مختاراں مائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مختاراں مائی
Mukhtaran Mai2005.jpg
پیدائش مختاراں بی بی
1972
میر والہ، پاکستان
قومیت پاکستانی
نسل سرائیکی لوگ
شہری پاکستانی
پیشہ Human rights activist
وجۂ شہرت Survivor of gang-rape as an honour revenge, one of Pakistan's most prominent rights activists
مذہب اسلام
شریک حیات ناصر عباس گبول (ش. 2009)

مختاراں مائی (اصل نام 'مختاراں بی بی') کو پنجاب کے گاؤن میرانوالہ کی پنچائت کے حکم پر 2002ء میں زنا بالجبر کا نشانہ بنایا گیا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے چھ افراد کو اس الزام میں موت کی سزا سنائی۔ عدالت عالیہ لاہور نے عدم ثبوت کی بناء پر پانچ ملزمان کو رہا کر دیا اور ایک کی سزا عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ بعد میں عدالت اعظمی نے اس فیصلہ کو برقرار رکھا۔[1] واضح رہے کہ رہا ہونے والے پانچ افراد اب تک سات سال کی سزا کاٹ چکے ہیں۔ عدالت کے فیصلہ پر پاکستان کی "انسانی حقوق" انجمان نے مایوسی کا اظہار کیا۔[2]

مختاراں کے زنا کا شکار ہونے کے بعد اس واقعہ کے خلاف مختلف تنظیموں نے انصاف کے لیے مہم چلائی اور مختاراں کو مجرموں کو سزا دلوانے کے لیے کوشش پر سراہا گیا۔ مغربی ممالک نے پاکستان میں خواتین کے حقوق کے نام پر مختاراں مائی کی زبردست پذیرائی کی۔

حوالہ جات[ترمیم]