مندرجات کا رخ کریں

مرغاب دریا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

مرغاب دریا (پشتو: مرغاب سيند؛ درى: رود مرغاب؛ ترکمانی: Murgap deryasy) وسط ایشیا کا ایک اہم دریا ہے جو افغانستان کے شمال مغرب میں شروع ہوکر ترکمانستان کے علاقے ماری تک پہنچتا ہے اور آخر میں قرہ قوم صحرا میں ریت میں جذب ہو جاتا ہے۔ اس کی کل لمبائی تقریباً 850 کلومیٹر ہے اور یہ قدیم زمانے سے زراعت اور آبادی کے لیے اہم رہا ہے۔

نام اور تلفظ

[ترمیم]

دری اور پشتو میں اسے "مرغاب" کہتے ہیں جس کا مطلب "پرندوں کا دریا" ہے (مرغ + آب)۔ ترکمانی میں "مورگاپ" (Murgap) اور روسی میں "مورگاب" (Мургаб) کہلاتا ہے۔ تاریخی کتب میں اسے یونانی زبان میں "مارگوس" (Margus) بھی لکھا گیا ہے۔[1]

جغرافیائی محل وقوع

[ترمیم]

مرغاب دریا افغانستان کے صوبہ بدخشان کے علاقے واخان کے قریب کوہ ہزار مسجد کی چوٹیوں سے نکلتا ہے۔ یہ شمال کی طرف بہتا ہوا تخار اور بلخ صوبوں سے گزرتا ہے۔ افغانستان میں اس کا سب سے بڑا شہر مرغاب (بلخ) ہے۔ سرحد پار کر کے یہ ترکمانستان کے شہر ماری (قدیم مرو) کے قریب سے گزرتا ہے جہاں سے قدیم زمانے میں اس کی شاخیں شاہراہ ریشم کو سیراب کرتی تھیں۔ آخر میں یہ قرہ قوم صحرا میں ایک بڑے دلدل نما علاقے میں ختم ہو جاتا ہے اور تہران دریا (ٹیجین) کے ساتھ مل کر کبھی کبھی آمو دریا کو پانی پہنچاتا تھا۔[2]

تاریخی اہمیت

[ترمیم]

قدیم زمانے میں مرغاب دریا مرو کے آس پاس کی زرخیز وادی کی وجہ سے "مارگیانا" (Margiana) کے نام سے مشہور تھا۔ یہ علاقہ ہخامنشی، سلجوقی اور تیموری سلطنتوں کا اہم حصہ رہا۔ مرو شہر شاہراہ ریشم پر ایک بڑا تجارتی مرکز تھا اور مرغاب دریا ہی اس کی زندگی کی رگ تھا۔ آج بھی ترکمانستان میں ماری شہر کے قریب سلطان سنجر کا مقبرہ اور دیگر قدیم آثار اس دریا کے کنارے موجود ہیں۔[3]

موجودہ استعمال اور مسائل

[ترمیم]

مرغاب دریا کی پانی کی تقسیم افغانستان اور ترکمانستان کے درمیان ایک اہم مسئلہ ہے۔ ترکمانستان نے ماری کے قریب قرہ قوم کینال بنا رکھی ہے جو دریا کا زیادہ تر پانی صحرا کی طرف موڑ دیتی ہے، جس سے افغانستان کے نچلے علاقوں میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے۔ سوویت دور میں اس دریا پر کئی چھوٹے ڈیم اور نہریں بنائی گئیں جن میں سلطان بند اور ماری کے قریب واٹر ریگولیٹنگ سسٹم شامل ہیں۔[4]

ماحولیاتی صورت حال

[ترمیم]

صحرا میں جذب ہونے کی وجہ سے دریا کا اختتام ایک بڑے دلدل (delta) کی شکل میں ہوتا ہے جسے ترکمانی میں "بدخز" کہتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور زیادہ استعمال کی وجہ سے اس دلدل کا رقبہ سکڑ رہا ہے جس سے پرندوں اور جنگلی حیات کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. "Murghab River"۔ Encyclopædia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-12-01
  2. "Murghab River Basin – Transboundary Basin" (PDF)۔ UN-IGRAC (International Groundwater Resources Assessment Centre)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-12-01
  3. "Ancient Merv State Historical and Cultural Park"۔ UNESCO World Heritage Centre۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-12-01
  4. "Water Management in the Murghab River Basin" (PDF)۔ Central Asia Water Info۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-12-01