مخدوم عبد الرشید حقانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مخدوم عبد الرشید حقانی
معلومات شخصیت

سلطان العارفین حضرت مخدوم سیّد عبد الرشید حقانی برصغیر میں سلسلہ سہروردی کے عظیم روحانی بزرگ تھے۔ آپ کا مزار ملتانکے قریب آپ کے نام سے منسوب قصبے مخدوم رشید میں مرجع خلائق ہے۔ اس قصبے کا پرانا نام "ماڑی پور" تھا۔ آپ علوم ظاہری و باطنی سے مالا مال تھے، بیک وقت حافظ قرآن، قاری، مفسر، عالم، محدث، عارف، ولی، غوث زماں تھے۔ پورے برصغیر میں نہ صرف آپ کا شہرہ تھا بلکہ صدق و عدل کی صفات کی وجہ سے آپ کا لقب حقانی مشہور ہو گیا تھا۔ آپ کا شمار ان ہستیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ساری زندگی اسلام کی سربلندی اور عشق مصطفٰی کی شمع روشن کرتے ہوئے گزاری، جن کی کوششوں سے لاکھوں مسلمان علم دین کی دولت سے سرفراز ہوئے، آپ نے جودو سخا کی وہ ارفع مثال قائم کی کہ معاشرے پر سماجی، معاشرتی اور معاشی مثبت تبدیلیاں رونماں ہونے لگیں۔ توکل علی اللہ، عشق رسول پاک، عدل، تکریم انسانیت، آپ کی تعلیمات کی اصل متاع ہیں۔ آپ کا زمانہ اولیائے کرام کا زمانہ مشہور ہے۔

ولادت[ترمیم]

آپ کی ولادت سنہ 569ھ میں کوٹ کروڑ (جس کا پرانا نام دیپال گڑھ تھا) میں ایک کامل بزرگ اور ولی الله اور قاضی القضاء مخدوم سیّد وحید الدین احمد غوث اور سیّدہ جنت جیلانی (آپ بی بی شیخ سیّد عبد القادر جیلانی کی نسل سے تھیں) کے ہاں ہوئی۔آپ کی پیدائش کے وقت ہی بزرگی کے آثارنمایاں تھے۔ آپ کے والدین نے آپ کا نام "رشید الدین" رکھا۔

نسب[ترمیم]

آپ کا خاندانی تعلق ساداتِ بنی ہاشم سے ہے۔

ابتدائی تعلیم و تربیت[ترمیم]

حضرت مخدوم عبد الرشید حقانی نے خالص علمی و روحانی اور صوفیانہ ماحول میں آنکھ کھولی اور بہت کم عمری میں مروجہ علوم کے مراحل طے کیے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد حضرت مخدوم سید وحید الدین احمد غوث اور مولانا ناصر الدین بلخی کے زیر سایہ کوٹ کروڑ میں ہی حاصل کی اور 15 سال کی عمر میں قرآن پاک کا حفظ مکمل کر لیا۔ بعد ازاں آپ نے ملتان کا رخ کیا جو اس وقت عالم اسلام کا ایک عظیم گڑھ بن چکا تھا۔ بعد ازاں مزید حصول علم کے لیے آپ کچھ عرصۂ بعد اپنے سات خدمت گاروں کے ہمراہ ملتان سے مکہ، مدینہ، خراسان، بغداد،بخارا، ہمدان، بلخ کا سفر کیا۔ مکہ پہنچنے کے بعد بیت اللہ کی سعادت حاصل کی اور مدینہ میں روضہ رسول ﷺ کی زیارت کی اور پانچ سال تک مدینہ میں ہی رہے اور وہاں موجود جید علما سے علم حاصل کرنے کے بعد مختلف وفود کو حدیث، فقہ سے متعلق بھی درس دیتے رہے۔ پانچ سال مدینہ میں رہنے کے بعد آپ واپس مکہ تشریف لے گئے اور حج کی سعادت حاصل کرنے کے بعد بیت المقدس کا رخ کیا اور وہاں انبیا کرام کے مزارات پر حاضری دی اور اس وقت کے بڑے بڑے علما مشائخ سے ملاقاتیں کیں اور فیض پایا،اور قبلہ اول میں کچھ عرصہ قیام کیا۔

خاندانی پس و منظر[ترمیم]

مخدوم عبد الرشید حقانی کے آبا ؤ اجداد کا تعلق سادات بنو ہاشم سے تھا۔آپ کے آباؤ اجداد میں سے ایک بزرگ ہستی جو سلطان شاہ حسین کے نام سے موسوم ہے، رفقا سلطان سبکتگین و محمود غزنوی میں شامل تھی، جنھیں ان بادشاہوں کے دربار میں ایک مقام حاصل تھا، سلطان محمود غزنوی کے تیسرے حملے کے وقت اس کے ہمراہ ہند میں وارد ہوئی۔ سلطان محمود غزنوی نے جا بجا اپنے قلعے اور چھاؤنیاں قائم تو ایک قلعہ کوٹ کروڑ میں بھی قائم کیا۔ قلعہ کوٹ کروڑ کی وجہ تسمیہ اس میں ایک کروڑ بار سورہ مزمل کی تلاوت کرنا ہے اور اب یہ جگہ حضرت کی اولاد میں سے ایک معروف روحانی بزرگ سید صدر الدین محمد یوسف المعروف لعل عیسن کروڑ کے نام سے مشہور ہے۔ سلطان محمود غزنوی نے یہ قلعہ سلطان شاہ حسین سے عقیدت و احترام رکھتے ہوئے آپ کے سپرد کیا اور ایک کروڑ کے علاقے میں ایک بڑی جاگیر آپ کے حوالے کی۔ آپ بڑے صاحب کمال اور بزرگ ہستی تھے، غریبوں کی خدمت کرتے اور ظالم کے ساتھ سختی سے پیش آتے۔ کروڑ کے علاقے میں آپ کے خاندان کو بڑی عزت و تقریم حاصل تھی۔

بیعت و خلافت[ترمیم]

بیت المقدس میں علما مشائخ کی صحبت میں رہنے کے بعد آپ جب ہمدان پہنچے تو آپ بے مثل عالم کی حثیت حاصل کر چکے تھے۔ اس وقت ہمدان شریف کے اندر سیّد علی ہمدانی موجود تھے جن سے ملاقات کے کی خاطر آپ کو اشارہ ملا۔، مخدوم عبد الرشید حقانی جب آپ کی بارگاہ عالیہ میں حاضر ہوئے تو انہوں نے دور سے دیکھ کر فرمایا "اے سیدی آپ نے اتنی دیر لگادی، میں کئی دنوں سے آپ کا منتظر ہوں"۔ آپ نے ادب سے گردن جھکا لی اور شیخ کامل نے حلقہ ارادت میں شامل کر لیا۔ آپ تین سال تک بطور خلیفہ اپنے مرشد کامل کی خدمات میں رہے اور بعد ازاں اپنے مرشد کامل کے حکم پر ملتان سے جانب مشرق آکر قیام کیا۔ یہاں آپ نے ایک عالی شان مدرسہ کی بنیاد ڈالی، جہاں حصول علم کی خاطر لوگ دور دور سے یہاں آتے اور اپنی پیاس بجھاتے۔ آپ تا دم مرگ درس قران پاک اور حدیث مبارکہ کی تعلیم دیتے رہے۔ آپکے مرشد حضرت سیّد علی بن یوسف ہمدانی نے آپ کو دنیاوی شہرت سے دور رہنے کی ہدایت فرمائی اور ساتھ ہی کہا کہ اپنا کوئی گدی نشین مخصوص نہیں کرنا، یہی وجہ ہے کہ آج تک آپ کی درگاہ پر باقاعدہ کوئی گدی نشین موجود نہیں اور آپ کی آل اولاد ہی تمام امور سر انجام دیتی ہے ۔

سیّد علی ہمدانی نے آپ کے متعلق فرمایا " یہ میرے سلسلے کا مہتاب ہو گا اور سلسلہ بھی وسعت پزیر ہوگا"

بہن بھائی[ترمیم]

جامع الکرامات ( ترجمہ منبع البرکات) میں آپ کے برادران و خواہران کا تذکرہ اس طرح موجود ہے:

  • مخدوم سیّد عبد الرشید حقانی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ۔
  • مخدوم سیّد محمد عبد الرحمن شاہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ۔
  • مخدوم سیّد محمد موسیٰ شاہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(المعروف پیر موسی نواب، نواب الاولیاء، خلیفہ شیخ السلام مخدوم بہاؤ الدین زکریاؒ)۔
  • مخدوم سیّد شہاب الدین شاہ (المعروف ڈیڈھا لعل)۔
  • مخدوم سیّد محمد داول دریا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(المعروف حاجی شاہ)۔
  • مخدوم سیّد محمد طاہر شاہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(المعروف ظاہر بگا شیر)۔
  • مخدوم سیّد محمد سعید الدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ (المعروف شیخ سادھن شہید)۔
  • مخدوم سیّد محمد فقیر علی شاہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(المعروف پیر ملا فقیر)۔
  • بی بی مخدومہ رشیدہ خاتونؒ (زوجہ شیخ السلام مخدوم بہاؤالدین زکریاؒ، والدہ ماجدہ مخدوم صدر الدین عارفؒ، دادی شاہ رکن الدین عالمؒ نوری حضوری)۔

قرامطیوں کے خلاف تحریک[ترمیم]

ابو محمد مشتاق عکس و تحریر کے مقالہ مخدوم عبد الرشید حقانی رحمتہ اللہ میں لکھتے ہیں، یہ اس دور کی بات ہے کہ جب مخدوم عبد الرشید حقانی کوٹ کروڑ میں جہاں فرائض سلطنت نبھا رہے تھے وہاں اپنے آباؤ اجداد کی طرح علم و عمل کے ذریعے دین اسلام کی اشاعت و تبلیغ میں پوری طرح مصروف تھے یہی وجہ ہے کہ اس دور میں کوٹ کروڑ میں قرامطہ اثرات نہ پھیل سکے۔ یہ حقیقت ہے کہ مخدوم عبد الرشید حقانی کی موجودگی میں قرامطیوں کو اپنے عقائد و نظریات کی اشاعت کا موقع نہ مل سکا البتہ ملتان میں قرامطیوں نے اپنے مذہب کی خوب اشاعت کی اس لیے ملتان کے گرد و نواح اور دیہی علاقہ جات میں قرامطہ کے نظریاتی اثرات موجود تھے۔ ایک مرتبہ 1191ء شہاب الدین غوری ایک لاکھ ستر ہزار فوج لیے غزنی سے روانہ ہوا اس دوران میں اس کا گزر لیہ سے ہوا اسے بتایا گیا اس وقت یہاں کی سربراہ حکمران شخصیت 18 سال کے نوجوان عالم دین ہے جو کوٹ کروڑ لیہ میں قیام پزیر ہے۔ شہاب الدین غور ی نے مخدوم حقانی سے ملاقات کی اور ملتان میں قرامطی اثرات پھیلنے کے خدشہ کا اظہار کیا اور ساتھ ہی آپ سے ملتان منتقل ہونے کی گزارش کی اور اس پر مخدوم حقانی کو اس نے آمادہ کر لیا۔ سلطان غوری کا مخدوم حقانی کو ملتان منتقل کرنے کا واحد مقصد قرامطیوں کا قلع قمع کرنا تھا۔ مخدوم حقانی سلطان غوری کی درخواست پر کوٹ کروڑ کی جاگیرات سے دست بردار ہو کر ملتان قیام پزیر ہو گئے اس نے ملتان میں کوٹ کروڑ کی سربراہی کے بدلے میں آپ کو وسیع جاگیر عطا کی۔ ملتان منتقل ہونے کے ساتھ ہی کوٹ کروڑ میں قائم مدرسہ بھی ملتان منتقل کر دیا۔ ملتان میں آپ کے علم و رشد کا شہرہ دور دور تک ہوا اور لوگ آپ کے گرد جوق در جوق جمع ہونے لگے۔ تاریخ دان نور احمد خان فریدی لکھتا ہے کہ خصوصی حالات کی بنا پر آپ (مخدوم حقانی)کوٹ کروڑ سے ملتان ہجرت کر آئے اور قلعہ قدیم میں اس مقام پر قیام فرمایا جہاں اس وقت حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی سہروردی کا مزار ہے۔ آپ کے ملتان میں قیام کے دوران میں قرامطہ تحریک کو ہمت نہ ہو سکی۔

برصغیر کی پہلی اقامتی درس گاہ کا قیام[ترمیم]

قرامطیوں سے نمٹنے کے بعد مخدوم حقانی نے ملتان سے جانب مشرق 28 کلومیٹر کے فاصلے پر ابو الفتح مڑل سے قطعہ اراضی خرید کر جنگل و بیابان میں ایک مسجد اور دینی و اخلاقی درس گاہ کی بنیاد رکھی جسے برصغیر میں پہلی اقامتی درس گاہ ہونے کا اعزاز و شرف عطا ہوا۔ (پہلے یہاں نرسنگ پسرایسر دیو کا ستھان تھا) اس درس گاہ کا مقصد علمائے حق و مبلغین اسلام اور صوفیائے کرام کی ایک ایسی جماعت کی آبیاری کرنا تھی جو لوگوں کی اخلاقی و نظریاتی روحانی ودینی تربیت کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہو، یہ درس گاہ جلد ہی اقامتی یونیورسٹی کی حیثیت اختیار کر گئی۔ اسی درس گاہ میں علوم دنیاوی کے ساتھ ساتھ علوم دینی فلسفہ و منطق معقولات و منقولات کا علم بھی سکھایا اور پڑھایا جاتا تھا۔ نہایت قلیل عرصہ میں مخدوم حقانی کے علم و رشد اور فقر ولایت کا چرچا چہار دانگ عالم میں پھیل گیا۔ اکناف عالم سے سعید روحیں کھچ کھچا کر یہاں جمع ہونے لگیں حتیٰ کہ قال ﷲ و قال الرسول ﷲ سے ملتان کے در و دیوار گونجنے لگے۔ آپ کی مجلس میں علماءمشائخ جمع ہوا کرتے تھے۔ ایک بار ایسا ہوا آپ کی مجلس میں علمائے مشائخ کی ایک جماعت بحث و مناظرہ میں سرگرم تھی حتیٰ کہ سہ پہر گزر گئی کہیں شام کوجا کر اجلاس برخاست ہوا۔ یہ معمول بلاتاخیر روزانہ جاری رہتا تھا۔ یہاں سے فارغ التحصیل علما و فضلاء نے اکناف عالم میں پھیل کر تبلیغ اسلام اشاعتِ دین میں لازوال کردار ادا کیا۔ آپ کی تعلیمات کا عکس آج بھی ان علاقوں کے لوگوں کی تہذیبی و ثقافتی زندگیوں میں نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ آپ کی درسگاہ الگ الگ دو شعبہ جات پر مشتمل تھی۔ ایک شعبہ علوم دینیہ واخلاقی و روحانی تربیت کے لیے مخصوص تھا جبکہ دوسرا شعبہ فلسفہ منطق زبان و بیان جیسے علوم کے لیے خاص تھا۔

لعل شہباز سے ملاقات[ترمیم]

حضرت لعل شہباز قلندر مجزوبانہ اور قلندرانہ طریقہ اختیار کرتے تھے، ملتان کے قاضی کاشانی جو خود بھی عالم تھے لیکن قلندرانہ طریقے کو پسند نہیں فرماتے تھے نے لعل شہباز قلندر پر فتوی جاری کر دیا، لال شہباز قلندر جو اس وقت ملتان کے قریب کسی گاؤں میں موجود تھے، آپ کے کسی مرید نے آپ کو قاضی صاحب کے فتوی سے آگاہ کیا تو آپ بڑے غضبناک ہوئے اور اپنے مریدوں کے ساتھ ملتان کی طرف چل دے۔ شیخ السلام مخدوم بہاؤ الدین زکریا کو کسی نے اطلاع دی کے لال شہباز قلندر نامی کوئی بزرگ قاضی کے فتوی کو سن کر غضبناک ہو کر ملتان تشریف لا رہے ہیں، مخدوم بہاؤ الدین زکریا نے کسی سے کہا کے انھیں ہماری محفل میں لے آو، اس وقت اس محفل میں مخدوم عبد الرشید حقانی بھی موجود تھے۔ آپ نے اپنے بیٹے مخدوم حسن سے کہا کے جاؤ اور قلندر کو احترام سے ہمارے پاس لے آؤ، جب قلندر خانقاہ پر پہنچے تو عظیم بزرگ ہستیوں کی موجودگی میں اپنا غصہ بھول بیٹھے۔ لعل شہباز قلندر اور مخدوم حقانی ایک دوسرے سے بڑے اخلاق اور پیار سے پیش آئے۔

وصال[ترمیم]

مخدوم حقانی نے عمر کے آخری حصے میں گوشہ نشینی اختیار کرلی تھی اور ہم وقت یاد الٰہی میں مصروف رہتے اور مریدین سے بھی صرف خاص اوقات میں ملاقات فرماتے۔ ایک دن آپ اپنے حجرے میں یاد الہی میں مصروف تھے، تو ایک نورانی چہرے والے ایک بزرگ ہاتھ میں ایک پھول لیے آپ کے حجرے کے باہر تشریف لائے اور حجرے کے باہر آپ کے پوتے مخدوم مخدوم سلطان ایوب قتال سے مخاطب ہو کر کہا کے یہ پھول حضرت کی خدمت میں پیش کردو، مخدوم سلطان ایوب قتال پہلے تو ہچکچائے اور اس کے بعد وہ پھول لے کر اپنے دادا کی خدمات میں حاضر ہوئے اور سارا ماجرا سنایا۔ مخدوم حقانی نے اس پھول کو سونگھا اور اشارہ سمجھ گئے کہ پروردگار کا بلاوا آگیا ہے۔ آپ نے دو رکعت نفل پڑھی اور آخری سجدے میں (بالآخر 743 ھ) آواز دوست پر لبیک کہتے ہوئے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر دی اور عالم برززخ کا سفر کیا۔ اور یوں آسمان تصوف کا حیات آفریں ستارہ ہم سے جدا ہوا۔ آپ کے نام سے منسوب قصبہ مخدوم رشید میں قائم کردہ مدرسہ سے ملحقہ آپ کے حجرے میں مخدوم سلطان ایوب قتال کے ہاتھوں آپکی تدفین ہوئی۔

مزار[ترمیم]

آپ کا مزار سردار بہادر خان دریشک (راجن پور) نے تعمیر کروایا تھا، جو آپ کے خاص معتقدین میں سے تھا۔

جامع مسجد حقانی[ترمیم]

آپ کے مزار کے ساتھ ہی ایک نہایت عالیشان جامع مسجد جو پانچ بڑے گنبدوں پر مشتمل ہے، ملک بھر میں اپنے منفرد طرز تعمیر کی واحد مسجد ہے۔ جس پر ملتانی کاشی گری کا کام نہایت خوبصورت انداز میں کیا گیا ہے۔

کراماتی چشمہ/آب شفاء[ترمیم]

آپ کے مزار کے نزدیک ایک چشمہ ہے، جو عرس کے موقع پر زائرین کے لیے کھولا جاتا ہے۔ روایت ہے کہ ایک بار جب مخدوم حقانی نے کسی مرض سے شفاء حاصل کی تو اس دوا (بعض کے نزدیک یہ دوا آپ کو آپ کے پیر و مرشد نے دی تھی، بعض کے نزدیک وہ آپ دوا آپ کے خود کے پاس تھی)کو اس کنویں میں پھینک دیا اور اس کے بعد عقیدت مندوں نے اس کنویں کے پانی کو جسمانی بیماریوں سے نجات کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا اور اللہ کے حکم سے شفاء یاب ہوئے۔

ایک دوسری روایت جو "تذکرہ مدینه الاولیاء، مؤلف سید امتیاز حسین قادری" میں ہے کہ حضرت مخدوم نے ایک چاہ لگوایا تھا ۔ اور اس کے متعلق آپ کی دعا یہ ہے کہ جو شخص اس کا پانی پئے گا الله کے حکم سے وہ شفاء یاب ہوگا۔ چنانچہ یہ کنواں سارا سال بند رہتا ہے اور ایام عرس میں اوقا ف کی جانب سے کھولا جاتا ہے جہاں ہزاروں افراد آکر اس کے پانی کو پیتے اور غسل کرتے ہیں۔

عرس[ترمیم]

آپ کا عرس ہر سال 15 جون سے شرو ع ہوتا ہے اور پورا ایک ماہ جاری رہتا ہے۔ آپ کی تعلیمات اجاگر کرنے کی خاطر کانفرنس کا بھی اہتمام ہوتا ہے جس میں ملک کے مشہور و معروف علما محققین شریک ہوتے ہیں۔ آپ کے مزار پر روزانہ ہزاروں زائرین و عقیدت مند فاتحہ خوانی کے لیے حاضر ہوتے ہیں، آپ کا مزار ہر وقت خاص و عام کے لیے کھلا رہتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  • حضرت مخدوم عبد الرشید حقانی رحمتہ اللہ علیہ، جلد اول، حقانی اکیڈمی، مخدوم رشید ملتان۔
  • انوار غوثیہ از مخدوم حسن بخش ، جلد اول(1909ء) صفحہ 13 تا 16 ۔
  • انوار غوثیہ از مخدوم حسن بخش ، جلد اول(1909ء) صفحہ 163۔
  • دختر سید عبدلقادر جیلانی ؒ حوالہ غنیة الطالبین / سیر:20؍447 نیز دیکھئے: فوات الوفیات:2-374۔
  • مکاشفتہ الطریقت ملفوظ نوابیہ (شجرہ اولاد حضرت شاہ وحید الدین احمد غوث رحمتہ الله علیہ، پدر گرامی حضرت مخدوم عبدالرشید حقانی رحمتہ الله علیہ)۔
  • روزنامہ امروز ، 13 دسمبر 1980 پروفیسر بشیر احمد ملک (خاندانی پس و منظر کوٹ کروڑ، سلطان شاہ حسین رحمتہ الله علیہ)۔
  • کتاب حالات مبارکہ "حضرت پیر شاہ موسیٰ نواب رحمتہ اللہ علیہ، جلد اول، صفحہ 2 تا 7۔ (مصنف محمد عبد للہ تونسوی نظامی، رحیم یار خان)۔
  • کتاب تذکرہ حالات حضرت مخدوم عبد الرشید حقانی رحمتہ اللہ علیہ، جلد اول، صفحہ 3 تا 5۔ (پبلشر چشتی پرنٹنگ پریس، کراچی)۔
  • مقالات مولوی محمد شفیع جلد پنجم صفحہ 138 ، مجلس ترقی ادب لاہور 1981ء (مخدوم کمال الدین علی شاہ خوارزمی رحمتہ الله علیہ)۔
  • سید عبدلقادر گیلانی (حیات ۔اثار) تالیف یونس الشیخ ابراہیم السامرانی، (مطبوعہ بغداد) صفحہ 61۔
  • سوانح سلطان العارفین ، غوث زماں حضرت مخدوم عبدالرشید حقانی رحمتہ الله علیہ ۔
  • جامع الکرامات مؤ لف شرف الدین لاہوری ، صفحہ نمبر 10 ۔ (تذکرہ برادران و خواہران)
  • منبع البرکات ملفوظ شیخ شمس الدین (بحوالہ ازواج و اولاد)۔
  • مسالک السالکین جلد دوم صفحہ 509 بحوالہ خم خانہ تصوف از ڈاکٹر ظہور الحسن شارب ، صفحہ 43، صابری دارالکتب لاہور1980ء۔
  • پنجاب گزیٹیر (ملتان ڈسٹرکٹ) کننگھم رپورٹ۔
  • مقالات مولوی محمد شفیع ، جلد پنجم مرتب احمد ربانی صفحہ 194۔علانیہ محمد شاہ (سلطان سلطنت دہلی) ۔
  • نور محمد تھند"تاریخ لیہ" صفحہ 135-
  • ابو محمد مشتاق عکس و تحریر مقالہ مخدوم عبد الرشید حقانی علیہ رحمة۔
  • روزنامہ دنیا، ملتان، 3٠ جون 2٠16 -
  • تاریخ ملتان، ڈاکٹر روبینہ ترین، صفحہ 172-
  • تاریخ ملتان صفحہ 159باب مخدوم عبدالرشید حقانی، ناشر قصر الادب ، مصنف مولانا نور احمد خاں فریدی۔