مدینہ الزہراء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
Al madinah Azahara: Reception Hall of Abd ar-Rahman III
House of Ya'far
"Upper basilical hall" or "Dar al-Jund", perhaps for administration
Pórtico de Medina Azahara

مدینہ الزہراء (عربی )( لفظی مطلب "پھول کا شہر") کا محل شہر کے کھنڈر کا نام ہے جسے عرب مسلم قرون وسطیٰ میں قرطبہ کے اموی خلیفہ عبد الرحمن سوم الناصر (912ء -961ء) نے قرطبہ کی مغربی سرحد پر جو اسپین میں واقع ہے، تعمیری کارنامے انجام دیے تھے۔ یہ انتظامیہ اور حکومت کے دل کے جیسی اہمیت رکھتا تھا کیونکہ اس کی دیواروں کے اندر ہی سے قرون وسطیٰ میں شہر اور اندلس یا مسلم اسپین کا حقیقی دار الحکومت تھا۔ 936ء - 940ء کی شروعات میں بنے اس شہر میں ایک خیر مقدمی ہال، مسجدیں، انتظامیہ اور سرکاری دفاتر، باغات، ایک ٹکسال، کارخانے، چھاؤنیاں، گھر اور غسل خانے شامل تھے۔ آب دارخانے کی ضرورت کی تکمیل درمیان سے پوری کی جاتی تھی۔[1]

اس کی تعمیر کا اصل خیال سیاسی ونفسیاتی تھا: خلیفہ کا وقار ایک نئے شہر کے قیام سے اپنی طاقت کی علامت کے روپ میں ظاہر کرنے کی ضرورت تھی۔ یہ دیگر سابق کے خلفاء کی نقل تھی۔ ان سب سے بھی زیادہ، یہ اپنے عظیم مخالفین شمالی افریقا کے فاطمیوں پر اپنی برتری کا مظاہرہ کرنا تھا۔  [حوالہ درکار] کہا جاتا ہے کہ یہ محل خلیفہ کی پسندیدہ حرم کی الزہراء نامی عورت کو ایک خراج تحسین کے طور پر بنایا گیا تھا۔[2]

اس شاہی محل کو خلیفہ عبد الرحمٰن سوم کے بیٹے الحکم دوم (961ء -976ء) کے دور حکمرانی کے دوران بڑھایا گیا تھا۔ لیکن ان کی موت کے بعد جلد ہی یہ محل خلیفہ کا اصل رہائش کدہ نہیں رہا تھا۔ 1010ء میں یہ ایک خانہ جنگی میں تباہ کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد یہ یوں ہی غیر آباد اور ویران چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس محل سے جڑے کئی عناصر کو کہیں اور پھر سے استعمال کیا گیا تھا۔ اس کے کھنڈر کو 1910ء کے بعد سے شروع کی گئی کھدائی میں نکالنے کی کوشش کی گئی تھی۔ 112 ہیکٹر میں سے صرف 10 فی صد حصّے کو کھودا گیا اور پہلے کی حالت میں پہنچایا گیا ہے۔ لیکن اس علاقے سے جڑے غسل خانوں، دو ہوبہو یکساں محل اور ایک دارالخُدَّام کے ساتھ جو محل کے حفاظتی دستوں کے لیے تھا، بھی یہاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں ایک بڑی انتظامی عمارت دربار کی جگہ، خیر مقدم کے لیے کھلی جگہ، باغوں کی جگہ اور اس جگہ سے تھوڑی ہی دور پر ایک جامع مسجد ہے۔[3]

اس جگہ کے کنارے پر ایک نیا عجائب گھر بھی بنا ہے مگر اُس کا بڑا حصہ زمین کے نیچے ہے تاکہ اس پورے علاقے کی بناوٹ اور کھنڈر دیکھنے میں رکاوٹ نہ ہو جو آج کے دور کے کچھ جدید مکانات اوردیگر تعمیراتی کاموں کے ہونے کی وجہ سے کچھ پہلے ہی رکاوٹ ہے۔[4]

جا ئے وقوع[ترمیم]

سئیرا مرینا (Sierra Morena) کی تلہٹی میں قرطبہ سے 8 میل (13 کلومیٹر) مغرب میں موجود یہ شمال سے جنوب میں جبال العروس کی ڈھلانوں میں ہے۔ یہ گوادلکوور (Guadalquivir) ندی کی گھاٹی کے سامنے ہے۔ مدینہ الزہراء کو قرونِ وسطیٰ کے ورسائے ( Versailles) کہا جاتا ہے۔ یہ شہر اپنی بقایا دیکھی جانے والی اقدار کے لیے چنا گیا تھا تاکہ عمارتوں کا بول بالا یہاں بعد کے دور میں ہو سکے۔ یہاں چونے کے پتھر کی ایک کان تھی جس کا کہ شہر کی اوّلین تعمیر کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ جزوی طور پر آج تک محفوظ ایک سڑک، پانی اور وسائل حیات کے بنیادی ڈھانچے جیسے کہ آب دارخانے اور پل بنے ہوئے ہیں۔

سئیرا مرینا کی تلہٹی میں اس کے وقوع پزیر ہونے سے یہ ممکن ہوا کہ شہری پروگرام ڈیزائن کرنے کے لیے بنایا جاسکے۔ محل ایک اعلیٰ سطح پر واقع ہے اور شہری بستیوں اور نیچے میدانوں سے گھرا ہے۔ چھوٹی چھوٹی بستیوں کے بیچ جامع مسجد موجود ہے۔ خلیفہ کے رہائشی علاقے کے بعد وزیروں کا علاقہ آتا ہے۔ پھر حفاظتی دستوں کے گھر ہیں۔ اس کے بعد انتظامی دفاتر اور شاہی باغات ہیں۔ اس کے بعد شہر کا اصل حصہ اور شاہی مسجد آتے ہیں۔ کھوج سے پتہ چلتا ہے کہ شہر کا کافی حصہ یوں ہی چھوڑ دیا گیا تھا۔[5]

محل کا علاقہ[ترمیم]

محل سئیرا مرینا سے چل رہے پہلی صدی کے رومن آب دار خانے کا حصّہ بن گیا ہے پر چونکہ یہ محل سے کئی میٹر نیچے سے جاتا ہے، اس لیے ایک نیا پانی کا ذریعہ بنایا گیا ہے جس سے پانی ہمیشہ ملتا رہے۔ اس کے لیے پرانے رومن آب دار خانے کی دھاریں بارش کا پانی اورقدرتی چشموں سے نکلنے والا پانی دور لے جانے کے لیے چھوٹے چینلوں کی ایک بے حد پیچیدہ طریقہ کار سے ایک اہم پانی کے ذخیرہ کے روپ جمع کرکے استعمال کیا گیا تھا۔ کئی کھاد اور چینی مٹی کے سامان یہاں پائے گئے ہیں۔[6]

محل کی تعمیر کا ابتدائی دور بہت تیزی سے مکمل کیا گیا تھا: یہ 936ء یا 940ء میں شروع ہو گیا تھا۔ مسجد کا تعمیری کام 941ء میں پورا کیا گیا تھا۔ 945ء تک خلیفہ کے رہنے کی جگہ بنائی گئی تھی۔ اس کے باوجود،تعمیری منصوبے کے کئی تبدیلیوں کے ساتھ کئی دہائیوں تک کے لیے جاری رہے تھے۔ عبد الرحمٰن کا "سیلون ریکو" یا خیرمقدمی حصّہ 953ء اور 957ء کے بیچ میں بنا گیا تھا۔ ایک بڑی عمارت "جعفر کا گھر" پہلے بنائے گئے تین گھروں کے اوپر بنایا گیا تھا۔ "میناروں کا دربار" دو پہلی عمارتوں پر 950ء کے بعد کے سالوں بنایا گیا تھا۔ "اوپری بیسیلکل دربار" جسے "دارالجند" یا "فوجوں کا گھر" کہا جاتا ہے، وہ بھی یہاں بنایا گیا تھا۔[7]

باغات[ترمیم]

شہر میں کم از کم تین باغات تھے۔ ایک چھوٹا سا باغيچہ جسے شہزادے کا باغیچہ کہتے تھے، اوپری چھت پر واقع تھا۔ یہ محل آنے جانے والے رئیسوں اور شاہی لوگوں کے استعمال میں تھا جو بار بار محل آتے جاتے رہتے تھے۔[8]

دو نچلی چھتوں سے بڑا، رسمی اسلامی باغات یہاں جڑے ہوئے تھے۔ ان میں سے مغربی کونے کی چھت سب سے نچلی چھت تھی۔ ان دو مختصر باغات کو "سیلون ریکو" کے طور پر جانے گئے ہیں۔ ان باغات کی سب سے خاص بات یہی ہے کہ یہ استقبالیہ کمرے کی طرف واضح طور پر اشارہ کرتے تھے۔

تاریخ[ترمیم]

اموی خلیفہ عبد الرحمٰن سوم الناصر کا بنایا یہ شہر 80 سالوں تک ترقی ہوتا رہا تھا جس کا آغاز 936ء اور 940ء کے بیچ شروع ہوا تھا۔ 928ء میں خود کے خلیفہ کے طور پر اعلان کرنے کے بعد اس نے اپنی رعایا کو اور دنیا کو اپنی طاقت دکھانے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے اس نے قرطبہ سے پانچ کلومیٹر دور ایک محل نما شہر بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب تک زیر دریافت مشرقی یروپ کا یہ سب سے بڑا شہر تھا جسے شروع سے بنایا گیا تھا۔ شمالی اور مشرقی یورپ کے مسافرین اسے محلوں کی چکاچوند اور بے پناہ دولت کا گڑھ بتاتے تھے۔ 1010ء میں یہ ایک خانہ جنگی میں تباہ کر دیا گیا تھا اور اسی کے ساتھ یہاں پر سے خلیفہ کا دور ختم ہو گیا تھا۔ ان واقعات سے اس شہر کو اگلے ہزار سال کے لیے دنیا کے نقشے سے ہٹا دیا گیا تھا۔[9]

ایک زبان زدِ عام داستان ہے کہ ایک خاتون جس کا نام زہرا یا الزہرہ تھا خلیفہ کے حرم میں شامل اُس کی سب سے پسندیدہ خاتون تھی اور اسی کے نام پر یہ شہر محل بنا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس خاتون کا ایک مجسمہ باب الداخلہ پر لگا دیا گیا تھا۔ سچ تو شائد پیار محبت سے کہیں زیادہ سیاست سے متاثر ہے۔ عبد الرحمٰن سوم جب آئیبریائی جزیرہ نما میں اپنی سیاسی طاقت کو مضبوط کر چکا تھا اور شمالی افریقہ پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے فاطمی سلاطین کے ساتھ جنگ وجدال میں داخل ہو گیا تھا، تبھی اس نے اس محل نما شہر کے بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ زہراء کا چمک یا کھلنے کا عربی میں مطلب ہوتا ہے: نام طاقت اور مقام دکھانا، نہ کہ رومانی/ محبت کی چاہت والے جذبات۔ زہراء پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی فاطمۃ الزھراء کے لیے سب سے عام خطاب ہے۔ اسی نام سے شمالی افریقہ کے فاطمی سلاطین نے کئی عمارتوں کو اور قصبوں کو بنایا تھا۔ اپنے آپ میں ایک جید عالمہ ہونے کے ناطے اسی خطاب سے متاثر ہوکر الازہر (شاندار) دنیا میں سب سے پرانا کام کاج کر رہی جامعہ کونام دیا گیا تھا جسے فاطمیوں کی جانب سے 968ء میں قاہرہ میں تعمیر کیا گیا تھا۔ امویوں کے ذریعے اور مذہبی / اسلامی علامات کے ذریعے سے شمالی افریقہ کا قصد اور زیر قبضہ رکھنے کی چاہت صاف دکھائی پڑتی ہے۔

Arabesque panel

929ء میں عبد الرحمٰن سوم نے خود کو پوری طرح سے آزاد قرار دیا تھا، سچا خلیفہ بتایا (امیرالمؤمنین) اور اموی خاندان کا چشم وچراغ بتایا تھا۔ یہ ایک الگ قدم تھا کیونکہ لگ بھگ پوری طرح سے 9 ویں صدی میں عباسیوں کے یہ الگ تھلگ ہو گیا تھا۔ عبد الرحمٰن سوم دنیا کو متاثر کرنے کے لیے سیاسی، معاشی اورطرزِ تخیل کے ذرائع کا ایک لا متناہی سلسلہ لے آیا تھا۔ ایک نئی دار الحکومت، اس کے وقار کے مطابق ان خوش کن ذرائع کا استعمال ان میں سے ایک تھا۔ عبد الرحمٰن نے 936ء میں شہر کے تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا اور تعمیر میں چالیس سال لگ گئے۔ اس جگہ پر بنی مسجد کو 941ء میں آباد کیا گیا تھا اور 947ء میں سرکار قرطبہ منتقل کیا گیا تھا۔[10]

مدینہ الزہراء کے کھنڈر سے آج کی تاریخ میں جو دکھائی دیتا ہے وہ اپنی حد کا صرف 10٪ ہے۔ 112 ہیکٹر شہری علاقہ صرف اختتام ہفتہ سیروتفریح کے جگہ نہیں تھی بلکہ اندلس کی مرکزیت تھی جسے 8 ویں صدی کی شروعات سے 11 ویں کے بیچ تک مسلمانوں کے زیرقبضہ آئیبرین جزیرہ نما کو اپنے قبضے میں لیے ہوئے تھے۔ اعظم ترین نقطے پر خلیفہ کے محل کے ساتھ سئیرا مرینا کی کے قریب ڈھال میں مختلف مراحل میں بنایا گیا شاندار سفید شہر اپنی رعایا اور بیرونی سفیروں کے ذریعے دور دور تک دیکھا جا سکتا تھا۔ عبد الرحمٰن سوم 947ء - 948ء میں اپنے پورے دربار کو یہاں لے آیا تھا۔[8]

گزرتے زمانے کے ساتھ ساتھ پورا شہر دفن ہو گیا تھا۔ 1911ء تک اس جگہ کو پتہ لگایا نہیں جا سکا تھا۔ کھدائی اور بحالی اسپین کی حکومت کی جانب سے مالی تعاون پر منحصر رہا کرتی ہے اور اب بھی جاری ہے۔ جو حصّہ نہیں کھودا گیا ہے، وہ رہائش کی غیر قانونی تعمیرات سے خطرے میں ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق "قرطبہ میں مقامی حکومت غیر کارگرد رہی ہے۔ تعمیراتی کمپنیاں شہر کی سائٹ پر گھروں کو بنا رہے ہیں۔ ترقی کے نام پر سائٹ پر ہی توسیع و قبضہ کیا جا رہا ہے۔ سائٹ کو بچانے یہاں کی سرکار 10 سال پہلے بنائے گئے قانون کو لاگو کرنے میں ناکام رہی ہے۔ یہاں پر 90 فی صدی علاقے پر کھدائی نہیں ہوئی ہے۔[11]

فنی اعتبار سے مدینہ الزہراء نے ایک خصوصیت سے اندلسی اسلامی فنّ تعمیر تیار کرنے میں ایک بڑا اہم کردار نبھایا ہے۔ اس کی کئی خصوصیتیں ہیں جیسے کہ چھوٹے گرجا گھر جیسا شاہی استقبالیہ حصّہ (اسلامی دنیا کے مغربی حصّے میں گنبددار ہیئت کے برعکس) یہاں پہلی بار تصوّر کیا گیا ہے۔ اس طرح کے ایک مرکزی آنگن یا باغیچے کے چاروں جانب کمرے سے جُڑے ہونے کی سہولت کے روپ میں دیگر سہولیات بھی اسلامی فنّ تعمیر کا بھرپورجدید کاری ظاہر کر رہے ہیں۔ مدینہ الزہراء کی مسجد قرطبہ کی بڑی مسجد جیسی ہونے کے سبب سے اُسے "چھوٹی بہن" بلایا گیا ہے۔[12]

اقتدار میں آنے سے پہلے المنصور ابن ابی عامر (مغربی دنیا جسے Almanzor کے نام سے جانتی ہے) قرطبہ کے نواحی علاقے میں رہتے تھے۔ حاجب (خلیفہ کے چاؤش) بننے پر انہوں نے اپنے لیے ایک محل شہر کے تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا جو عبد الرحمٰن سوم کے مدینہ الزہراء سے بڑھ کر نہ صحیح مگر اس جیسا خوب صورت ضرور ہو۔ اس محل کو مدینہ الزہراء کے سامنے بنایا جانا تھا۔ الظہیرہ کی بنیاد 978ء - 979ء میں گوادلکوور (Guadalquivir) ندی کے پاس رکھی گئی تھی۔ منصور نے اپنے محل کو مدینہ الظہیرہ کا نام دیا تھا۔

اس محل کے تعمیر کے پیچھے منصور کا مقصد اپنے نام کو اندلس کے بادشاہ عبد الرحمٰن سوم کے عظیم نام کے ساتھ تاریخ کے صفحات میں لکھوانا تھا۔ یہ چاروں جانب اور کشادہ اور خوب صورت محل تھا۔ یہ المنصور کے حفاظتی دستوں اور اعلیٰ عہدیداروں کے لیے رہائش گاہ اور اسلحہ خانے کے ساتھ لیس تھا۔

1002ء میں المنصور کی موت پر انک ے سب سے بڑے فرزند عبد الملک المظفر شاہی گدّی کا حق دارتسلیم کیا گیا تھا۔ عبد الملک کی موت کے بعد عبد الرحمٰن اس سنجل یا سانچیلو (Sanchelo) یا چھوٹے سنچو (اس کی ماں عبدہ سنچو کی ایک بیٹی تھی جو کاسیلے کا کاؤنٹ تھا) جو المنصور کا ایک اور بیٹا تھا۔ وہ اپنے بھائی کے جیسے اصولوں پر چلنے لگا تھا۔ دسمبر 1009ء میں سانچیلو الفونسو پانچویں کے خلاف اپنی مہم میں مصروف تھا تب لوگ اس کے خلاف بغاوت پر اتر آئے تھے۔ چونکہ سانچیلو کہیں نظر میں نہیں آ رہا تھا، لوگوں نے اپنے بے قابو غصّے کو دکھانے کے لیے منصور کے محل کو بے روک ٹوک لوٹا اور بے دھڑک مسلسل چار دنوں کے لیے غارت گری کی۔ جب لوٹنے اور محل کو تہس نہس کرنا ختم ہوا، تو انہوں نے محل کو آگ لگا دی۔ کچھ ہی دیر میں الظہیرہ راکھ کے ڈھیر میں بدل گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Ruggles، D. Fairchild (2008)۔ Islamic Gardens and Landscapes۔ University of Pennsylvania Press۔ صفحات 152–153۔ آئی ایس بی این 0-8122-4025-1۔ 
  2. Medina Azahara Guide
  3. Triano, 3
  4. Article by one of the architects
  5. Triano, 4-5
  6. Triano, 8-12
  7. Triano, 23
  8. ^ 8.0 8.1 D. F. Ruggles, “Historiography and the Rediscovery of Madinat al-Zahra',” Islamic Studies (Islamabad), 30 (1991): 129-40
  9. O'Callaghan, Joseph F., A History of Medieval Spain, Cornell University Press, 1975, Cornell Paperback 1983, p. 132
  10. Barrucand, Marianne & Bednorz, Achim, Moorish Architecture in Andalusia, Taschen, 2002, p. 61
  11. McLean، Renwick (2005-08-16)۔ "Growth in Spain Threatens a Jewel of Medieval Islamنیو یارک ٹائمز۔ http://www.nytimes.com/2005/08/16/international/europe/16spain.html?_r=1&oref=slogin۔ اخذ کردہ بتاریخ 2010-05-12۔ 
  12. Barrucand، Marianne؛ Achim Bednorz (2002)۔ Moorish Architecture in Andalusia۔ Taschen۔ صفحہ 64۔ 

خارجی روابط[ترمیم]

متناسقات: 37°53′17″N 4°52′01″W / 37.888°N 4.867°W / 37.888; -4.867

ماخذ[ترمیم]