مرزا غالب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مرزا غالب
Mirza Ghalib photograph 3.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 27 دسمبر 1797[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کالا محل،  آگرہ،  ریاست بھرت پور  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 15 فروری 1869 (72 سال)[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
غالب کی حویلی،  گلی قاسم جان،  پرانی دہلی،  دہلی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش غالب کی حویلی
گلی قاسم جان
پرانی دہلی  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Fictional flag of the Mughal Empire.svg مغلیہ سلطنت (18 اگست 1810–21 ستمبر 1857)
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (22 ستمبر 1857–15 فروری 1869)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ امراؤ بیگم (18 اگست 1810–15 فروری 1869)  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد مرزا عبداللہ بیگ  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ عزت النساء بیگم  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
تلمیذ خاص مولانا اسماعیل میرٹھی،  مرزا ہرگوپال تفتہ،  منشی شیونرائن اکبرآبادی،  مرزا خضر سلطان،  نواب ضیاء الدین احمد خان نیر رخشاں،  نواب مصطفیٰ خان شیفتہ،  الطاف حسین حالی  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ شاعر،  مصنف،  نثر نگار  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان فارسی،  اردو[3]،  عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر مير تقی میر،  مرزا عبدالقادر بیدل  ویکی ڈیٹا پر (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (1797ء- 1869ء) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ 19 ویں صدی غالب کی صدی ہے۔ جبکہ 18 ویں میر تقی میر کی تھی اور 20 ویں علامہ اقبال کی۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کاا صل کمال یہ ہے کہ وہ ز ندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کردیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انہوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔

ابتدائی حالات[ترمیم]

پیدائش[ترمیم]

مشہور قول کے مطابق غالب 27 دسمبر 1797ء کو کالا محل، آگرہ میں پیدا ہوئے۔ مشہور پاکستانی ماہر فلکیات سید صمد حسین رضوی (متوفی 2009ء) کی تحقیق کے مطابق غالب 8 جنوری 1797ء کو پیدا ہوئے تھے۔

خاندان[ترمیم]

مرزا کے آباء و اجداد میں مرزا کے دادا مرزا قُوقان بیگ سمرقند سے ہجرت کرکے مغل شہنشاہ احمد شاہ بہادر کے عہدِ حکومت میں غالباً 1748ء یا 1750ء میں مغلیہ سلطنت میں آکر آباد ہوئے۔اُن کا [مغل شہنشاہ]] محمد شاہ کے دربار سے وابستہ ہونے کا ثبوت ملتا ہے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ 1748ء سے قبل ہی ہندوستان میں وارد ہوچکے تھے۔ یہ خاندان حسب و نسب کے اعتبار سے ترک مغل تھا اور تورانی النسل ہونے کے ساتھ ساتھ سمرقند میں آباد ہونے سے اِنہیں سمرقندی ترک بھی سمجھا جاتا تھا۔ غالب کے دادا مرزا قُوقان بیگ ہندوستان آمد کے بعد چند دن لاہور میں مقیم رہے اور پھر دہلی میں شاہی ملازمت اِختیار کرلی۔ کچھ عرصے بعد یہاں سے مستعفی ہوکر مہاراجا جے پور کے پاس نوکری قبول کرلی اور آگرہ میں سکونت اِختیار کی۔[4] 1795ء یا 1796ء میں غالب کے والد مرزا عبد اللہ بیگ خان کا عقد آگرہ کے ایک فوجی افسر خواجہ غلام حسین خان کی بیٹی عزت النساء بیگم سے ہوا۔ آگرہ میں ہی اِن دونوں سے غالب پیدا ہوئے۔ آگرہ میں 1799ء میں غالب کے چھوٹے بھائی مرزا یوسف علی بیگ خان پیدا ہوئے جو 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران 18 اکتوبر 1857ء کو قتل ہو گئے تھے۔[5] غالب کے والد مرزا عبد اللہ بیگ خان ریاست الور میں ملازم تھے اور وہاں 1802ء میں راج گڑھ کے مقام پر ایک جھڑپ میں قتل ہوئے[6] جبکہ غالب کی والدہ کے متعلق آثار و قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنوری 1840ء تک بقیدِ حیات تھیں۔[7]

پرورش[ترمیم]

1802ء میں والد کے قتل کے بعد غالب کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ خان اُن کے سرپرست بنائے گئے جو مرہٹوں کی جانب سے آگرہ کے قلعہ دار تھے۔ 18 اکتوبر 1803ء کو جب آگرہ پر انگریزی افواج نے حملہ کیا تو مرزا نصر اللہ بیگ خان نے قلعہ آگرہ لارڈ لیک کے حوالے کر دیا جس پر انگریزی افواج آگرہ میں داخل ہوگئیں اور مرہٹوں کا اثر ختم ہو گیا۔ لارڈ لیک نے مرزا نصر اللہ بیگ خان کو 1700 روپئے مشاہدے کے ساتھ چار سو گھڑسواروں کا رِسالدار مقرر کر دیا۔ اپریل 1806ء میں مرزا نصر اللہ بیگ خان ہاتھی سے گر کر زخمی ہوئے اور انتقال کرگئے۔ اُن کے پسماندگان میں غالب اور اُن کے چھوٹے بھائی مرزا یوسف علی بیگ خان بھی شامل تھے۔4 مئی 1806ء کو نواب احمد بخش خان‘ نواب ریاست فیروزپور جِھرکا نے انگریزوں سے سفارش کرکے پسماندگان کا وظیفہ دس ہزار روپئے مقرر کروا دیا جس میں غالب کی دادی‘ تین پھوپھیاں اور چھوٹا بھائی بھی شامل تھا۔ 7 جون 1806ء کو وظیفہ کی یہ رقم دس ہزار سے کم کرکے پانچ ہزار کردی گئی۔

شعرگوئی[ترمیم]

ابتدائی ماخذوں سے پتا چلتا ہے کہ غالب کی شعرگوئی کا آغاز 1807ء سے ہوا اور اولین تخلص اسد تھا لیکن بعد ازاں اُنہوں نے ایک اور شاعر میر اَمانی اسد سے کلام کی مشابہت کے بعد اپنا تخلص غالب اختیار کر لیا تاہم شاعری میں کبھی کبھی اسد بطورتخلص کے ملتا ہے۔ 1816ء سے غالب بطور تخلص کے استعمال کرنا شروع کیا جو تا وقت آخر جاری رہا۔ [8]

’’آئین اکبری‘‘ کی منظوم تقریظ[ترمیم]

1855ء میں سرسید نے اکبر اعظم کے زمانے کی مشہور تصنیف ’’آئین اکبری‘‘ کی تصحیح کرکے اسے دوبارہ شائع کیا۔ مرزا غالب نے اس پر فارسی میں ایک منظوم تقریظ (تعارف) لکھی۔ اس میں انہو ں نے سر سید کو سمجھایا کہ ’’مردہ پرورن مبارک کارِنیست‘‘ یعنی مردہ پرستی اچھا شغل نہیں بلکہ انہیں انگریزوں سے یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ وہ کس طرح فطرت کی طاقتوں کو مسخرکرکے اپنے اجداد سے کہیں آگے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے اس پوری تقریظ میں انگریزوں کی ثقافت کی تعریف میں کچھ نہیں کہا بلکہ ان کی سائنسی دریافتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مختلف مثالوں سے یہ بتایا ہے کہ یہی ان کی ترقی کا راز ہے۔ غالب نے ایک ایسے پہلو سے مسلمانوں کی رہنمائی کی تھی، جو اگر مسلمان اختیار کرلیتے تو آج دنیا کی عظیم ترین قوتوں میں ان کا شمار ہوتا۔ مگر بدقسمتی سے لوگوں نے شاعری میں ان کے کمالات اور نثر پر ان کے احسانات کو تو لیا ،مگر قومی معاملات میں ان کی رہنمائی کو نظر انداز کر دیا۔

دہلی کے جن نامور لوگوں کی تقریظیں آثارالصنادید کے آخر میں درج ہیں انہوں نے آئینِ اکبری پر بھی نظم یا نثر میں تقریظیں لکھی تھیں مگر آئین کے آخر میں صرف مولانا صہبائی کی تقریظ چھپی ہے۔ مرزا غالب کی تقریظ جو ایک چھوٹی سی فارسی مثنوی ہے وہ کلیاتِ غالب میں موجود ہے مگر آئینِ اکبری میں سرسید نے اس کو قصدا ً نہیں چھپوایا۔ اس تقریظ میں مرزا نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ابوالفضل کی کتاب اس قابل نہ تھی کہ اس کی تصحیح میں اس قدر کوشش کی جائے۔

سر سید کہتے تھے کہ :

"جب میں مرادآباد میں تھا، اس وقت مرزا صاحب، نواب یوسف علی خاں مرحوم سے ملنے کو رام پور گئے تھے۔ ان کے جانے کی تو مجھے خبر نہیں ہوئی مگر جب دلی کو واپس جاتے تھے، میں نے سنا کہ وہ مرادآباد میں سرائے میں آکر ٹھہرے ہیں۔ میں فوراً سرائے میں پہنچا اور مرزا صاحب کو مع اسباب اور تمام ہم راہیوں کے اپنے مکان پر لے آیا۔"

ظاہرا جب سے کہ سر سید نے تقریظ کے چھاپنے سے انکار کیا تھا وہ مرزا سے اور مرزا ان سے نہیں ملے تھے اور دونوں کو حجاب دامن گیر ہو گیا تھا اور اسی لیے مرزا نے مرادآباد میں آنے کی ان کو اطلاع نہیں دی تھی۔ الغرض جب مرزا سرائے سے سرسید کے مکان پر پہنچے اور پالکی سے اُترے تو ایک بوتل ان کے ساتھ تھی انہوں نے اس کو مکان میں لا کر ایسے موقع پر رکھ دیا جہاں ہر ایک آتے جاتے کی نگاہ پڑتی تھی۔ سر سید نے کسی وقت اس کو وہاں سے اُٹھا کر اسباب کی کوٹھڑی میں رکھ دیا۔ مرزا نے جب بوتل کو وہاں نہ پایا توبہت گھبرائے، سرسید نے کہا:

" آپ خاطر جمع رکھیے، میں نے اس کو بہت احتیاط سے رکھ دیا ہے۔"

مرزا صاحب نے کہا، " بھئی مجھے دکھا دو، تم نے کہاں رکھی ہے؟" انہوں نے کوٹھڑی میں لے جا کر بوتل دکھا دی۔ آپ نے اپنے ہاتھ سے بوتل اُٹھا کر دیکھی اور مسکرا کر کہنے لگے کہ، " بھئی ! اس میں تو کچھ خیانت ہوئی ہے۔ سچ بتاؤ، کس نے پی ہے، شاید اسی لیے تم نے کوٹھڑی میں لا کر رکھی تھی، حافظ نے سچ کہا ہے: واعظاں کایں جلوہ در محراب و منبر میکنند چوں بخلوت میروند آں کارِ دیگر میکنند سرسید ہنس کے چُپ ہو رہے اور اس طرح وہ رکاوٹ جو کئی برس سے چلی آتی تھی، رفع ہو گئی، میرزا دو ایک دن وہاں ٹھہر کر دلی چلے آئے۔[9]

سرسید کے ذہن میں یہ نکتہ بیٹھ گیا اور اس کی باقی ماندہ زندگی مردہ پروردن کے کار نامہ مبارک سے بلند ہوکر مردہ قوم میں زندگی کا تازہ خون دوڑانے کی مبارک و مسعود کو ششوں میں بسر ہوئی۔[10]

غالب اور علی گڑھ[ترمیم]

دیار علی گڑھ اپنے جغرافیائی محل و وقوع کے اعتبار سے مرزا غالب کے مولد اکبر آباد اور مسکن و مدفن دہلی کے درمیان میں آباد وہ قدیم شہر ہے جو تاریخ میں عرصہ دراز تک ”کول“کے نام سے مشہور رہ کر مغل حکمراں بابر کے ایک ماتحت عہدیدار محمدعلی جنگ جنگ (فاتح کول)کے دور میں علی گڑھ کے نام سے موسوم ہوا تھا۔ مگر عہدغالب میں بھی دیار علی گڑھ کو اس کے قدیم نام ’کول‘ سے یاد کیے جانے کی روایت جاری رہی تھی غالب نے اپنے متعدد اردو خطوط میں اس شہر کو علی گڑھ اور ”کول“ دونوں ہی ناموں سے یاد کیا ہے۔ غالب کے مولد و مدفن سے دیار علی گڑھ کے محل وقوع کی قربت غالب اور علی گڑھ کے درمیان میں ایک وابستگی کی بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔

علی گڑھ تحریک کے بانی سر سید احمد خاں اور اقلیم شعر و ادب کے قد آور سخن ور مرزا اسد اللہ خاں غالب کے درمیان میں تعلق کے جن رشتوں کا سراغ ملتا ہے اس مقالے میں سب سے پہلے انہیں پر روشنی ڈالنا مناسب ہوگا۔ غالب اور سر سید کے صحیفہ حیات کے مطالعے سے اس دلچسپ اتفاق کا انکشاف ہوتا ہے جس طرح سید احمد خاں کا مولد دہلی غالب کا مسکن رہا تھا اسی طرح غالب کا مولد آگرہ بھی چند سال تک سید احمد خاں کا مسکن بنا تھا۔ گویا ان دونوں ہم عصر مشاہیر میں سے ایک کا مولد دوسرے کا مسکن رہاہے۔ تنخواہ اور پنشن کے سلسلے میں دونوں معاصرین کے احوال میں اشتراک کا یہ دلچسپ پہلو بھی قابل ذکر ہے کہ غالب انگریزی حکومت سے پنشن اور مغل دربار سے تنخواہ پایا کرتے تھے۔ سید احمد خاں کو مغل دربار سے خاندانی پنشن اور انگریزی حکومت سے تنخواہ ملتی رہی تھی۔ مرزا غالب (متولد 27دسمبر، 1797ء) سید احمد خاں (ولادت 17 اکتوبر 1817ء) سے عمر میں کم و بیش بیس سال بڑے تھے۔ غالب اپنی شادی (17رجب 1225ھ مطابق شنبہ 18 اگست 1810 ء)کے دو تین سال بعد تقریباً 13، 1812ءمیں اپنے مولد اکبر آباد (آگرہ) کو خیر باد کہہ کر دہلی منتقل ہوئے تھے اور غالب کے ورود دہلی کے چار پانچ سال بعد سید احمد خاں کی ولادت 17 اکتوبر، 1817ء کو دہلی میں ہوئی تھی ۔

غالب اور سید احمد خاں کے سن وسال میں بیس برس کے اس تفاوت کے باعث ان دونوں ہم عصروں میں برابر کے دوستانہ روابط تو نہ قائم ہو سکے لیکن دہلی کے ایک ہی دیار میں دونوں کا برسوں تک قیام دونوں میں باہمی شناسائی اور قربت کا سبب ضرور بنا تھا۔ حیات جاوید[11] میں شاگرد غالب مولانا حالی راوی ہیں کہ سید احمد خاں مرزا غالب کو چچا کہتے تھے اور مرزا بھی سید صاحب پر بزرگانہ شفقت فرمایا کرتے تھے حیات جاوید[12] میں مولانا حالی نے یہ بھی لکھا ہے کہ سید احمد خاں اپنے علمی ذوق کی تسکین و تکمیل کے لیے اٹھارہ انیس سال کے سن میں (23۔1835ء) کے آس پاس دہلی کے جن عالموں کی صحبت سے فیضیاب ہوتے رہتے تھے ان میں غالب بھی شامل تھے۔ فروری 1839ء سے سرسید احمد خاں انگریزی حکومت میں اپنی ملازمت کے باعث دہلی سے نکل کر زیادہ تر مختلف مقامات پر رہنے لگے اور دہلی میں انہیں مستقل قیام کا موقع کم ہی مل سکا تھا۔[13] ان حالات کے پیش نظر دہلی میں غالب سے سید احمد خاں کی ملاقات کے مواقع کم ہی رہے ہوں گے لیکن غالب اور سیداحمدخاں کے ادبی آثار میں ایسے متعدد شواہد دستیاب ہوتے ہیں جن سے ان دونوں ہم عصروں میں باہمی تعلقات کا اظہار ہوتا ہے۔ مرزا غالب کا اردو دیوان پہلی بار سید احمد خاں کے بڑے بھائی سید محمد خاں کے مطبع واقع دہلی سے شعبان 1257ھ مطابق اکتوبر 1841ءمیں شائع ہوا تھا۔ ان دونوں کے درمیان میں تعلقات کی تصدیق سید احمد خاں کے نام غالب کے اس نودریافت فارسی خط سے بھی ہوتی ہے۔ جو 10جنوری، 1842ءکے بعد مگر 31دسمبر، 1845ءسے قبل اس زمانے میں لکھا گیا تھا جب سید احمد خاں فتح پور سیکری (ضلع آگرہ) کے منصف تھے۔

غالب کا ایک نو دریافت فارسی خط کتاب تلاش غالب میں موجود ہے۔ اور اس کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ خط دراصل غالب کے نام سید احمد خاں کے ایک خط کا جواب ہے۔ غالب کا یہ خط اور اس میں سید احمد خاں کے مکتوب کا حوالہ غالب اور سید احمد خاں کے درمیان مکاتبت کے رشتے کا بھی انکشاف کرتا ہے اس خط سے یہ بھی علم ہوتا ہے کہ غالب نے اس خط کے ہمراہ سید احمد خاں کو اپنی ایک نعتیہ مثنوی بھی نقل کرکے ارسال کی تھی۔ غالب نے مکتوب الیہ کے بڑے بھائی کو آخر میں سلام لکھ کراس خط کو تمام کیا ہے۔ سید احمد خاں کے بڑے بھائی سید محمد خاں 31ذی الحجہ 1621ھ مطابق 31دسمبر، 1854ءکو دہلی میں فوت ہوئے تھے لہٰذا سید احمد خاں کے نام غالب کایہ فارسی خط 31دسمبر، 1854ء سے قبل لکھا گیا ہوگا۔ سید احمد خاں مرزا غالب سے غیر معمولی عقیدت رکھتے تھے۔ سید صاحب کی کتاب آثار الصنادید کے 7481ءکے پہلے ایڈیشن کے چوتھے باب میں ذکر بلبل نوایان سواد جنت آباد حضرت شاہ جہاں آباد کے عنوان کے تحت دہلی کے جن متعدد شاعروں کا حال ملتا ہے ان میں سر فہرست خاصی مدح و تعریف کے ساتھ غالب کے مفصل احوال اور ادبی آثار کو جگہ دی گئی ہے۔

اس کتاب میں ذکر غالب کے ضمن میں سید احمد خاں نے غالب سے اپنے عقیدت مندانہ گہرے روابط کا حال ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ : ”ان (غالب)کی نعمت تربیت کا راقم آثم (سید احمد خاں) کو جو ان کی خدمت میں ہے، اس کا بیان نہ قدرت تقدیر میں ہے اور نہ احاطہ تحریر میں آسکتا ہے اور چوں کہ ”دلہا بدلہا باشد“ ان حضرت کو بھی وہ شغف تھا راقم کے حال ہے کہ شاید اپنے بزرگوں کی طرف سے کئی مرتبہ اس کا مشاہدہ کیا ہوگا میں اپنے اعتقاد میں ان کے ایک حرف کو بہتر ایک کتاب سے اور ان کے ایک گل کو بہتر ایک گلزار سے جانتا ہوں۔“ 9 سید احمد خاں نے مرزا غالب کی فارسی نثر و نظم کے نمونے پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مرزا صاحب کی اردو شاعری کے نمونوں کوبھی اس کتاب میں شامل کیا ہے۔ اس میں سید احمد خاں نے غالب کے احوال و ادبی آثار کے علاوہ غالب کے جن شاگردوں کے احوال و آثار کو کتاب میں جگہ دی ہے۔ ان میں یہ نام شامل ہیں: نواب محمد ضیاءالدین خاں بہادر نیر درخشاں (ص ص 441 تا 951) نواب زین العابدین خاں بہادر عارف (ص ص 951 تا 361) نواب غلام حسن خاں محودہلوی (ص 361) نواب ذو الفقار علی خاں آذر (ص 561) نواب محمد مصطفیٰ خاں بہادر حسرتی و شیفتہ (ص ص 202 تا 012) آثار الصنادید اپنے دامن میں غالب کی ایک منثور فارسی تقریظ بھی رکھتی ہے غالب کی یہ تقریظ پنج آہنگ (مشمولہ کلیات نثر غالب)میں بھی محفوظ ہے۔ غالب نے سید صاحب کی کتاب آثار الصنادید کا ایک نسخہ اپنے کرم فرما حکیم سید رجب علی خاں ارسطو جاہ ( 6081۔9681ئ ) کو اپنے جس فارسی مکتوب کے ہمراہ ارسال کیا تھا اس میں غالب نے اس کتابکی تعریف کی تھی۔ (احوال غالب ص 91) غالب کے مکتوب الیہ ارسطو جاہ علم ریاضی میں سید احمد خاں کے حقیقی نانا (دبیر الدولہ امین الملک خواجہ فرید الدین احمد خاں مصلح جنگ) کے شاگرد رہ چکے تھے۔[14] ارسطو جاہ سید رجب علی خاں کے مختصر حالات زندگی بزم غالب میں موجود ہیں۔11 غالب کے ادبی آثار میں سید احمد خاں کی مرتب کردہ فارسی کتاب آئین اکبری (سنہ اشاعت 2721ھ مطابق 5581ئ)پر بشکل مثنوی ایک منظوم فارسی تقریظ بھی موجود ہے۔ اڑتیس اشعار کی یہ مثنوی کلیات غالب طبع 3681ءمیں شامل ہے۔ اس مثنوی میں غالب نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ آئین اکبری جیسی تقویم پارینہ کتاب پر محنت کرنے کی بجائے انگریزوں کے آئین حکومت پر توجہ دینا بہتر ہوگا۔

اپنی مرتب کردہ کتاب آئین اکبری کے خلاف غالب کی یہ تقریظ سید احمد خاں کو ناپسند ہوئی اور انہوں نے اسے کتاب میں شائع نہیں کی۔ 2721ھ/5581ءکے آس پاس کا یہ ناخوش گوار واقعہ غالب اور سید احمد خاں کے درمیان میں تعلقات میں کشیدگی و بد مزگی کا سبب بنا تھا۔[15] آئین اکبری پر غالب کی مخالفانہ تقریظ کی واپسی کے سلسلے میں سید احمد خاں نے غالب کے نام جو خط لکھا تھا وہ تو اب ناپید ہے لیکن حیات جاوید (ص ص 27 تا 37)میں اس ناخوشگوار واقعے کے متعلق مولانا حالی کے بیان کی شہادت سید احمد خاں اور غالب کے درمیان مکاتبت کے اس رشتے کی نشان دہی ضرور کرتی ہے جس کے ثبوت سطور گذشتہ میں پہلے بھی پیش کیے جاچکے ہیں۔ آئین اکبری کے متعلق غالب کی یہ مخالفانہ تقریظ اس لحاظ سے بھی ہمارے نزدیک ایک بعید از انصاف بات ثابت ہوتی ہے کہ غالب اس واقعے سے کچھ عرصہ قبل خود مہر نیم روز کے عنوان سے سلطنت مغلیہ کی تاریخ لکھ چکے تھے۔ مہر نیم روز کی پہلی اشاعت 2ربیع الاول 1721ھ مطابق جمعہ 32نومبر 4581ءکو منظر عام پر آئی تھی جو اکبر اعظم کے والد مغل حکمراں نصیر الدین ہمایوں تک کی سلطنت مغلیہ کی تاریخ پر مشتمل ہے ۔


ان حقائق کے پیش نظر سلطنت مغلیہ کی تاریخ سے متعلق جس کام کو وہ خود انجام دے چکے تھے اس کی سر انجام دہی پر غالب کا سید احمد خاں کو روکنا کہاں تک جائز تھا۔؟ ہمارے خیال میں یہ سوال قابل غور ضرور ہے۔ سید احمد خاں کی مرتب کردہ کتاب آئین اکبری کے متعلق غالب کی تقریظ سے ان دونوں ہم عصر مشاہیر کے درمیان میں 5581ءکے آس پاس پیدا ہوجانے والی یہ دوری یوں دورہوئی کہ مرزا غالب جب سفر رامپور سے دہلی واپس ہو رہے تھے تو وہ راہ میں چند روز کے لیے مراد آبادکی سرائے میں ٹھہرے۔ سید احمد خاں اس زمانے میں مراد آباد ہی میں صدر الصدور تھے۔ سید صاحب غالب کو سرائے سے اپنے مکان لے آئے اور انہوں نے اپنے مکان پر غالب کی خاطر خواہ خاطرمدارات کرکے ان سے اپنے روابط دوبارہ استوار کر لیے۔ حالی کا بیان ہے کہ غالب نے یہ سفر والی ِ رام پور نواب یوسف علی خاں کے زمانے میں کیا تھا 41 ہماری معلومات کے مطابق نواب یوسف علی خاں کے دور میں غالب کے قیام رام پور کازمانہ 72جنوری 0681ءسے 71مارچ 0681ءتک کی درمیانی مدت کو محیط رہا تھا اور وہ 71مارچ سے 42مارچ 0681ءکی درمیانی تاریخوں کے دوران مراد آباد میں سید احمد خان کے مکان پر ایک آدھ روز مہمان رہے تھے۔ 51 غالب اور سید احمد خاں کے درمیان میں ذاتی نوعیت کے یہ روابط ہمارے غالب اور علی گڑھ کے سلسلے میں پس منظر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ غالب کے عزیزوں، کرم فرماﺅں، شاگردوں اور عقیدت مندوں کی فہرست میں ایسے متعدد افراد کے نام ملتے ہیں جن کے روابط سید احمد خاں سے بھی ثابت ہوتے ہیں ان دونوں ہم عصر مشاہیر کے مشترک مربیوں اور رفیقوں وغیرہ کی جامع و مکمل فہرست جس محنت و فرصت کی طالب ہے اس کے لیے سر دست ہمارے پاس وقت نہیں۔ ہم غالب و سید احمد خاں کے دائرہ تعارف و تاثر میں شامل صرف ان چند افراد کے مختصر ذکر پر اکتفا کرتے ہیں جن کا حوالہ ان دونوں مشاہیر کے احوال یا ادبی آثار وغیرہ میں ہماری نظر سے گزرا ہے۔

سید محمد خاں سید محمد خاں (متوفی 31ذی الحجہ 1621ھ مطابق 31دسمبر 5481ئ) سید احمد خاں کے حقیقی بڑے بھائی تھے۔ سید محمد خاں نے سید الاخبار کے نام سے دہلی سے ایک ہفتہ وار اخبار نکالا تھا جس میں سید احمد خاں کے مضامین بھی چھپا کرتے تھے۔ یہ اخبار جس پریس سے شائع ہوتاتھا اس کے یہ دو نام ملتے ہیں:

  1. لیتھو گرافک پریس دہلی۔
  2. مطبع سید الاخبار دہلی۔

سید الاخبار کے لیتھو گرافک پریس دہلی سے غالب کا اردو دیوان ان کی زندگی کے دوران میں پہلی بار شعبان 7521ھ مطابق اکتوبر 1481ءمیں چھپا تھا۔ غالب شاید اسی لیے سید محمد خاں اور ان کے سید الاخبار کو عزیز رکھتے تھے۔ سید الاخبار اور سید محمد خاں کے متعلق غالب نے میجر جان کوب کو اپنے ایک فارسی خط میں جو کچھ لکھا ہے اس کا اردو مفہوم پیش کیا جاتا ہے۔ ”سید الاخبار کے بارے میں آپ نے جو کچھ لکھا ہے وہ منت مزید ہے مطبع سید الاخبار کے مالک جو میرے دوست ہیں میراکلام چھاپ رہے ہیں۔ دیوان اردو غالباً ایک مہینے کے اندر چھپ کر نظر عالی سے گزرے گا۔ سید الاخبار ہر ہفتے آپ کی خدمت میں پہونچتا رہے گا مطبع والوں نے میری آپ سے نیاز مندی کی بنا پر آپ کا نام نامی سر فہرست خریداران رکھا ہے۔ “ مطبع سید الاخبار سے غالب کے اردو دیوان کے علاوہ خودسید احمد خاں کی بھی بعض کتب شائع ہوئی تھیں۔ جن میں آثار الصنادید طبع اول (مطبوعہ 7481ءبھی شامل ہے (بہ حوالہ آثار الصنادید سید احمد خاں مرتبہ خلیق انجم جلد اول اردو اکادمی دہلی طبع 0991ءص 751)

تصانیف[ترمیم]

مرزا غالب کی تصانیف یہ ہیں،

دیوان ِ غالب

:اس میں مرزا کا اردو کلام ہے جس میں غزلو ں کے علاوہ قصائد، قطعات اور رباعیات ہیں۔

دستنبو:

اس کتاب میں 1850 سے لے کر 1857 تک کے حالات درج ہیں۔ یہ کتاب فارسی میں ہے جو پہلی بار 1858 میں شائع ہوئی۔ اردو میں اس کا ترجمہ خواجہ احمد فاروقی نے کیا ہے

۔مہر نیمروز

:تیمور سے ہمایوں کے عہد تک کے حالات لکھے۔ پھر بادشاہ کی فرمائش پر حکیم احسن اللہ خاں نے حضرت آدم سے چنگیز خاں تک کی تاریخ مرتب کی جسے غالب نے فارسی میں منتقل کیا۔

قاطع بُرہان:

فارسی لغت ‘برہانِ قاطع’ از مولوی محمد حسین تبریزی کا جواب ہے۔ قاطع برہان کی اشاعت 1861 میں ہوئی بعد میں اعتراضات کا اضافہ کرکے غالب نے اسی کو ‘دُرفش کاویانی’ کے نام سے 1865 میں شائع کیا

۔میخانۂ آرزو

:فارسی کے کلام کا پہلا ایڈیشن 1845 میں اسی نام سے چھپا۔ پھر بعد میں کلیات کی شکل میں کئی ایڈیشن چھپے

۔سبد چین

:اس نام سے فارسی کلام1867 میں چھپا۔ اس مجموعے میں مثنوی ابر گہربار کے علاوہ وہ کلام ہے جو فارسی کے کلیات میں شامل نہیں ہو سکا تھا۔دعائے صباح:عربی میں دعا الصباح حضرت علی سے منسوب ہے۔ غالب نے اسے فارسی میں منظوم کیا۔ یہ اہم کام انھوں نے اپنے بھانجے مرزا عباس بیگ کی فرمائش پر کیا تھا۔

عودہندی:

پہلی مرتبہ مرزا کے اردو خطوط کا یہ مجموعہ 1868 میں چھپا۔اردوئے معلیٰ:غالب کے اردو خطوط کا مجموعہ ہے جو 1869 میں شائع ہوا۔

مکاتیب غالب

:مرزا کے وہ خطوط شامل ہیں جو انھوں نے دربار رامپور کو لکھے تھے اور جسے امتیاز علی خاں عرشی صاحب نے مرتب کرکے پہلی مرتبہ 1937 میں شائع کیا

۔نکات غالب رقعات غالب

:نکات غالب میں فارسی صَرف کے قواعد اردو میں اور رقعات غالب میں اپنے پندرہ فارسی مکتوب ‘پنج آہنگ’ سے منتخب کرکے درج کیے تھے۔ غالب نے ماسٹر پیارے لال آشوب کی فرمائش اور درخواست پر یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔

قادرنامہ:

مرزا نے عارف کے بچوں کے لیے آٹھ صفحات پر مشتمل یہ ایک مختصر رسالہ قادرنامہ[16] لکھا تھا جس میں ‘خالق باری’ کی طرز پر فارسی لغات کا مفہوم اردو میں لکھا گیا تھا

۔ جیسے اس نظم کا پہلا شعر ہے

:قادر اللہ اور یزداں ہے

خداہے نبی مرسل، پیمبر رہنما

غالبیات[ترمیم]

شمار مرزا غالب پر کتب کے نام مصنفین کے نام سنہ اشاعت
1 نوادر غالب اکبر حیدری 2002
2 نوارد غالب نثار احمد فاروقی
3 نقش ہائے رنگ رنگ، مطالعات غالب اسلوب احمد انصاری 1998
4 طرز غالب محمد عرفان 1972
5 شعور اور لاشعور کا شاعر غالب سلیم اختر
6 شرح دیوان اردو غالب، وجدان تحقیق محمد عبدالواجد 1902
7 سائنس اور غالب وہاب قیصر 2000
8 روح کلام غالب، تفسیر کلام غالب مرزا ظفر بیگ سہارنپوری 1935
9 ساز سخن بہانہ ہے ادا جعفری 1982
10 مکمل وضاحت کے ساتھ نسیم عباسی 2009
11 دود چراغ محفل سید حسام الدین راشدی 1969
12 خیابان غالب نادم سیتا پوری 1970
13 دبستان غالب ناصرالدین ناصر
14 خزینہ غالب ابرار رحمانی 2009
15 جہان غالب قاضی عبدالودود 1995
16 جاگیر غالب پرتھوی چندر
17 جان غالب انعام اللہ خان ناصر
18 جہات غالب ڈاکٹر عقیل احمد 2004
19 توضیحی اشارئہ غالب نامہ فاروق انصاری 1993
20 توقیت غالب کاظم علی خان 1999
21 تلامذہ غالب مالک رام 1984
22 تلمیحات غالب محمود نیازی 1972
23 تمنا کا دوسرا قدم اور غالب فرمان فتح پوری 1995
24 تلاش غالب نثار احمد فاروقی 1969
25 تفہیم غالب شمس الرحمن فاروقی 1989
26 تفہیم غالب کے مدارج شمس بدایونی 2015
27 تصویر غالب ڈی اے ہیریسن قربان 1989
28 تفسیر غالب گیان چند جین 1986
29 ترجمان غالب شہاب الدین مصطفٰی
30 تصورات غالب محمد عزیز حسن 1987
31 تجزیہ کلام غالب رفیع الدین بلخی 1966
32 تخت غالب اوتار کرشن گنجو 2014
33 پیغمبران سخن - کبیر ، میر اور غالب علی سردار جعفری 1983
34 بیان میرٹھی اور غالب ڈاکٹر شرف الدین ساحل 1993
35 بیدل و غالب ڈاکٹر سید احسن الظفر 2012
36 بیان غالب آغا محمد باقر 1940
37 بنگال میں غالب شناسی کلیم سہسرانی 1990
38 بھوپال اور غالب عبدالقوی دسنوی 1969
39 بچوں کے مرزا غالب اسلم فرخی 2011
40 بنام غالب صلاح الدین پرویز 2011
41 باقیات غالب وجاہت علی سندیلوی 1969
42 آئینہ افکار غالب ، کلام غالب پر نئی روشنی شان الحق حقی 2001
43 آہنگ غالب منشی پریم چند
44 انشائے غالب رشید حسن خان 1994
45 انتخاب غالب ممتاز حسین 1957
46 املائے غالب رشید حسن خان 2000
47 انتخاب آتش و غالب چکبست برج نرائن 1980
48 اقبال اور غالب حامدی کشمیری 1978
49 اصلاحات غالب نظم طباطبائی 1966
50 اطراف غالب ڈاکٹر سید عبد اللہ 1974

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب https://pantheon.world/profile/person/Ghalib — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. ^ ا ب Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/ghalib-mirza-asadullah — بنام: Mirza Asadullah Ghalib
  3. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12160770z — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: Bibliothèque nationale de France — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  4. کالی داس گپتا رضا: دیوان غالب کامل، صفحہ 82۔
  5. کالی داس گپتا رضا: دیوان غالب کامل، صفحہ 91۔
  6. کالی داس گپتا رضا: دیوان غالب کامل، صفحہ 83۔
  7. کالی داس گپتا رضا: دیوان غالب کامل، صفحہ 88۔
  8. کالی داس گپتا رضا: دیوان غالب کامل، صفحہ84۔
  9. حیات جاوید، مصنفہ، خواجہ الطاف حسین حالی۔
  10. تتلیوں کی تلاش۔۔ سید نصیر شاہ
  11. حیات جاوید (ص 676)
  12. حیات جاوید (ص 45)
  13. حیات جاوید ص 95نیز ص 16 تا 26
  14. (حیات جاوید ص ص 43 تا 53)
  15. (حیات جاوید ص ص 27، تا 37 نیز یادگار غالب ص ص 18 تا 38)
  16. قادرنامہ

بیرونی روابط[ترمیم]