مدرسہ محمود گاواں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمود گاوان مدرسہ
مقامی نام
کنڑا: ಮಹ್ಮದ್ ಗವಾನ್ ಮದರಸಾ
Complete view of Mahumad Gawan.JPG
محمود گاوان مدرسہ کا مکمل منظر
قسمقدیم جامعہ، اب مسجد ہے
مقامبیدر (کرناٹک)
متناسقات17°54′53″N 77°31′48″E / 17.91476°N 77.53010°E / 17.91476; 77.53010متناسقات: 17°54′53″N 77°31′48″E / 17.91476°N 77.53010°E / 17.91476; 77.53010
رقبہ205 فٹ × 180 فٹ (62 میٹر × 55 میٹر)
اونچائی2,330 فٹ (710 میٹر)
بلندی131 فٹ (40 میٹر)
قیامduring Bahamani Dynasty
تاسیس1460
بانیمحمود گوان (خواجہ محمود گیلانی)
تعمیر1472
حقیقی استعمالتعلیمی
انہدام(جزوی) اورنگزیب کی فوجی حملہ کے دوران
موجودہ استعمالمذہبی (اسلام)
طرزِ تعمیرفارسی فن تعمیری
نظم و نسقحکومت ہند
مالکمحکمہ آثار قدیمہ بھارت 1914 سے
DesignationMonument of National Importance
ValueArchaelogical and Cultural Heritage
ASI CodeN-KA-D40
لوا خطا ماڈیول:Location_map میں 502 سطر پر: Unable to find the specified location map definition: "Module:Location map/data/بھارت" does not exist۔

مدرسہ محمود گاواں بھارت کی ریاست کرناٹک کے شہر بیدر میں واقع ایک قدیم جامعہ ہے۔ اس کی تعمیر بہمنی سلطنت کے دور میں کی گئی۔ اس کی بنیاد بہمنی سلطنت کے وزیر اعظم محمود گوان نے رکھی۔ محمود گاوان نہایت ہی لائق اور زیرک وزیر اعظم تھے اور علم و فراست کو عام کرنے کے لیے سلطان کی اجازت سے اس کی تعمیر 15 ویں صدی عیسوی میں کروائی۔ یہ مدرسہ بھارتی حکومت کی جانب سے نشان دہی کردہ ہے۔ اس کی نگہداشت بھارت کا محکمہ آثار قدیمہ کرتا ہے۔[1][2] محمود ایک تاجر تھے، ایران کے شہر گیلان سے ہندوستان آئے تھے۔ قسمت نے ایران کے اس تاجر کو بہمنی سلطنت کا وزیرِ اعظم بنادیا تھا۔ انہوں نے اپنی ذاتی رقم سے اس کی تعمیر کروائی۔ یہ ایک اقامتی مدرسہ تھا۔ خراسان کے نمونے پر اس مدرسہ کی تعمیر کروائی گئی۔

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Mohamad Gawan Madarsa". HolidayIQ.com. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 12 مارچ 2015. 
  2. "Deccan dreams". Business Line. 23 September 2005. 06 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 16 مارچ 2015.