مرام المصری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مرام المصری
(عربی میں: مرام المصري خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Maram3.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 2 اگست 1962 (57 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
لاذقیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Syria.svg سوریہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ دمشق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ شاعرہ،  مصنفہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان سوری عربی،  فرانسیسی،  عربی[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

مرام المصری ایک سوری (شامی) شاعرہ ہے، جو فرانس میں رہائش پزیر ہے۔ مرام المصری اپنے عہد کی نوجوانوں کو لبھانے والی نسائی آواز اور ہردلعزیز شاعرہ ہے۔[2]

سوانح[ترمیم]

مرام کی ولادت ساحلی شہر لاذقیہ میں 1962ء میں ایک سنی گھرانے میں ہوئی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے اس نے دمشق کی جامعہ میں انگریزی ادب میں داخلہ لیا،[2] تاہم ایک مسیحی لڑکے کے عشق کے سبب وہ تعلیم جاری نہ رکھ سکی۔ یہ عشق ناکام رہا کیوں کہ لڑکے کے گھر والے مرام سے شادی کے لیے راضی نہ ہوئے۔[3] 20 سال کی عمر میں مرام اپنا وطن اور شہر چھوڑ کرو فرانس چلی گی، جہاں اس نے اپنے ایک ہم وطن شخص سے شادی کر لی، لیکن ایک بچے کی پیدائش کے بعد یہ شادی ٹوٹ گئی، اس کا شوہر بچہ لے کر سوریہ (شام) واپس چلا گیا۔[4] اور وہ 13 سال تک اپنے بچے کو ایک نظر دیکھنے کو ترس گئی۔ بعد ازاں اس نے ایک فرانسیسی شخص سے شادی کی جو دو بچوں کی پیدائش کے بعد ناکام ثابت ہوئی۔[3]

شاعری[ترمیم]

مرام نے کم عمری ہی میں شاعری کا آغاز کر دیا تھا، اس کا کلام دمشق کے مختلف ادبی جرائد میں شائع ہوتا رہا۔ اس کا پہلا مجموعہ کلام مجھے سفید فاختہ میں تبدیل کر دیا گیا شائع ہوا، کیہ مرام کو شہرت 1979ء میں شائع ہونے والی کتاب سفید ٹائلوں والے فرش پر سرخ چیری کی اشاعت سے ہوئی۔ اس کتاب کو شامی ناشرین نے اس وجہ سے شائع کرنے سے انکار کر دیا کہ اس مجموعۂ کلام جنسی موضوعات پر مشتمل ہے۔[3] اس لیے اس کی اشاعت تیونس کی وزارت ثقافت نے کی، 2002ء میں اس کتاب کا ہسپانوی زبان میں ترجمہ ہوا۔ اس سے مرام بطورہ شاعرہ یورپ میں مشہور ہوئی، اس کے بعد اس کا ترجمہ انگریزی، فرانسیسی، کتلونی، اطالوی، جرمن، کارسیکائی زبانوں میں ہوا۔

اگرچہ مرام اپنی شاعری میں عرب قارئین کو براہ راست مخاطب نہیں کرتی تاہم اس کی شاعری کا بنیادی ذریعہ اظہار معیاری عربی زبان ہی ہے۔ وہ اپنی شاعری سے آراستہ و پیراستہ زبان میڑ براہ راست گفتگو کرتی ہے۔ اس لیے اس کا قاری شاعری کو ضرب الامثال کی طرح یاد کر لیتا ہے۔ اس کی شاعری میں سادہ بیانی، روزمرہ کی بول چال اور بغیر کسی رکھ رکھاؤ کے انسانی جذبات کا برملا اظہار ہوتا ہے وہ اپنی شاعری میں مصنوعی بناوٹ اور تصنع سے کام لینے کی عادی نہیں ہے۔ آئرلینڈ سے اطالیہ تک یورپ کے مختلف ممالک اور شہروں میں ہونے والے مشاعروں پر کئی اعزازات و انعامات سے نوازا گیا ہے۔

مجموعۂ ہائے کلام[ترمیم]

مرام کی شاعری کے اب تک چھ مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔

  • مجھے سفید فاختہ میں تبدیل کر دیا گیا، 1984ء
  • سفید ٹائلوں والے فرش پر سرخ چیری، 2002ء
  • میں تمہیں دیکھتی ہوں، 2007ء
  • ولادہ کی واپسی، 2010ء
  • آزادی، وہ برہنہ آتی ہے، 2014ء
  • اغوا، 2015ء

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb13597207z — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. ^ ا ب "Maram al-Massri"۔ Banipal۔
  3. ^ ا ب پ ""Hice mi primera revolución por la libertad de amar""۔ M'Sur۔ جنوری 24, 2017۔
  4. "Maram Al-Masri : Le Rapt"۔ cahier critique de poésie۔ جنوری 12, 2016۔