محمود عزیز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمود عزیز
محمود عزیز

معلومات شخصیت
پیدائش 15 فروری 1941 (78 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
دہلی،  برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ صحافی،  خاکہ نگاری،  کالم نگار،  ادیب اطفال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

محمود عزیز وہلوی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے مضمون نگار، صحافی، کالم نگار اور ماہنامہ سب رس کے سابق انتظامی مدیر ہیں۔ انہوں نے ریڈیو پر بچوں کے لیے ڈرامے بھی لکھے ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

محمود عزیز 15 فروری، 1941ء کو کوچہ چیلاں، دہلی کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔1947ء میں 6 سال کی عمر میں اپنے والد عزیز الرحمٰن اور والدہ امت العزیز کے ساتھ کراچی منتقل ہو گئے۔ ابتدائی تعلیم سے بیچلر کی سند تک تعلیم کراچی میں ہی حاصل کی۔ محمود عزیز کو ابتدا ہی سے لکھنے میں دلچسپی رہی، چنانچہ ریڈیو پاکستان سے بچوں کے ڈرامے لکھے اور ریڈیو پاکستان کے رسالے پاکستان کالنگ کے اسکرپٹ رائٹر رہے۔ روزنامہ نوائے وقت میں کالم نگاری کی، ہفت روزہ تکبیر اور فاتح سے بھی تعلق رہا۔ روزنامہ مقدمہ کراچی سنیئر اسٹنٹ ایڈیٹر کے ساتھ اس کے ادبی صفحہ اوراق ادب کے انچارج کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔ خواجہ حمید الدین شاہد کی وفات کے بعد ان کے رسالے ماہنامہ سب رس کے انتظامی مدیر بھی رہے۔[1]

محمود عزیز کراچی کے ادبی رسائل اور اخبارات کے علاوہ سرگودھا کے سہ ماہی ابجد میں بھی ان کی تحریریں شائع ہوتی ہیں۔ وہ انجمن ترقی اردو پاکستان کے ترجمان ماہنامہ قومی زبان کے قلمی معاون ہیں۔کتابوں پر ان کے تبصرے ماہنامہ قومی زبان میں تواتر سے شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ان کی مختلف مضامین پر مشتمل دو کتابیں ذکر کچھ دلی والوں کا اور ہمارے کچھ شاعر و ادیب زیورِ طباعت سے آراستہ ہوچکی ہیں۔[1]

تصانیف[ترمیم]

  • 2017ء - ذکر کچھ دلی والوں کا (دہلی کی شخصیات پر مضامین)، بقائی یونیورسٹی پریس، کراچی
  • 2018ء - ہمارے کچھ شاعر و ادیب (شاعروں و ادیبوں پر مختلف مضامین)، بقائی یونیورسٹی پریس، کراچی

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ہمارے کچھ شاعر و ادیب، بقائی یونیورسٹی پریس، کراچی، 2018ء، پسِ ورق