مرآت المناجیح

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

المرأۃ المناجیح مشکوۃ شریف کی اردو میں شرح ہے۔
حکیم الامت مفتی احمد یار خاں نعیمی اشرفی بدایونی کی تصنیف جو خطیب تبریزی کے مجموعہ احادیث مشکوۃ المصابیح کا اردو ترجمہ اور تشریح ہے۔ یہ عام فہم شرح طلبہ، علما اور عوام المسلمین کے لیے یکساں مفید ہے۔ اس کی تصنیف کا ایک سبب انکار حدیث کے فتنہ کا تدارک اور حجیت حدیث پر دلائل مہیا کرنا تھا۔ مصنف نے اس شرح میں مرقاة المفاتیح، لمعات اور اشعتہ اللمعات سے مدد حاصل کی۔ اس کا تاریخی نام ذوالمرآت1378ھ ہے۔ مؤلف نے اس کا نام مرأة اس لیے رکھا کہ یہ مشکوۃ المصابیح کی حدیثوں کو دیکھنے کا آئینہ ہے۔ گویا یہ چراغوں کے طاق کے سامنے لگا ہوا ایسا شیشہ ہے جو بیرونی ہوا کو اندر نہ پہنچنے دے۔[1] مشکوٰۃ کے معنی ہیں طاق۔ مصابیح مصباح کی جمع بمعنی چراغ،معنی ہوئے چراغوں کا طاق کیونکہ ہر حدیث نورانیت اورہدایت میں چراغ کی طرح ہے اور یہ کتاب ان احادیث کے ملنے کی جگہ۔ نیز مصابیح اصل کتاب کا نام بھی ہے وہ ساری کتاب مشکوٰۃ میں موجودہے۔ بہرحال یہ نام مسمّٰی کے مطابق ہے۔ مفتی احمد یار خاں نعیمی نے اپنی اس شرح کا نام مرأۃ رکھایعنی چراغوں کے طاق کے سامنے لگا ہوا شیشہ جو بیرونی ہوا کو اندر نہ پہنچنے دے۔ ان کی نیت یہی ہے کہ اس شرح سے منکر ین حدیث اور ناسمجھ لوگوں کے اعتراضات دفع ہوں،احادیث کا تعارض دور کیا جائے۔ یا مشکوٰۃ کی حدیثوں کو دیکھنے کا آئینہ کہ اس کی حدیثیں اس شرح سے دیکھو اور سمجھو۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مرأۃ المناجیح، حکیم الامت مفتی احمد یار خاں نعیمی اشرفی بدایونی