مخدوم صدر الدین قتال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مخدوم سیّد صدرالدین شاہ قتال المعروف نواب سائیں
Nawab saieen.jpg
نواب سائیں کا مقبرہ۔
لقب•سلطان العارفین
•شیخ المشائخ
•پیر طریقت
•قتال
•قطب الاقطاب
ذاتی
پیدائش662ھ
بمقام راجگڑھ ، ملتان، پاکستان
وفات
مدفنتحصیل دنیا پور، پاکستان Flag of پاکستان
مذہباسلام
سلسلہسلسلہ سہروردیہ و سلسلہ قادریہ
مرتبہ
دوربارہویں/ تیرہویں صدی
پیشروجلال الدین سرخ بخاری
جانشینشیخ ملہی قتال و دیگر۔

پیر طریقت ، قطب الاقطاب، سلطان العارفین حضرت مخدوم سیّد صدر الدین شاہ قتال ؒ المعروف نواب سائیں برصغیر پاک و ہند کے مشہور و معروف روحانی بزرگ ہیں۔ آپ کا مزار تحصیل دنیا پور، پاکستان سے دس کلو میٹر کی مسافت پر "قطب پور" نامی گاؤں میں موجود ہے۔آپ مادرزاد ولی تھے اور علوم ظاہری و باطنی سے مالا مال تھے۔ آپ برصغیر پاک و ہند میں سلسلہ قادریہ کے بانی اور عظیم روحانی بزرگ حضرت سیّد مخدوم عبدالرشید حقانی کے فرزند ہیں۔ آپ کا زمانہ اولیائے کرام کا زمانہ مشہور ہے۔ مشہور بزرگ شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی، شیخ فرید الدین گنج شکر، شاہ شمس تبریزی،لال شہباز قلندر، جلال الدین رومی اور جلال الدین سرخ بخاری، بو علی شاہ قلندر، حضرت صدر الدین عارف ان کے ہم عصر اولیاء تھے۔

ولادت[ترمیم]

آپ 7 شعبان المعظم سنہ635ھ کو ملتان کے قریب مخدوم رشید میں عظیم روحانی بزرگ سیّد مخدوم عبدالرشید حقانی اوربی بی راج کنول (راجگڑھ کے راجہ رائے الونہ کھچی کی دختر) کے ہاں پیدا ہوئے۔آپ کا نام "صدر الدین" رکھا گیا۔ بعض کتب میں آپ کا نام "ایوب" بھی درج ہے لیکن اس کی کوئی مستند معلومات میسر نہیں ۔ خاندانی ملفوظات اور دیگر کتب میں آپ کا نام "صدر الدین" ہی درج اور معروف ہے۔آپ مادرزاد ولی تھے۔ ایام طفولیت میں طبقات ارضی و سماوی کی خبر دیتے تھے اور علم باطنی حضرت حقانیؒ سے حاصل کرتے رہے۔

"حضرت حقانیؒ کو خواب میں سرور کائنات حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی اس عقد سے متعلق بشارت ہوئی کہ اس بی بی سے جو فرزند پیدا ہو گا وہ "قطب ثانی" ہوگا۔ اور بعد میں حضرت حقانی ؒکی نسل کثیر تعداد میں انہی بزرگ سے پھیلی۔"

نسب[ترمیم]

آپ کا خاندانی تعلق ساداتِ  بنی ہاشم  سے ہے۔

ابتدائی تعلیم و تربیت[ترمیم]

حضرت مخدوم سیّد صدر الدین شاہ قتال نے خالص علمی و روحانی اور صوفیانہ ماحول میں آنکھ کھولی اور بہت کم عمری میں مروجہ علوم کے مراحل طے کیے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم سیّد مخدوم عبدالرشید حقانی سے ہی حاصل کی ۔

بیعت و خلافت[ترمیم]

آپ نے اول پنے والد سیّد مخدوم عبدالرشید حقانی سے روحانی و باطنی فیض حاصل کیا۔ اور بعد ازاں اپنے والد سیّد مخدوم عبدالرشید حقانی کی خواہش سے آپ کو سید جلال الدین سرخ بخاری نے خلعت ارادت سے نوازا۔ آپ اپنے والد کی وفات کے بعد سلسلہ سہروردیہ سے منسلک رہے ۔ اس کے علاوہ بھی آپ مختلف اولیاء کرام و دیگر علما کی محافل اور صحبت میں رہے اور فیض حاصل کرتے رہے۔

اولاد[ترمیم]

  • مخدوم سیّد محمود شاہ ؒ۔
  • مخدوم سیّد رکن الدین شاہ ؒ۔
  • مخدوم سیّد عبد الله شاہؒ (بعض شجروں میں "عبد الله" کا نام "شمس الدین" بھی درج ہے )۔
  • مخدوم سیّد زین الدین شاہ ؒ (بعض افراد نے "زین العابدین" بھی لکھا لیکن صحیح نام "زین الدین" ہے)۔
  • دیگر

برادران[ترمیم]

  • مخدوم سیّد سلطان محمد شاہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ۔
  • مخدوم سیّد سلطان ابو بکر شاہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ (والد ماجد معروف روحانی بزرگ حضرت مخدوم سلطان ایوب قتالؒ)۔
  • مخدوم سیّد حسن شاہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ۔

وصال[ترمیم]

روایت ہے کہ آپ اور آپ کے پیارے بھتیجے حضرت مخدوم سلطان ایوب قتالؒ کا وصال ایک ہی دن ؁ 700 ہجری میں ہوا۔ (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ)

قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک دن حضرت قطب الاقطاب مخدوم سیّد صدر الدین قتالؒ نے اپنے بھتیجے مخدوم سلطان ایوب قتالؒ کو خط لکھوا بھیجا کہ "برخوردار تمھارے عم زاد بھائی مخدوم سیّد محمود کی جعد تراشی کا ارادہ ہے ، اور میں چاہتا ہوں کہ حضور والد صاحب کی خانقاہ پر جاکر یہ خاندانی رسم ادا کروں ۔ پس تم یہ خط ملتے ہی مع اہل و عیال تیار ہو کر یہاں پہنچو۔مخدوم سلطان ایوب قتالؒ محترم چچا کا خط ملتے ہی مع اہل و عیال آپ کی خدمت میں پہنچے اور مصافحہ و معانقہ کے بعد عرض کیا حضور میں تابعدار ہوں ۔ چچا بھتیجے کے آپس میں افہام و تفہیم اور کچھ وجوہات کی بناء پر مخدوم محمود کی جعد تراشی کی رسم اپنے ہی علاقے میں کرنے پر اتفاق ہوا۔ جعد تراشی کی رسم کے بعد مخدوم سلطان ایوب قتالؒ نے چچا سے واپسی کی اجازت چاہی ۔مخدوم سیّد صدر الدین قتالؒ نے فرمایا کے ابھی کچھ دیر رکو، جنگل سے بھینس چر کر آجائے تو اس کا دودھ پی کر جانا۔جب دیر ہوئی اور بھینس واپس نہ آئی تو حضرت مخدوم سلطان ایوب قتالؒ نے عرض کی چچا! بھینس جو اب تو نہیں آئی معلوم ہوتا ہے اسے جنگل میں شیر کھا گیا ہے۔مخدوم سیّد صدر الدین قتالؒ نے جواب دیا اے بھتیجے! بددعا نہ کرو بھینس آجائیگی۔تھوڑی دیر بعد حضرت کے محافظ نے آپ کی خدمت میں آکر اطلاع دی کے ہم شہر کے قریب پہنچنے والے تھے کہ کہیں سے ایک شیر نے آکر ہم پر حملہ کر دیا اور آپ کی بھینس کوہلاک کر کے جنگل کی طرف بھاگ گیا، اور محافظ نے معافی چاہی۔ قطب الاقطاب مخدوم سیّد صدر الدین قتالؒ نے اپنے بھتیجے سے کہا اے ایوب! تو نے بددعا کی اور بھینس شیر کو کھلا دی۔ تجھے موت نہ آئی؟ مخدوم سلطان ایوب قتالؒ نے احتراما کھڑے ہو کر چچا سے کہا اے چچا! جو قسمت کو منظور ہوتا ہے۔ آپ کی بھینس کے ساتھ یہی ہونا منظور تھا۔ لیکن اے چچا! آپ بندہ سے قبل وفات پائینگے اور اسی دن یہ خادم بھی انشاء الله آپ کے پیچھے ہوگا۔

اس واقعہ کے کچھ دن بعد ایک دن قطب الاقطاب مخدوم سیّد صدر الدین قتالؒ نے اپنےسبھی بیٹوں کو جمع کیا اور کل مال مویشی اپنے بیٹوں میں برابر تقسیم کردیا ۔ اور اگلی صبح 27 رمضان المبارک کو فجر کی نماز کے بعد دار فانی سے دار حقیقی کو سدھارتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملے۔ آپ کے دفن ہونے سے تین پہر پیھے چوتھے پہرمخدوم سلطان ایوب قتالؒ بھی آپ کے پیچھے ہو لئے اور وفات پائی۔ (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ)


مزار و مقبرہ[ترمیم]

آپ کا مزار مبارک تحصیل دنیا پور، لودھراں سے 5 کلومیٹر کی مسافت پر "قطب پور" نامی گاؤں میں موجود ہے۔ آپ اور آپ کے بھتیجے حضرت مخدوم سلطان ایوب قتالؒ کے مقبروں کو سیدھی سڑک ملاتی ہے ۔
آپ کے عرس کے موقعے پر ایک میلے کا اہتمام ہوتا ہے، جس میں پاکستان بھر سے عقیدت مند حاضر ہوتے ہیں ۔

تحقیق و ترتیب : مخدوم سیّد عدنان شاہ

حوالہ جات[ترمیم]

  • تذکرہ المخدوم ، جلد اول۔
  • تاریخ ملتان جلد اول ،باب مخدوم عبدالرشید حقانی، ناشر قصر الادب۔
  • منبع البرکات ملفوظ شیخ شمس الدین (بحوالہ ازواج و اولاد مخدوم عبدالرشید حقانی رحمتہ الله علیہ)۔
  • احوال و آثار مخدوم المسلمین حضرت مخدوم عبد الرشید حقانی رحمتہ اللہ علیہ، باب ازواج و اولاد۔