مخدوم ابو القاسم نقشبندی ٹھٹوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مخدوم ابو القاسم نقشبندی ٹھٹوی
معلومات شخصیت
مقام پیدائش ٹھٹہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 10 اپریل 1726  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ٹھٹہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ صوفی،  عالم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی،  فارسی،  سندھی زبان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

مخدوم ابوالقاسم نقشبندی ٹھٹوی المعروف بہ حضرت نقشبندی سندھی (وفات: 7 شعبان 1138ھ مطابق 10 اپریل 1726ء) سندھ میں سلسلہ نقشبندیہ کے جلیل القدر بزرگ، صوفی اور عالم شخصیت تھے۔

سوانح[ترمیم]

سلسلہ نقشبندیہ کی تعلیمات[ترمیم]

آپ کا اسم گرامی ابو القاسم اور لقب نورالحق تھا جو آپ کے مرشد شاہ سیف الدین قدس سرہ نے دِیا تھا۔ لیکن سندھ میں آپ حضرت نقشبندی صاحب کے نام سے معروف و مشہور ہوئے۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ ابتداً پورے سندھ میں سلسلہ نقشبندیہ کا وجود نہیں تھا بلکہ سارے سندھ میں سلسلہ قادریہ اور سلسلہ سہروردیہ پھیلا ہوا تھا۔ اگرچہ سلسلہ چشتیہ کا سندھ میں وجود تو تھا مگر اُس کی اشاعت اِس قدر نہ تھی۔ اُس وقت سندھ میں صرف سلسلہ نقشبندیہ کے ایک بزرگ حضرت مخدوم آدم نقشبندی تھے مگر لوگ سلسلہ نقشبندیہ کی طرف متوجہ نہ ہوئے تھے۔ مخدوم ابو القاسم جب سرہند سے خرقہ خلافت حاصل کرکے سندھ تشریف لائے تو آپ نے اِس سلسلے کو سندھ میں عام کرنے کی عظیم ترین جدوجہد کی۔ آپ روزانہ مزدوروں، معماروں، لکڑی فروخت کرنے والوں اور سبزی فروشوں کو طلب کرتے اور سلسلہ نقشبندیہ کی تعلیم سے آگاہ کرتے۔ شام کو جب یہ لوگ رخصت ہونے لگتے تو ہر ایک کو اُن کی روزانہ کی اُجرت کے مطابق راقم عطا کرتے۔ آہستہ آہستہ تعلیم یافتہ اور غیرتعلیم یافتہ لوگ بھی آپ کے پاس جمع ہونے لگے۔ یہ لوگ کہا کرتے تھے کہ یہ سلسلہ بھی نیا ہے، طریقہ تعلیم بھی نیا ہے۔ جب سلسلہ نقشبندیہ سندھ میں عام ہو گیا اور لوگوں کا شعور بیدار ہوا تو حضرت مخدوم نے یہ طریقہ عطا مسدود کر دیا اور آپ کو لوگ حضرت نقشبندی صاحب کہنے لگے اور آپ اِسی نام سے مشہور ہوئے۔[1]

تعلیم و تربیت[ترمیم]

ابتدا میں مخدوم ابو القاسم نے قرآن مجید حفظ کیا۔ بعد ازاں علوم ظاہریہ کی تکمیل کی۔ پھر علوم باطنیہ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ شروع میں آپ چند روز سندھ کے مشہور نقشبندی بزرگ حضرت شیخ مخدوم آدم نقشبندی کی خدمت میں رہے اور اُن سے اِکتساب فیض کیا۔ اُسی زمانے میں ایک روز شیخ مخدوم آدم نے آپ کے جوہر قابل کو دیکھتے ہوئے کہا: میاں صاحبزادے، تم میں نہایت عمدہ صلاحیت ہے، اگر تم سرہند چلے جاؤ تو شاید وہاں تم اپنی بلند اِستعداد کے مطابق اِستفادۂ فیوض و برکات کرسکو۔ شیخ آدم کی زبانِ مبارک سے یہ نوید سن کر آپ سرہند کے لیے روانہ ہوئے۔ سرہند میں وارد ہوئے تو وہاں اُن دِنوں حضرت شاہ سیف الدین (جو حضرت مجدد الف ثانی کے پوتے تھے) کی شہرت عام تھی۔ شاہ سیف الدین حضرت مجدد الف ثانی کے مزار پر حاضری دینے کے لیے پالکی کے اِنتظار میں تھے، ابھی مخدوم ابو القاسم چند قدم کے فاصلے پر ہی تھے کہ اُنہوں نے آپ کو دور سے دیکھ کر فرمایا: ’’دادا صاحب ، آپ کی سفارش فرماتے ہیں‘‘۔ یہ سنتے ہی مخدوم ابو القاسم فوراً ہی قدم بوس ہوئے اور حضرت شاہ سیف الدین نے کہا: تم ہمارے ساتھ زیارت کو چلا کرو۔ چنانچہ آپ کا یہ معمول ہو گیا کہ آپ ہمیشہ حضرت شاہ سیف الدین کے ساتھ خواجہ مجدد الف ثانی کے مزار پر حاضر ہوا کرتے تھے۔[2] حضرت شاہ سیف الدین کے حکم پر سندھ آئے اور یہاں سلسلہ نقشبندیہ کی تعلیمات کے لیے مصروف ہو گئے۔مخدوم ابو القاسم بے حد مستجاب الدعوات تھے اور حاکمان سندھ آپ سے دعا کروانے کی خاطر حاضر ہوا کرتے تھے۔[3]

وفات[ترمیم]

مخدوم ابوالقاسم نقشبندی کی وفات بروز بدھ، 7 شعبان 1138ھ مطابق 10 اپریل 1726ء کو ہوئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تکملہ مقالات الشعرا۔ صفحہ 184/ 185۔   مطبوعہ سندھی ادبی بورڈ،  کراچی
  2. اعجاز الحق قدوسی: تذکرہ صوفیائے سندھ، صفحہ 52/53۔ مطبوعہ کراچی، 1959ء
  3. اعجاز الحق قدوسی: تذکرہ صوفیائے سندھ، صفحہ 56۔ مطبوعہ کراچی، 1959ء