مختاراں مائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مختاراں مائی
Mukhtaran Mai2005.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1972 (عمر 45–46 سال)[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
شوہر ناصر عباس گبول (شادی. 2009)
عملی زندگی
پیشہ حامی حقوق نسواں  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

مختاراں مائی (اصل نام 'مختاراں بی بی') کو پاکستان کے پنجاب کے گاؤں میرانوالہ کی پنچایت کے حکم پر 2002ء میں زنا بالجبر کا نشانہ بنایا گیا۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے چھ افراد کو اس الزام میں موت کی سزا سنائی۔ عدالت عالیہ لاہور نے عدم ثبوت کی بنا پر پانچ ملزمان کو رہا کر دیا اور ایک کی سزا عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ بعد میں عدالت عظمی پاکستان نے اس فیصلہ کو برقرار رکھا۔[3] واضح رہے کہ رہا ہونے والے پانچ افراد اب تک سات سال کی سزا کاٹ چکے ہیں۔ عدالت کے فیصلہ پر پاکستان کی "انسانی حقوق" انجمان نے مایوسی کا اظہار کیا۔[4]

مختاراں کے زنا کا شکار ہونے کے بعد اس واقعہ کے خلاف مختلف تنظیموں نے انصاف کے لیے مہم چلائی اور مختاراں کو مجرموں کو سزا دلوانے کے لیے کوشش پر سراہا گیا۔ مغربی ممالک نے پاکستان میں خواتین کے حقوق کے نام پر مختاراں مائی کی زبردست پزیرائی کی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/137257171 — اخذ شدہ بتاریخ: 15 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w64k0twh — بنام: Mukhtaran Bibi — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. "مختاراں مائی فیصلہ، پانچ ملزمان رہا، ایک کو عمر قید"۔ بی بی سی موقع جال۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 اپریل 2011۔ 
  4. "Mukhtaran Mai: the other side of the story"۔ دی نیوز۔ 30 اپریل 2011ء۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 جولائی 2011۔