مخدوم بلاول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
صوفی مخدوم بلاول
Shrine of Makhdoom Bilawal shaheed.JPG
مزارِ مخدوم بلاول
شہید، صوفی مخدوم
پیدائش 856ھ بمطابق 1451ء
سندھ، پاکستان (سلطنتِ سما)
وفات 929ھ بمطابق 1451ء
باغبان
احترام در اسلام
متاثر شخصیات سید حیدر سنی
اصناف شاعری
مخدوم بلاول کا مزار

مخدوم بلاول (انگریزی: Makhdoom Bilawal) ( پیدائش: 856ھ بمطابق 1451ء – وفات: 929ھ بمطابق 1451ء) المعروف شہید مخدوم بلاول سندھ پاکستان کے محب وطن صوفی بزرگ، جید عالم اور فقیہ تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

مخدوم بلاول کی مسجد

مخدوم بلاول شہید 856ھ بمطابق 1451ء میں حسن سمو کے گھر میں موجودہ ضلع جامشورو کے شہر ٹلٹی میں پیدا ہوئے۔ مخدوم کا تعلق سندھ کے سمہ سلاطین حکمرانوں سے تھا۔ ان کے آباء اجداد سندھ میں سومرہ خاندان کی حکمرانی کے دور میں موجودہ لسبیلہ بلوچستان کے حکمران تھے جہاں سے نقل مکانی کرکہ ٹلٹی میں آباد ہوئے۔ مخدوم خاحب فقیری صفت کے مالک تھے۔ پچپن میں اسلامی اور دینی تعلیم کی طرف راغب ہوئے۔ شروعاتی تعلیم سید شہاب الدین بخاری کے مدرسہ میں سید نور حسین شاہ بخاری سے حاصل کی۔ مخدوم صاحب نے ناظرہ قرآن اور فقہ کی کتب پڑھنے کے ساتھ ساتھ عربی اور فارسی کی تربیت حاصل کی۔ مخدوم صاحب بڑے ذہین تھے اور قلیل عرصے میں اسلامی اور دینی علوم حاصل کر کہ بڑے عارف، فقیہ اور عالم بنے اور سندھ بھر میں پزیرائی حاصل کی۔ اس زمانے میں دہلی کے مشہور مصنف اور شاعر مخدوم جمالی لکھتے ہیں کہ سندھ میں تین روحانی رہبر اور عالم ہیں۔ ایک لال شہباز قلندر دوسرے مخدوم بلاول اور تیسرے مخدوم نوح ہیں۔ بعد میں مخدوم بلاول ٹلٹی سے ہجرت کرکہ موجودہ ضلع دادو میں گاؤں باغبان میں رہائش پزیر ہوئے۔ باغبان موجدہ گاؤں مخدوم بلاول کا پرانہ نام ہے جو دادو کے شمال میں 10 کلومیٹر کے فاصلے پر انڈس ہائی وے کے قریب واقع ہے۔ یہاں مخدوم صاحب نے شاندار مسجد تعمیر کروائی جو آج بھی موجود ہے۔ مسجد کے ساتھ مدرسہ قائم کر کے درس و تدریس کا کام شروع کیا۔ مخدوم صاحب مکتب چلانے اور ذریعہ معاش کے لیے چرخوں پر کپڑا بنانے کا کام شروع کیا۔ طلباء کے ساتھ خود بھی کام کیا کرتے تھے۔ مخدوم بلاول کے کئی طلباء اور پیروکار تھے۔ مخدوم صاحب عام عوام کے ہمدرد اور محب وطن تھے جس وجہ سے عام آدمی بھی اس کے عقیدتمند تھے۔[1][2]

شہادت[ترمیم]

مخدوم بلاول شہید کی شہادت کے بارے میں تاریخ میں تذکرہ موجود ہے۔ 1521ء میں شاہ بیگ ارغون نے سندھ پر حملہ کر کہ ٹھٹہ پر قبضہ کیا۔ باغبان پر حملے کی مخدوم، اس کے طلباء اور عقیدت مندوں نے شاہ بیگ ارغون کی شدید مزاحمت کی۔ بعد میں سازش کے ذریعے شاہ بیگ ارغون نے مخدوم کو 929ھ بمطابق 1451ء میں شہید کیا گیا۔

مزار[ترمیم]

مخدوم بلاول شہید کا مزار ضلع دادو کے گاؤں مخدوم بلاول کے قبرستان میں واقع ہے۔ ہر ماہ کے پہلے جمع پر مخدوم صاحب کے مزار پر میلے کی طرح تقریبات منعقد ہوتی ہیں جسے سندھی میں “ماہ پیرو جمعو” کہتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]