محمود ثانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(محمود دوم سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
محمود ثانی
Mahmud II
خلیفہ
امیرالمومنین
سلطان سلطنت عثمانیہ
خادم الحرمین الشریفین
MahmutII.jpg
محمود ثانی, 1830
دور حکومت جولائی28, 1808 – جولائی 1, 1839
پیشرو مصطفی رابع
جانشین عبد المجید اول
سلطان سلطنت عثمانیہ
ملکہ پرتیونیال سلطان
بزم عالم سلطان
نو فداں قادین افندی
فاطمہ قادین افندی
عالی جناب قادین افندی
کامیری قادین افندی
مثل نایاب قادین افندی
عبر رفتار قادین افندی
وزلت قادین افندی
زرنگار قادین افندی
آشوب جان قادین افندی
حاجیہ ہوشیار قادین افندی
نور تاب قادین افندی
پرواز فلک قادین افندی
پرستاو قادین افندی
لبریز فلک خانم افندی
حسن ملک خانم افندی
زین فلک خانم افندی
تیریال خانم افندی
گل جمال خانم افندی
شاہی خاندان عثمانیہ خاندان
والد عبدالحمید اول
والدہ نقش دل سلطان
پیدائش 20 جولائی 1789
وفات 1 جولائی 1839 (عمر 49 سال)
مذہب اسلام
طغرا

محمود ثانی (پیدائش: 20 جولائی 1785ء، انتقال: یکم جولائی 1839ء) 30 ویں عثمانی سلطان تھے۔ سلیم ثالث کے بعد جس عثمانی سلطان نے اصلاح کا کام جاری رکھنے کی کوشش کی وہ محمود (1808ء تا 1839ء) ہی تھے۔ محمود سلطان عبدالحمید اول کا بیٹا تھا۔ بدامنی، سرکشی اور بغاوتوں سے اس کے دور کا آغاز ہوا۔ مصر میں مقامی مملوک سردار بے لگام ہو چکے تھے اور عرب میں نجد کے سعودی خاندان کو عروج حاصل ہوا اور سعودی افواج نے حجاز پر قبضہ کرکے عراق اور شام تک چھاپے مارنے شروع کردیے تھے۔ یونان نے بھی اپنی آزادی کا اعلان کردیا۔ محمود نے 18 سال کے اندر تمام بغاوتوں کا خاتمہ کردیا۔ مصر کے والی محمد علی نے مصر و شام میں امن قائم کردیا۔ حجاز کو سعودی افواج سے واپس لے لیا اور 1826ء میں یونان کی بغاوت بھی فرو کردی گئی۔ اسی سال ینی چری کا بھی خاتمہ کردیا گیا جس کے سردار اور سپاہی سلطنت کے لیے ایک مصیبت بن گئے تھے۔ محمود نے اب ان کی جگہ جدید طرز کی ایک نئی فوج تیار کی جس کی وردی یورپی طرز کی تھی اور پگڑی کے بجائے ترکی ٹوپی پہنتی تھی۔ سلطان نے بکتاشی اور درویشوں کا بھی خاتمہ کردیا جو اصلاحات کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ تھے۔ اس کے علاوہ محمود نے جاگیرداری نظام پر بھی پابندیاں لگائیں اور یہ حکم جاری کیا کہ کوئی شخص مقدمے کے بغیر قتل نہ کیا جائے۔ سلیمان قانونی کے زمانے سے یہ قاعدہ ہوگیا تھا کہ سلاطین نے دربار میں آنا چھوڑ دیا تھا جہاں ساری کارروائی وزیراعظم کی صدارت میں ہوتی تھی۔ محمود نے اس دستور کو توڑا اور پابندی سے دیوان میں آنا شروع کیا۔ ان اصلاحات کے بعد توقع تھی کہ سلطنت ترقی کی راہ پر گامزن ہوجاتی لیکن مغربی قوتیں خصوصاً روس یہ نہیں چاہتا تھا کہ سلطنت عثمانی پھر ایک بڑی طاقت بن جائے۔ چنانچہ انہوں نے سلطنت عثمانیہ کے معاملات میں مداخلت شروع کردی اور سلطنت سے جنگ چھیڑ دی۔ 20 اکتوبر 1827ء کو یونان میں نوارینو کے مقام پر روس، انگلستان اور فرانس کے متحدہ بحری بیڑے نے حملہ کرکے عثمانی بیڑے کو بالکل تباہ کردیا۔ روسی فوجیں بلقان کی طرف بڑھتی ہوئی 1829ء میں ادرنہ تک پہنچ گئیں،سلطان کو روس سے پھر صلح کرنی پڑی۔ روسی دباؤ کے تحت میں یونان کو آزادی دے دی گئی۔ روسی افواج نے مفتوحہ علاقے واپس کردیے لیکن دریائے ڈینیوب کے دہانے اور دریا کے شمال میں واقع رومانیہ کے علاقے پر قابض ہو گیا۔ ادھر سے اطمینان ہوا تو 1830ء میں فرانس الجزائر پر قابض ہوگیا۔ 1831ء میں مصر کے والی محمد علی پاشا نے بغاوت کردی اور اس کی فوجیں ابراہیم پاشا کی قیادت میں شام کو فتح کرتی ہوئی ترکی کے قلب میں کوتاہیہ تک پہنچ گئیں اور یہ معلوم ہوتا تھا کہ اب ان کا جلد ہی استنبول پر بھی قبضہ ہوجائے گا۔ ان حالات میں محمود ثانی کا انتقال ہو گیا۔

محمود ثانی
پیدائش: جولائی 20, 1785 وفات: جولائی 1, 1839
شاہی القاب
پیشتر
مصطفی رابع
سلطان سلطنت عثمانیہ
نومبر 15, 1808 – جولائی 1, 1839
اگلا
عبد المجید اول
مناصبِ اہل سنت
پیشتر
مصطفی رابع
خلیفہ
نومبر 15, 1808 – جولائی 1, 1839
اگلا
عبد المجید اول