظرکوقلم بندکیاہے ،اسی طرح نغمہ زنداں کے عنوان سے ان کی وہ تقریریں چھپ کرمنظرعام پرآچکی ہیں جوانہوں نے کوٹ لکھپت جیل کے گول چکرپرکی تھیں ۔

علم و دانش کے تحریری مشن کی ابتدا[ترمیم]

مولانا محمود الرشید حدوٹی نے تعلیمی سلسلہ سے فراغت کے بعد تصنیفی میدان میں قدم رکھا،جہاں انہوں نے کئی درجن کتابیں اپنے قلم سے لکھ کراپنے قارئین تک پہنچائیں ،سی ایس ایس اورپی سی ایس کے طلبہ کے لیے اسلامی نظام حیات اورآخری دس سورتوں کی تفسیرجیسی گراں قدرکتب لکھیں ، ایم اے پنجاب یونیورسٹی کے نصاب میں تقابل ادیان کاایک مضمون مولانامحمودالرشیدحدوٹی کاتحریرکردہ ہے ،اسی طرح پنجاب یونیورسٹی میں شامل نصاب العربیۃ المختارہ کی شرح الحدیقۃ الحضارہ اورکالج ویونیورسٹی کے طلبہ کے لیے مصباح الصرف اورمصباح النحوبھی مولاناکے قلم سے لکھی گئی ہے ۔ قرآن كريم كي اچهوتي اور منفرد تفسير مطالعہ قرآن كے نام سے كئي جلدوں ميں مولانا محمود الرشيد حدوٹى كا صديوں تك ياد ركها جانے والا كارنامہ ہے۔ الدرر النافعہ فى السورة الفاتحہ نامى كتاب ساڑھے 300 صفحات پر مشتمل ہے۔ جو مولانا محمود الرشيد حدوٹى كے قلم كا شاہكار ہے۔ اس وقت تك مولانا محمود الرشيد حدوٹى كى تصانيف كي تعداد 100كے قريب ہے۔

صحافتی میدان کے شہسوار[ترمیم]

  • میں مولانا محمود الرشید حدوٹی نے ماہ نامہ آب حیات جاری کیا،اس دوران وہ
روزنامہ خبریں ،روزنامہ وفاق، روزنامہ صداقت،روزنامہ پاکستان ،روزنامہ اسلام
اورروزنامہ انصاف،روزنامہ اوصاف 

روزنامہ حيدر۔ روزنامہ امروز روزنامہ مشرق۔ روزنامہ پوسٹ مارٹم روزنامہ سما۔ روزنامہ خبريں میں کالم نگاری بھی کرتے رہے ،اسی طرح ماہ نامہ جرائد میں۔ ماہ نامہ الفاروق، ماہ نامہ الخیر،ماہ نامہ الحسن ، ماہ نامہ الصیانہ ،ماہ نامہ دار العلوم دیوبند، ماہ نامہ النصیحہ ،ماه نامہ آب حيات لاہور ماه نامہ تحفہ خواتين لاہور۔ ماه نامہ صدائے جمعيت لاہور۔ ہفت روزه شاندار لاہور۔ ہفت روزه زندگی لاہورمیں مضامین لکھتے رہے ۔

  • مولانامحمودالرشیدحدوٹی کی زیرادارت 2000سے ماہ نامہ آب حیات میگزین شائع ہو رہاہے ،جس میں شانداراورجاندارتحریریں اہل علم ودانش کی علمی پیاس بجھاتی ہیں ،اس میگزین کی دنیابھرکے ماہوارمیگزینوں میں ایک انفرادیت یہ ہے کہ یہ میگزین ہرسال اپنے قارئین کی خدمت میں ایک سیرت النبی ﷺ نمبرخصوصیت سے پیش کرتاہے ،اسی سلسلہ میں 2004ء کے ایک خصوصی میگزین پرانہیں حکومت پاکستان کی طرف سے قومی ایوارڈسے نوازاگیا،اسی میگزین کی بدولت انہیں لیبیا،سعودی عرب،افریقی ملک مالی کے ثقافتی شہرٹمبکٹو، الجزائرکے شہراغٖادیس،انڈونیشیاکے ثقافتی شہربوگورکی کانفرنسوں میں شرکت کاموقع ملا۔
  • مولانامحمودالرشیدحدوٹی نے ماہ نامہ آب حیات لاہورکی کامیاب اشاعت کے بعد مستورات کی علمی پیاس بجھانے کے لیے2009میں ماہ نامہ تحفہ خواتین نامی رسالہ جاری کیا،جس میں آسان اورخواتین کی دلچسپی کے مضامین پیش کیے جاتے ہیں ،جس طرح اہل علم وعرفان میں
ماہ نامہ آب حیات ایک مقبول رسالہ ہے اسی طرح خواتین میں ماہ نامہ تحفہ خواتین اپنی مثال آپ ہے ۔
  • مولانامحمودالرشیدحدوٹی کے صحافتی سفرکاقصہ یہیں تمام نہیں ہوتا،انہوں نے سن 2011ء میں ہفت روزہ شاندارکے نام سے ایک اخبارجاری کیا،جس میں حقائق پرمبنی تحریریں اورخبریں شائع کی جاتی رہیں ،مگرمولاناحدوٹی جوایک کہنہ مشق اورتجربہ کارعالم دین اورصحافی ہیں ان کایہ تجربہ کچھ کامیاب ثابت نہیں ہوا،چنانچہ مولاناحدوٹی کے ایک بہت ہی محبت رکھنے والے دوست نے ان کااخباردیکھ کرکہاکہ مولانا!آپ توہمیشہ سچ کے علمبرداراورنقیب تھے یہ جھوٹ کی نمائندگی کیوں شروع کردی؟یہ بات مولاناکے مزاج کے بالکل خلاف تھی ،چنانچہ انہوں نے اخبارکادفاع کرنے کی بجائے اخباربندکرنے بلکہ اس کاڈیکلریشن فروخت کرنے کافیصلہ کر لیا،اوریہ بات کس قدرحیرت انگیزہے کہ اونے پونے داموں ہفت روزہ شانداراپنے ایک دوست جناب سرداراصغرعباسی کوبیچ دیا۔
  • مولاناحدوٹی کواللہ تعالیٰ نے ایک انفرادی طبیعت سے سرشارکیاہے ،صحافت کے میدان میں انہوں نے بلاخوف لومۃ لائم مجاہدین اسلام ،طالبان ،دنیاکی جہادی تحریکوں کی نہ صرف کھل کرحمایت کی بلکہ ان کی ضروریات کابھی ہمیشہ خیال رکھا۔

مولانا حدوٹی کی تصانیف[ترمیم]

مولانامحمودالرشیدحدوٹی نے تحریری میدان میں اپنی صلاحیتوں کابھرپوراظہارکیا،اس وقت جب کہ وہ اپنی عمرناپائیدارکی اڑتالیس بھاریں دیکھ چکے ہیں اسی (80)سے زیادہ کتابیں لکھ چکے ہیں ،حال ہی میں انہوں نے سورۃ الفاتحہ کی تفسیرلکھی ہے جس کے پونے دوسوصفحات پرصرف اعوذباللہ اوربسم اللہ کی تفسی رہے ،اس کے علاوہ چھوٹی بڑی کتابوں کی ایک لمبی فہرست ہے ،سرکاردوعالم ﷺ کی سیرت پرفضائل مصطفے ﷺ کے نام سے ان کاایک مضمون ماہ نامہ آب حیات میں قسط وارتحریرکیاجا رہاہے ،جسے اہل علم کے حلقوں میں پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھاجا رہاہے ۔ علاوه ازيں اسلامى نظام حيات۔ اسلام كا معاشى نظام۔ اسلامى عقائد۔ اسلامى عبادات۔ اسلام اور پيغمبراسلام۔ نغمه زنداں۔ درددل۔ تاريخ عزيمت۔ مطالعہ قرآن كئى جلديں۔

تنظیم جمعيت تحفظ اسلام[ترمیم]

مولانامحمودالرشیدحدوٹی نے2005ء میں ایک تنظیم قائم کی جس کانام مجلس تحفظ اسلام رکھا،پھرکسی مصلحت کے تحت چندسالوں بعداس کانام جمعیت تحفظ اسلام رکھا،جس کے لیے ماہ نامہ صدائے جمعیت نامی میگزین کااجراء بھی مناسب سمجھاگیا۔

  • مولانامحمودالرشیدحدوٹی نے تبلیغی ٰ جماعت میں ایک سال گزارنے کے بعدتدریسی لائن اختیارکرنے کافیصلہ کیا،جس کے بعدانہوں نے لاہورکی مشہوردینی درسگاہ جامعہ منظورالاسلامیہ عیدگاہ صدرلاہورکینٹ میں تدریس کاآغازکیا۔
  • دوسال کے بعد 1998میں ایشیا کی عظیم یونیورسٹی جامعہ اشرفیہ لاہورمیں آئے ،جہاں انہوں نے معہدام القریٰ میں استاذالعلماء حضرت مولانافضل الرحیم اشرفی کی سرپرستی میں ایک بارپھرطالب علمی کاجامہ پہن لیا،ایک سال کے اند رہی مولانافضل الرحیم کی نگاہ کیمیاء اثران پرپڑی ،جس کی برکت سے مولانا محمودالرشید حدوٹی کوجامعہ اشرفیہ لاہور کے ابتدائی درجات میں فنون کی کتابیں پڑھانے کاموقع فراہم کیا گیا،چنانچہ 1999 میں مولاناحدوٹی نے جامعہ میں تدریس شروع کردی ،جامعہ اشرفیہ کے ناظم اعلی قاری ارشدعبیدکی درخواست پروہ رائے ونڈروڈپرواقع جامعہ کی ایک برانچ میں منتقل ہو گئے ،جہاں صرف پانچ ماہ تدریس کرنے کے بعددوبارہ جامعہ اشرفیہ فیروزپورروڈپرآگئے ،جہاں تاحال وہ بطورمدرس کام کر رہے ہیں ،
  • جامعہ اشرفیہ لاہورمیں تدریس کے دوران مولانامحمودالرشیدحدوٹی نے
جامعہ اشاعت العلوم مرغزارلاہور،
جامعہ مفتوحہ للمسلمات لاہور،

جامعہ رحیمیہ صدیق اکبرللبنات گلبرگ لاہور، جامعہ عثمانیہ آسٹریلیامسجدلاہور میں بخاری شریف ،ترمذی شریف ،مسلم شریف ،ابوداودشریف ،مشکوٰۃ شریف اورہدایہ جیسی کتابیں پڑھانے کی نہ صرف سعادت حاصل کی بلکہ طلبہ کرام نے ان کے تدریسی اندازسے خوب خوب لطف اٹھایا۔

جامعہ رشیدیہ لاہور كا قیام اور مقاصد[ترمیم]

دوستوں کی مشاورت سے 2012ء انہوں نے شالیمارباغ لاہورسے چندکلومیٹرکے فاصلے پرمناواں جی ٹی روڈپرپندرہ مرلے کاایک قطعہ اراضی حاصل کیا،جہاں پرانہوں نے جامعہ رشیدیہ لاہورتعمیرکرنے کاارادہ کیا،ڈیڑھ سال کاعرصہ گزرنے کے بعد28نومبر2013کوجامعہ رشیدیہ لاہورکی بنیادرکھی گئی ،اس کے بعدچندماہ تک اس کی بنیادوں کی بھروائی ہوئی اوراس کے بعدجامعہ رشیدیہ لاہورکی تعمیرمکمل ہو گئی۔ مولانا محمودالرشید حدوٹی کے عزائم اورارادوں کے مطابق جامعہ رشیدیہ لاہورپاکستان کاوہ شایدپہلامدرسہ ہوگاجہاں حفظ قرآن کریم کے ساتھ ساتھ حفظ حدیث کابھی اہتمام کیاجائے گا۔

مولانامحمودالرشیدحدوٹی کی زیر سرپرستی دیگر ادارے[ترمیم]

مولانامحمودالرشیدحدوٹی کی زیرنگرانی اس وقت چند ادارے بڑی عمدہ خدمات سر انجام دے رہے ہیں ،ان میں آب حیاتاکیڈمی .اداره آب حیات ٹرسٹ ،ماہ نامہ تحفہ خواتین لاہور،ماہ نامہ آب حیات لاہور۔ ماه نامہ صدائے جمعيت لاہور ،مرکزتحقیق وتصنیف،جمعيت تحفظ اسلام پاكستان۔ مکتبہ آب حیات لاہور۔ جامعہ رشيديہ مناواں لاہور۔ جامع مسجد عارفي مناواں لاہور شامل ہیں ۔

حواله جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]