محمود انجیر فغنوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

خواجہ محمود انجیر فغنوی سلسلہ نقشبندیہ کے عظیم مشائخ میں شمار ہوتے ہیں

جائے ولادت[ترمیم]

نفحات الانس میں آپ کا نام محمود الخیر فغنوی ہے آپ کی ولادت شہر بخارا سے نو میل کے فاصلہ پر مؤرخہ18 شوال 628ھ انجیرفغنہ نامی قصبہ میں ہوئی۔یہ بخارا کے علاقوں میں سے وابکنہ کا ایک گاؤں ہے۔

بیعت و خلافت[ترمیم]

آپ خواجہ عارف کے تمام اصحاب میں افضل و اکمل اور خلافت میں سب سے ممتاز تھے۔ذریعہ معاش گل کاری تھا۔ آپ کا شمارخواجہ عارف ریوگری کے اعظم خلفاء میں ہوتا ہے۔ اسی بناء پر عارف ریوگری کے وصال پر آپ کو ان کا جانشین مقرر کیا گیا۔ اور آپ نے بھی دین متین کی مثالی اشاعت کی صورت میں نیابت کا حق ادا کیا۔

وفات[ترمیم]

آپ کا سن وفات17 ربیع الاول 717ھ ہے آپ کا مزار وابکنہ بخارا میں ہے۔[1] خواجہ علی رامتینی فرماتے ہیں کہ ایک درویش نے حضرت خضر کی زیارت کی اور پوچھا کہ اس زمانہ کے مشائخ میں کون ایسا بزرگ ہے جو استقامت کا درجہ رکھتا ہوتاکہ دست ارادت سے اس کا دامن پکڑوں اور اس کی پیروی کروں تو حضرت خضر نے فرمایا ان صفات کے بزرگ خواجہ محمود انجیر فغنوی ہیں۔[2]

ذکر بالجہر[ترمیم]

مشائخ نقشبند میں سے آپ نے بر بنائے مصلحت تقاضائے زمانہ ذکر بالجہر یعنی بلند آواز سے ذکر کرنا جو طریقہ نقشبندیہ میں مروج نہیں ہے، شروع کیا۔ جسے نامناسب خیال کرتے ہوئے اس وقت کے عظیم محدث اور فقیہ شمس الائمہ حلوانی نےحافظ الدین محدث کی قیادت میں علماء کرام کا ایک وفدمحمود انجیرفغنوی کی خدمت میں بھیجا اور انہوں نے ذکر بالجہر شروع کرانے کی وجہ دریافت کی۔ تو آپ نے فرمایا ”تاکہ سویا ہوا بیدار ہو اور غفلت سے ہوشیار ہو، راہ راست پر آجائے، شریعت و طریقت پر استقامت کرے اور توبہ و رجوع الی اللہ کی رغبت کرے“۔ مولانا حافظ الدین محدث نے عرض کیا حضور آپ کی نیت درست ہے لیکن اس کے لیے آپ کوئی حد مقرر فرمادیں تاکہ حقیقت مجاز سے اور آشنا بیگانہ سے ممتاز ہوجائے۔ اس پر انجیر فغنوی نے ارشاد فرمایا “ذکر جہر اس شخص کے لیے جائز ہے جس کی زبان جھوٹ و غیبت سے پاک ہو، جس کا حلق حرام و شبہ سے اور دل ریاء وسوسہ سے یعنی لوگوں کے دکھاوے اور سنانے سے اور اس کا دماغ غیر اللہ کی طرف متوجہ ہونے سے پاک ہو ”۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تذکرہ مشائخ نقشبندیہ نور بخش توکلی صفحہ113،مشتاق بک کارنر لاہور
  2. حضرات القدس ،بدر الدین سرہندی،جلد اول صفحہ141،مکتبہ نعمانیہ سیالکوٹ
  3. http://www.islahulmuslimeen.org/urdu/books/jalwagah/h13.htm