مرزا قلیچ بیگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مرزا قلیچ بیگ
مرزا قلیچ بیگ

معلومات شخصیت
پیدائش 4 اکتوبر 1853  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ٹنڈو ٹھوڑو،  حیدرآباد،  برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 3 جولا‎ئی 1929 (76 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ٹنڈو ٹھوڑو،  حیدرآباد،  برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی الفنسٹن کالج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مترجم،  ناول نگار،  ماہرِ لسانیات،  ڈراما نگار،  مؤرخ،  شاعر،  لغت نویسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان انگریزی،  سندھی زبان،  فارسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل ڈراما،  خود نوشت،  سندھ کی تاریخ،  لغت،  ترجمہ،  ناول،  سوانح،  بچوں کا ادب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

شمس العلما مرزا قلیچ بیگ (انگریزی: Mirza Kalich Beg)، (پیدائش: 4 اکتوبر،1853ء - وفات: 3 جولائی، 1929ء) سندھ سے تعلق رکھنے والے انیسویں صدی کے مشہور و معروف عالم، صاحبِ دیوان شاعر، ماہرِ لسانیات، ماہرِ لطیفیات، مورخ، مترجم، ناول نگار اور ڈراما نویس تھے۔ انہوں نے آٹھ مختلف زبانوں میں تقریباً 457 کتابیں تصنیف، تالیف و ترجمہ کیں، ان میں عربی، بلوچی، انگریزی، فارسی، سندھی، سرائیکی، ترکی اور اردو زبانیں شامل ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

مرزا قلیچ بیگ 4 اکتوبر،1853ء ٹنڈو ٹھوڑو، حیدرآباد، سندھ، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے[1]۔ ان کے والد مرزا فریدون بیگ کا تعلق وسطی ایشیا کے علاقے جارجیا کے ایک مسیحی گھرانے سے تھا، انہیں جنگ میں قید کر کے سندھ کے مرزا خُسرو بیگ کے ہاتھ ایک غلام کے طور پر فروخت کر دیا گیا۔ خُسرو بیگ، مرزا فریدون کو اپنے ساتھ سندھ لے آیا اور انہیں آزاد کر کے تعلیم و تربیت دلوائی۔ فریدون بیگ نے خُسرو بیگ کی بیٹی سے شادی کی۔ برطانیہ افواج کے ہاتھوں تالپور میر وں کی حکومت کے خاتمے اور سندھ پر انگریزوں کے قبضے کے بعد فریدون بیگ حیدرآباد کے مضافات میں واقع ایک گھر میں سکونت پزیر ہوئے جہاں 1853ء میں مرزا قلیچ بیگ تولد ہوئے۔[1]

قلیچ بیگ نے ابتدائی تعلیم مکتب سے حاصل کی اور بعد ازاں گورنمنٹ ہائی اسکول حیدرآباد میں داخلہ لے لیا۔ اس کے بعد انہوں نے الفنسٹن کالج بمبئی (Elphinstone College ) میں داخلہ لیا۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد سندھ واپس لوٹے اور انہوں نے عدالتی امتحان پاس کر کے مختیار کار کے طور پر شکارپور میں تعینات ہوئے۔ برطانوی راج کی تیس سالہ ملازمت کے اختتام پر 1910ء میں ڈپٹی کلکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔[1]

ادبی خدمات[ترمیم]

مرزا قلیچ بیگ نے آٹھ مختلف زبانوں میں 457 کتابیں تصنیف، تالیف و ترجمہ کیں، ان میں عربی، بلوچی، انگریزی، فارسی، سندھی، سرائیکی، ترکی اور اردو زبانیں شامل ہیں۔ ان کی کتب تاریخ، لطیفیات، شاعری، بچوں کا ادب، تنقید، سائنس کے علاوہ لاتعداد موضوعات پر مشتمل ہیں۔ انہوں نے زینت کے نام سے پہلا سندھی ناول اور ابتدائی سندھی ڈراموں میں سے ایک خورشید لکھا۔ مرزا قلیچ بیگ کی شاہ عبداللطیف بھٹائی کی سوانحِ حیات اور شاعری پر ان کی تصانیف سندھی ادب میں ایک بڑی شراکت اور سندھی زبان میں ادبی تنقید کا آغاز تصور کی جاتی ہیں۔ انہوں نے ہی سب سے پہلے چچ نامہ کا فارسی سے انگریزی میں ترجمہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے شیکسپئر کے لاتعداد ڈراموں کو سندھی کے قالب میں ڈھالا۔[2]

تصانیف / تالیف / تدوین / تراجم[ترمیم]

  • دیوان قلیچ
  • احوالِ شاہ عبد اللطیف بھٹائی
  • چچ نامہ (فارسی سے انگریزی ترجمہ)
  • ریاست خیرپور جی تاریخ
  • خورشید
  • زینت
  • ساؤ پن یا کارو پنو (خودنوشت)
  • دلارام
  • خودیاوری
  • حاجی بابا اصفہانی
  • جولئن ہوم
  • شاہ جو رسالو
  • لغات لطیفی
  • لطائف الطوائف
  • تحفۃ النسواں (عرب، عجم، ہند و سندھ کی 36 مشہور خواتین کا تذکرہ)
  • رستم (بچوں کا ادب)
  • لبا خان درزی اور خلیفہ کہنگ (بچوں کا ادب)
  • شہزادی قدم برگ (بچوں کا ادب)
  • وامق عذرا (بچوں کا ادب)
  • عجیب طلسم (بچوں کا ادب)
  • علم جی دولت (بچوں کا ادب)
  • گلیور جو سیر و سفر
  • نیکی اور بدی
  • انکوائری آفیسر (گوگول کے ڈرامے کا ترجمہ)

اعزازات[ترمیم]

مرزا قلیچ بیگ کی علمی و ادبی خدمات کے صلے میں برطانوی حکومت ہند نے شمس العلما کے خطاب سے نوازا۔

وفات[ترمیم]

مرزا قلیچ بیگ3 جولائی، 1929ء کو ٹنڈو ٹھوڑو، حیدرآباد، برطانوی ہندوستان میں وفات پاگئے۔[1][2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]