مرزا ادیب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مرزا ادیب
Mirza Adeeb.png
مقامی نام مرزا ادیب
پیدائش مرزا دلاور
4 اپریل 1914ء
لاہور، برطانوی ہندوستان
(موجودہ پنجاب، پاکستان)
وفات 31 جولائی 1999ء (85 سال)
لاہور، پنجاب، پاکستان
قلمی نام مرزا ادیب
پیشہ ڈراما نویس، افسانہ نگار، ادیب
زبان پنجابی، اردو
قومیت برطانوی ہندوستانی (1914ء1947ء)
پاکستانی (1947ء1999ء)
نسل پنجابی
شہریت پاکستانی
تعلیم بی اے (آنرز)
مادر علمی اسلامیہ کالج لاہور
دور جدید دور
اصناف ڈراما، افسانہ نگار
موضوع رومانویت
ادبی تحریک وقائع نگاری (ادبیات)،
رومانیت
نمایاں کام پس پردہ (1967ء
فصیلِ شب،
خاک نشین
شیشہ میرے سنگ،
شیشے کی دیوار (1985ء
لہو اور قالین،
آنسو اور ستارے،
ساتواں چراغ (1985ء)
اہم اعزازات تمغہ حسن کارکردگی

باب ادب

میرزا ادیب (پیدائش: 4 اپریل 1914ء— وفات: 31 جولائی 1999ء) پاکستان کے نامور ڈراما نویس، افسانہ نگار اور ناول نگار تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

مرزا ادیب 4 اپریل 1914ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ اصل نام دلاور حسین علی ہے۔ والد کا نام مرزا بشیر علی تھا۔ مرزا ادیب نے اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کیا۔ ابتدا میں شاعری کو ذریعہ اظہار بنایا مگر پھر نثر کو اپنی شناخت بنالیا۔ اور پھر اردو ادب کی خدمت پر کمربستہ ہو گئے۔ اور اسی کو مقصد حیات سمجھ لیا۔ ان کا خاص میدان افسانہ نگاری اور ڈراما نگاری ہے۔ بزرگ افسانہ نگار محترم میرزا ادیب نے اپنی 82 سالہ زندگی میں اردو کو بہت کچھ دیا ہے۔ نثری ادب کی وہ کون سی صنف ہے جس میں ان کی قد آور شخصیت کی چھاپ نہ ہو، افسانہ، ڈراما، سفرنامہ، تنقید، تراجم، تالیفات بچوں کے لیے کہانیاں، غرض ہر صنف میں میرزا ادیب کی گراں قدر تخلیقات اردو کی توقیر میں اضافہ کا باعث ہیں۔ میرزا ادیب کی تصانیف میں صحرا نورد کے خطوط، صحرا نورد کے رومان، دیواریں، جنگل، کمبل، حسرت تعمیر، متاع دل، کرنوں سے بندھے ہاتھ، فصیل شب، شیشے کے دیوار، آنسو اور ستارے، ناخن کا قرض، گلی گلی کہانیاں اور ان کی خودنوشت سوانح "مٹی کا دیا" شامل ہیں۔ انہوں نے کئی رسالوں کی ادارت کے فرائض سر انجام دیے جن میں سے (ادب لطیف) خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

مرزا ادیب ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے ان کئی کے کئی فیچر اور ڈرامے ریڈیو پاکستان سے نشر ہوئے جن کو شہرت عام حاصل ہوئی۔ ان کی اعلیٰ ادبی خدمات کے اعزاز میں انہیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔

وفات[ترمیم]

31 جولائی 1999ء کو میرزا ادیب لاہور میں وفات پاگئے۔

تصانیف[ترمیم]