مخزن العرفان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مخزن العرفان فی تفسیر القرآن اثنا عشری شیعہ کی پندرہ جلدوں پر مشتمل تفسیر  قرآن ہے جو بیسویں صدی کی عالمہ اور واحد خاتون مجتہدہ بانو امین نے تحریر کی۔[1]

نجیب الطرفین سیدہ بانو مجتہدہ سیدہ نصرت بیگم امین تجار اصفہانی مشہور از بانو امین 1886ء میں اصفہان میں پیدا ہوئیں۔ 15 سال کی عمر میں ان کی شادی اپنے عم زاد اور اصفہان میں وقت کے معروف تاجر حاجی سید محمد امین تجار سے ہوئی۔ ان کی شادی کے کچھ عرصہ بعد 20 سال کی عمر میں انہوں نے نجی طور پر علوم اسلامی جیسا کہ فقہ، اصول، تفسیر، حدیث اور حکمت کی تعلیم استاد آئت اللہ میر محمد نجف آبادی سے گھر پر حاصل کرنا شروع کی۔ اپنی زندگی کے 20 سال علوم اسلامی کی تعلیم کے حصول میں صرف کرنے کے بعد 40 سال کی عمر میں انہوں نے اپنی پہلی تصنیف اربعین ہاشمیہ(40 ہاشمی روایات) تحریر کی۔ یہ تصنیف نجف عراق کے روایتی مرکز تعلیم میں پہنچی تو وہاں علما نے اس کی پر زور تائید کی۔ اس طرح بانو امین علما میں مشہور اور درجہ اجتہاد پر فائز ہو گئیں۔ بلا شبہ نجف کے عظیم علما کی جانب سے علوم اسلامی یعنی فقہ، حدیث، قرآن وغیرہ کے تحریری امتحانات کے بعد ان کو اجتحاد اور شرعی احکام کی تخریج کی اجازت دی گئی۔ وہ اپنے وقت کی واحد مجتہدہ ہیں۔ اپنی دانشورانہ سرگرمیوں کے علاوہ بانو امین نے لڑکیوں کے لیے ایک اسکول بنام دبرستان امین اور مذہبی تعلیمی مرکز بنام مکتبہ فاطمی قائم کیے۔ علما کی ایک کثیر تعداد روحانی اور علمی معاملات پر گفتگو کے لیے بانو امین سے اکثر ملاقات کیا کرتی تھی۔ وہ اصفہان، تہران، قم اور نجف سے آتے تھے جن میں علامہ عبد الحسین امینی (کتاب الغدیر)، آیت اللہ حائری شیرازی، آیت اللہ صفاوی قمی، علامہ طباطبائی (تفسیر المیزان) وغیرہ شامل ہیں۔ بانو امین نے 16 جون، 1983ء میں وفات پائی۔

حوالہ جات[ترمیم]