مرغوب الرحمن بجنوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مرغوب الرحمن بجنوری
رکنِ مجلس شوریٰ دار العلوم دیوبند
عہدہ سنبھالا
1962ء سے 1981ء تک
دارالعلوم دیوبند کے معاون مہتمم
عہدہ سنبھالا
1981ء سے 1982ء تک
دارالعلوم دیوبند کے گیارہویں مہتمم
عہدہ سنبھالا
1982ء سے 2010ء تک
پیشرومحمد طیب قاسمی
جانشینغلام محمد وستانوی
ذاتی
پیدائش1313ھ بمطابق 1914ء
وفات8 دسمبر 2010(2010-12-08) (عمر  95–96 سال)
مدفنقاسمی قبرستان
مذہباسلام
اولادانوار الرحمن بجنوری
(رکنِ مجلس شوریٰ دار العلوم)
فقہی مسلکحنفی
تحریکدیوبندی
مرتبہ

مرغوب الرحمن بجنوری (1914ء - 8 دسمبر 2010ء) ایک بھارتی عالم اور دارالعلوم دیوبند کے گیارہویں مہتمم تھے۔

ولادت و گھرانہ[ترمیم]

1313ھ م 1914ء کو محلہ قاضی باڑہ، بجنور میں شیخ الہند کے شاگرد اور محدث کشمیری کے رفیقِ درس مشیت اللّٰہ قاسمی (متوفی: 1952ء) کے یہاں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے بڑے بھائی مطلوب الرحمن بجنوری (متوفی: 1988ء) شیخ الاسلام کے شاگرد تھے۔[1][2]

تعلیمی و ابتدائی زندگی[ترمیم]

ان کی ابتدائی تعلیم مدرسہ رحیمیہ مدینۃ العلوم جامع مسجد، بجنور میں ہوئی۔ متوسط و اعلیٰ تعلیم کے لیے 1348ھ م 1929ء میں دار العلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور 1351ھ م 1932ء میں سندِ فراغت حاصل کی۔ مزید ایک سال رہ افتا کی تعلیم حاصل کی۔[1][2]

ان کے دار العلوم دیوبند کے اساتذہ[ترمیم]

ان کے دار العلوم دیوبند کے بعض اساتذہ کے نام درج ذیل ہیں:[1][2][3]

عالمیت کے اساتذہ


افتا کے اساتذہ

تدریسی و خدماتی زندگی[ترمیم]

فراغت کے بعد مختصر مدت تک مدرسہ رحیمیہ مدینۃ العلوم جامع مسجد، بجنور میں مدرس رہے۔ پھر گھریلو، تجارتی، ملی و سماجی خدمات میں لگ گئے اور تدریسی سلسلہ جاری نہ رہ سکا۔[1][4] فراغت کے بعد اپنے محلہ کی مسجد میں بغیر تنخواہ کے 25 سال امامت کے فرائض انجام دیے۔[5]

رکنِ مجلس شورٰی[ترمیم]

1382ھ بہ مطابق 1962ء میں انھیں مجلس شورٰی دار العلوم دیوبند کا رکن بنایا گیا۔[2]

اہتمامِ دار العلوم[ترمیم]

رجب 1401ھ م مئی 1981ء میں انھیں دار العلوم کا معاون مہتمم بنایا گیا اور شوال 1402ھ م اگست 1982ء میں انھیں محمد طیب قاسمی کے بعد دار العلوم دیوبند کا گیارہواں مہتمم بنایا گیا۔ اپنی وفات تک 29 سال وہ دار العلوم کے مہتمم ریے۔[1][6]

امارتِ شرعیہ ہند کی امارت[ترمیم]

مولانا سید اسعد مدنی کی وفات کے بعد 2006ء میں انھیں امارتِ شرعیہ ہند کا تیسرا امیر بنایا گیا۔ اسی مناسبت سے انھیں امیر الہند ثالث سے یاد کیا جاتا ہے۔[7][8]

دیگر اداروں یا تنظیموں کی رکنیت یا صدارت[ترمیم]

دار العلوم دیوبند کے اہتمام کے علاوہ؛ دیگر کئی اداروں اور تنظیموں کے رکن تھے:[8]

وفات[ترمیم]

1 محرم الحرام 1432ھ بہ مطابق 8 دسمبر 2010ء بدھ کی صبح کو بجنور میں ہجری سال کے اعتبار سے 100 سال اور شمسی سال کے اعتبار سے 96 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔[9][6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ عبد الرؤوف خان الغزنوي الأفغاني (ذو القعدة-ذو الحجة 1432ھ م أكتوبر -نوفمبر 2011ء). إلى رحمة الله العالم الصالح الحكيم فضيلة الشيخ/ مرغوب الرحمن (بزبان عربی) (ایڈیشن 2011). مجلہ الداعی، دار العلوم دیوبند. اخذ شدہ بتاریخ 08 نومبر 2021. 
  2. ^ ا ب پ ت ٹ ث ڈاکٹر محمد اللّٰہ قاسمی. "حضرت مولانا مرغوب الرحمن بجنوری". دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ (ایڈیشن اکتوبر 2020). دیوبند: شیخ الہند اکیڈمی. صفحہ 323-642-646. 
  3. ہفت روزہ الجمعیت، امیر الہند نمبر (مارچ 2011 ء - ربیع الاول 1432ھ)،۔ ایڈیٹر: محمد سالم جامعی، مضمون: کیا شخص تھا جو راہ وفا سے گذر گیا از حبیب الرحمن قاسمی اعظمی، صفحہ:29، ناشر: جمعیت علمائے ہند
  4. ہفت روزہ الجمعیت، امیر الہند نمبر (مارچ 2011 ء - ربیع الاول 1432ھ)،۔ ایڈیٹر: محمد سالم جامعی، مضمون: دار العلوم دیوبند کا بیدار مغز مہتمم نہ رہا از مولانا محمد مسعود عزیزی ندوی، صفحہ:82، ناشر: جمعیت علمائے ہند
  5. محمد نجیب قاسمی. دار العلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب. اخذ شدہ بتاریخ 09 نومبر 2021. 
  6. ^ ا ب ہفت روزہ الجمعیت، امیر الہند نمبر (مارچ 2011 ء - ربیع الاول 1432ھ)،۔ ایڈیٹر: محمد سالم جامعی، مضمون: مولانا مرغوب الرحمن: دار العلوم دیوبند کا مرد دانا و درویش از نور عالم خلیل امینی، صفحہ:33، ناشر: جمعیت علمائے ہند
  7. ہفت روزہ الجمعیت، امیر الہند نمبر (مارچ 2011 ء - ربیع الاول 1432ھ)،۔ ایڈیٹر: محمد سالم جامعی، مضمون: قافلۂ ملت کے سالار حضرت مولانا مرغوب الرحمن... دار العلوم دیوبند کے ایک مثالی سربراہ از محمد سالم جامعی، صفحہ:62، ناشر: جمعیت علمائے ہند
  8. ^ ا ب ہفت روزہ الجمعیت، امیر الہند نمبر (مارچ 2011 ء - ربیع الاول 1432ھ)،۔ ایڈیٹر: محمد سالم جامعی، مضمون: امیر الہند مولانا مرغوب الرحمن--ایک نظر میں از مولانا محمد سلمان بجنوری، صفحہ:2، ناشر: جمعیت علمائے ہند
  9. ضیاء الحق (9 دسمبر 2010). "Darul Uloom rector passes away in UP" [دار العلوم کے مہتمم کا یوپی میں انتقال]. ہندوستان ٹائمز (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 2021.