محمود تيمور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمود تيمور
(عربی میں: محمود تيمور خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
محمود تيمور

معلومات شخصیت
پیدائش 16 جون 1894[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
قاہرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1974 (79–80 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
سویٹزرلینڈ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

محمود تيمور ( قاہرہ، 16 جولائی 1894 - لوزان، سویٹزرلینڈ، 25 اگست 1973) مصری ادیب اور افسانہ نگار  ،  انہیں دور جدید کے عربی افسانے کا بابا آدم، مختصر عربی کہانیوں کا پیشوا، عرب کا موپاساں اور عرب کا شیکسپئیر بھی کہا جاتا ہے۔ [2][3][4]

محمود تیمور 16 جولائی 1894ء کو مصر میں شہر قاہرہ کے قدیم قصبے درب سعادۃ کے ایک ادبی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ محمود تیمور کے دادا ترک نژاد مصری رئیس اسماعیل پاشا تیمور کتابوں کے شیدہ تھے، محمود تیمور کے والد ادیب علامہ احمد توفیق تیمور پاشا، پھوپو شاعرہ عائشہ تیمور اور بھائی محمد تیمور بھی اپنے عہد کی معروف ادیب تھے اور عربی ادب میں اپنا مقام رکھتے تھے۔ محمود تیمور نے زراعی اسکول میں تعلیم حاصل کی، لیکن ٹائیفائیڈ کے باعث تعلیم مکمل نہ کرسکے اور کئی ماہ بستر پر گزارے۔ اس دوران میں گھر میں موجود کتابوں کو پڑھ کر عربی ادب میں دلچسپی پیدا ہوئی، خاندان کی طرف سے ادبی ذوق تو ورثے میں ملا تھا لہذا کم عمری میں ہی ان کا رجحان ادب کی طرف ہو گیا۔ ان کے بھائی محمد تیمور نے ادب میں ان کی خوب مدد کی۔

نوجوانی میں وزارت خارجہ میں ملازم ہوئے اور یورپ کا سفر کیا، جہاں مغربی ادب کا مطالعہ کیا۔ وہ موپاساں، چیخوف اور خلیل جبران کی تحریروں سے متاثر ہوئے اور مصر واپس آکر جدید اور حقیقت پسند عربی ادب کی بنیاد رکھی اور عربی افسانے کو بین الاقوامی معیار دیا۔

محمود تیمور القصۃ نامی رسالے مدیر بھی رہے جس میں ان کی کئی مختصر کہانیاں شایع ہوئیں، 1925 ء میں انہوں نے اپنی مختصر کہانیوں کا پہلا مجموعہ ‘‘ما تراہ العيون’’ شایع کیا۔ اس کے بعد انہوں نے مختصر کہانیوں کے تقریباً 15 مجموعے لکھے ۔

 محمود تیمور کی مقبول کہانیوں میں رجب افندی، الحاج شلبۃ، زامر الحي، فلب غانيۃ، فرعون الصغير، الشيخ سيد العبيط، مكتوب علی الجبين، شفاۃ غليظۃ، أبو علی الفنان، إحسان للہ اور كل عام وأنتم بخير شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے 7 عدد ناول (نداء المجہول، سلوی فی مہهب الريح، المصابيح الزرق)، سفرنامے(أبو الہول يطير، شمس وليل، جزيرۃ الحب)، ڈرامے (عوالي، سہاد أو اللحن التائہ، اليوم خمر، حواء الخالدۃ، صقر قريش) اور ادبی مضامین (فن القصص، مشكلات اللغۃ العربيہ)بھی تحریر کیے۔  ان کے کئی افسانوں پر مصر میں ڈرامے اور فلمیں بنائی گئیں۔ محمود تیمور کے کہانیوں کے ترجموں کو بھی کافی مقبولیت ملی۔ انہوں نے کئی بین الاقوامی ادبی کانفرنسوں میں شرکتیں کیں جن میں بیروت، دمشق کے علاوہ، جامعہ پشاور، پاکستان میں بھی تشریف لائے۔ انہیں دور جدید کے عربی افسانے کا بابا آدم، مختصر عربی کہانیوں کا پیشوا، عرب کا موپاساں اور عرب کا شیکسپئیر بھی کہا جاتا ہے۔ 25 اگست 1973ء کو 80 برس کی عمر میں محمود تیمور کا انتقال سوئزرلینڈ کے شہر لوزان میں ہوا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb134780715 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. محمود تیمور۔ الحکواتی، عرب ثقافتی ٹرسٹ
  3. تعارف: محمود تیمور۔ اسٹیٹ انفارمیشن سروس، حکومتِ مصر
  4. محمود تیمور۔   عربی ادب میں مختصر کہانی کے پیشوا۔ رسالہ اہرام، العربی