مرزا خلیل احمد بیگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خلیل احمد بیگ.jpg

مرزا خلیل احمد بیگ(پیدائش:1945ء)اردو کے ممتاز ماہر لسانیات،لکھنؤ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ جامعہ علی گڑھ میں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔یکم جنوری 1945 کوگورکھپور میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم یہیں سے مکمل کی۔1964ء میں علی گڑھ منتقل ہو گئے۔1975ء میں جامعہ علی گڑھ سے پی-ایچ-ڈی کی ڈگری حاصل کی۔اسی جامعہ میں شعبہ لسانیات کے سربراہ بھی رہے اور اس عہدے سے 31 دسمبر 2006ء میں سبکدوش ہوئے۔[1]۔1994ء میں امریکا کا علمی سفر شروع کیا اور یونیورسٹی آف ٹینسٹی(ناکس ول) کے شعبہ سانیات میں داخلہ لیا۔1996ء میں واپس بھارت کا رخ کیا اور سماجی لسانیات پر ایک کتاب لکھی۔

حالات زندگی:[ترمیم]

مرزا خلیل احمد بیگ 1945ء میں گورکھپور (یو پی) میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی۔اس کے بعد وہیں سے میاں صاحب جارج اسلامیہ (MSGI) کالج سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے  انگریزی ادبیات  کےساتھ بی اے اور ایم اے کے امتحانات پاس کرنے کے  بعد انہی کی نگرانی  میں پی ایچ-ڈی میں  داخلہ لیا۔ابھی ان کی ریسررچ کا سلسلہ جاری تھا کہ شعبۂ لسانیات میں علی گڑھ کالج میں ہی  عارضی  لیکچرر کی حیثیت سے ان کی تقرری ہو گئی۔1975ء میں انھوں نے پی ایچ -ڈی  مکمل کر لی تاہم سند 1976ء میں تفویص ہوئی۔

علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں چار سال (1973ء تا 1977ء )  عارضی لیکچرار رہنے کے بعد ان کی تقرری سولن (ہما چل پردیس) میں حکومت ہند کےقائم کردہ ادارے "اُردو تدریسی و تحقیقی مرکز"(Urdud Teaching  and Reasearch Centre) میں پرنسپل کی حیثیت سے ہو گئی۔یہ ادارہ سینٹرل انسٹ ٹیوٹ  آف انڈین لینگوئجز  (میسور) کے تحت کام کرتا تھا ، جس کا  براہ ِراست تعلق   وزارت فروغ انسانی وسائل ، حکوم ت ہند سے تھا۔سولن کا یہ ادارہ  بنیادی طور پر ہما چل پردیس کے سرکاری سکولوں کے اساتذہ  کو   اُردو کی تربیت دینے کے لیے قائم کیاگیا تھا تا کہ اساتذہ  یہاں سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد سہ لسانی فارمولے کے تحت اپنے اپنے اسکولوں میں اُردو پڑھانے کے اہل ہو سکیں۔اس ادارے میں قیام کے دوران انھوں نے "آئیے اُردو سیکھیے  " کے  نام سے ایک کتابچہ  تیار کیا جو بعد میں  اشاعت پذیر ہو کر بہت مقبول ہوا۔اگست  1981ء میں سولن سے مستعفی ہو کر انھوں نے  دوبارہ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں ملازمت کا آغاذ کیا اور  2001ء میں شعبۂ لسانیات کی صدارت پر فائز ہوئے اور 2006 ء  تک منصب پر فائز  رہے۔بالآخر 33 سال تک درس و تدریس  کے فرائض سر انجام دنے کے بعد 31 دسمبر 2006ء  کو عمر عزیز کے 62 سال مکمل ہونے پر وظیفہ حسنِ خدمت پر علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے سبک دوش ہوئےعلی گڑھ  مسلم یونی ورسٹی میں ملازمت کے دوران انھوں نے شعبہ لسانیات  اور مادر علم کے لیے کئی کاریائے نمایاں سر انجام دیے۔اپنی مدمت ملازمت کے دوران انھوں نے 20 طلبہ و طالبات کو ایم فل اور پی ایچ –ڈی کے تحقیقی مقالوں کی نگرانی کی۔ان کی کوششوں سے   جامعہ کے ذو لسانی       مجلے " اطلاقی لسانیات(Applied Linguistics) کا اِجرأ عمل میں آیا۔انھوں نے جامعہ میں کئی  سیمینار بھی منعقد کرائے۔1986ء میں  ان کا تقرر جامعہ اُردو علی گڑھ میں اعزازی خازن (Treasuree) کی حیثیت سے  پانچ سال کے لیے ہو گیا۔پانچ سال کی مدت ختم ہونے کے بعد دوبارہ پھر انھیں جامعہ اُردو کی مجلس عامہ کی طرف سے اعزاری خازن کی  حیثیت سے منتخب کر لیا۔بعد میں خلیق انجم  جب جامعہ  اُردو کے وائس چانسلر منتخب ہوئے تو اُنھوں نے بھی انھیں اعزاری خازن کی حیثیت سے اپنی ٹیم میں شامل کر لیا تاہم  بعد میں مستعفی ہو گئے۔وہ اس دوران جامعہ اُردو سے شائع ہونے والے مجلے "ادیب" کے مدیر بھی رہے۔

لسانیات میں مزید تعلیم کے لیے وہ 1994ء میں  امریکہ روانہ ہو گئے اور یہاں یونی ورسٹی آف ٹینیسٹی(ناکس ول)  کے شعبہ میں لسانیات میں داخل  لے  لیا۔یہاں سے واپسی پر اُنھوں نے سماجی لسانیات(Sociolinguistics) کے موضوع پر ایک کتاب لکھی جو 1996ء میں نئی دہلی سے شائع ہوئی۔

1998ء میں ان کاتقرر سعودی عرب میں واقعہ جامعہ کنگ خالد(King Khalid University)  میں شعبۂ انگریزی میں  بحیثیت پروفیسر  ہو گیا۔جولائی 2010ء میں سعودی عرب سے واپس آئے اور 2011ء میں دوبارہ علمی سفر  پرامریکہ روانہ ہو گئے۔علی گڑھے سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ مسلسل مختلف اداروں میں علمی خدمات ادا کر رہے ہیں۔اسلوبیات ، اطلاقی لسانیات ان کی دلچسپی کے موضؤعات ہیں۔ان کی دلچسپی کا دوسرا  بڑامیدان اُردو زبان و  قواعد کی تاریخ ہے۔وہ مسلسل ان موضوعات پر لکھ رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ  علمی دنیا میں وہ ایک نامور  ماہر لسانیات اور اسلوبیاتی نقاد کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔

تصانیف:[ترمیم]

آپ کی اہم کتب کے نام حسب ذیل ہیں۔[2]

1-اردو کی لسانی تشکیل(1985ء)

2-تنقید اوراسلوبیاتی تنقید(2005ء)

3-اردو کا تاریخی تناظر

4-پنڈت بر جموہن دتاتریہ کیفی(احوال و آثار)(1989ء)

5-مسعود حسین خان(احوال وآثار)(2015ء)

6-نذر مسعود

7-اردولفظ کا صوتیاتی و تجزصوتیاتی تجزیہ(مسعود حسین خان کی انگریزی کتاب کا اردو ترجمہ)(1986ء)

8-ایک بھاشا جو مسترد کر دی گئی(2007ء)

9-لسانی مسائل و مباحث(2016ء)

10-لسانی تناظر(1997ء)

11-مکاتیب مسعود(2017ء)

12-پریم چند-شخصیت اور فن(1997ء)

13-زبان ،اسلوب اور اسلوبیات(1983ء)

14-آئیے اردو سیکھیئے(1987ء)

15-اردو زبان کی تاریخ(1995ء)

16-اسلوبیاتی تنقید(2014ء)

17-ادبی تنقید کے لسانی مضمرات(2012ء)

18-Urdu Grammar-History & structure,1988

19-Pschyolinguistitics & language acquisition,1991

20-Sociolinguistics-perspectives of urdu & hindi,1996

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مکاتیب مسعود،مروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ،دہلی، ایجوکیشنل بک ہاؤس،2017ء
  2. مکاتیب مسعود، پروفیسر مرزاخلیل احمد بیگ،نئی دہلی، ایجو کیشنل بک ہاؤس،2017