مرابطون عالمی تحریک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مرابطون عالمی تحریک ایک اسلامی تحریک ہے۔ عبدالقادر الصوفی اس کا بانی اور موجودہ رہنما ہے۔ اس کے پیروکاروں کا تعلق دنیا بھر کے مختلف ممالک سے ہیں۔ اس کا مرکز ہسپانیہ ہے۔[1] اس کے پیروکاروں کی تعداد تقریباَ دس ہزار(10،000) ہیں۔ اس تحریک کے مقاصدمیں اسلامی اقتصادی نظام کا احیاء خصوصاَ زکوٰۃ کا حقیقی دولت میں دینا شامل ہے۔ اس کے علاوہ یہ امیر کے ہاتھ پر بیعت کرنا اور ایک امیر کی اطاعت ان کے مقاصد میں شامل ہیں۔[2]

پس منظر[ترمیم]

مرابطون کا لفظ المراود سلطنت سے لیا گیا ہے۔ مرابطون عالمی تحریک کے بانی عبدالقادر الصوفی ہیں (جو 1930ء میں سکاٹ لینڈ میں ایان ڈلاس کے نام سے پیدا ہوئے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد اانھوں نے اپنا نام تبدیل کیا)۔ 1968ء میں، میکنز ( Meknes) میں ان کے پہلے شیخ محمد ابن حبیب سے ملاقات ہوئی۔ اورانہوں نے آپ کو ایک مقدّم (مرید اور استاد) بنایا اور آپ کو "صوفی" کا لقب دیا۔ اور آپ کو مزید کام کے لیے انگلستان بھیج دیا۔[3]

نظریات[ترمیم]

زکوٰٰۃ کی حیثیت[ترمیم]

مرابطون عالمی تحریک زکوٰٰۃ کی اپنی اصل شکل میں دوبارہ احیاء کے لیے سر توڑ کوشش کرتی ہیں۔ ان کے مطابق زکوٰۃ آج کل اپنی حقیقی شکل میں بحال نہیں ہے۔[4] کیونکہ اس کی بحالی کے لیے کم از کم تین شرائط ہیں۔
1- زکوٰۃ کی حصولی صرف امیر یا خلیفہ کو کرنی چاہیے۔[5]
2- اگر اس کی حصولی پیسوں میں کرنی ہو تو یہ سونے اور چاندے میں ہونی چاہیے۔[6]
3- اس کو فوراَ تقسیم کرنی چاہیے۔

اسلامی زر (پیسہ)[ترمیم]

مرابطون عالمی تحریک اسلامی زر یعنی طلائی دینار اور نقرئی درہم کے دوبارہ نفاذ کے حامی ہے۔ ان کے مطابق کاغذی کرنسی اسلام میں حرام ہے۔

خلافت، امارت اور سلطنت[ترمیم]

مرابطون عالمی تحریک خلافت یا امارت یا سلطنت کے دوبارہ نفاذ کے حامی ہے۔ ان کے مطابق جمہوریت، بادشاہت وغیرہ اسلام میں حرام ہے۔

اسلامی تجارت اور سماجی بہبود[ترمیم]

مرابطون عالمی تحریک اسلامی تجارت کے دوبارہ نفاذ کے لیے کام کرتی ہے۔

عمل الاھل المدینہ[ترمیم]

مرابطون عالمی تحریک حضرت محمّد صلی اللھ علیھ وآلہ وسلّم کے زمانے میں مدینہ منورہ میں قائم کردہ نظام کے دوبارہ احیاء کے لیے کوشاں ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Ulrika Martensson, Jennifer Bailey, Priscilla Ringrose, Asbjorn Dyrendal, Fundamentalism in the Modern World Vol 2:Fundamentalism and Communication: Culture, Media and the Public Sphere, ed. I.B.Tauris, 2011, p. 113
  2. Oscar Perez Ventura, Movimientos Islamistas en Espana: el Movimiento Munidal Murabitun, conversos al Islam en Al-Andalus, Instituto Espanol de Estudios Estrategos, 2012, p. 8
  3. From “The new Murabitun” by Umar Ibrahim Vadillo, Yildiz Productions, 1999
  4. Bewley, Abdalhaqq, Zakat: raising a fallen pillar, Black Stone Press, UK, 2001
  5. For example: "The zakat is fard and one of the fundamental matters of Islam, such that whoever denies that it is obligatory is a kafir." And "It is obligatory to pay zakat to the amir (Imam) if he is just. If he is not just and it is impossible to divert it from him, then one pays it to him and that discharges one's duty, but if it is possible to divert it from him then the person paying it should pay it to those who can validly receive it but it is recommended that one not undertake to pay it directly oneself for fear of praise." Al-Qawanin al-Fiqhiyya, Ibn Juzayy al-Kalbi
  6. For example: Al-Fath al-‘Aliyy al-Malik fi al-Fatawi ‘ala Madhhab Malik, Shaykh Muhammad ‘Illish, Al-Azhar