مروج الذہب و معادن الجواہر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مروج الذہب و معادن الجواہر
مروج الذہب و معادن الجواہر.jpg
مروج الذہب مع شرح کا سرورق
مصنف مسعودی
مترجم Paul Lunde اور Caroline Stone، Aloys Sprenger
ملک Medieval Iraq، برطانیہ
زبان عربی، تراجم: انگریزی، فرانسیسی
موضوع تاریخ
صنف غیر افسانوی
ناشر لنڈے اینڈ سٹون: کیگن پال انٹرنیشنل
تاریخ اشاعت
ایل اینڈ ایس: 1989
قسم ذرائع ابلاغ طبع زاد (مجلد)
آئی ایس بی این 0-7103-0246-0
او سی ایل سی 23145342
909/.097671 20
ایل سی درجہ بندی DS38.6 .M3813 1989

مروج الذہب و معادن الجواہر جسے مختصرا مروج الذہب بھی کہا جاتا ہے ایک کتاب تاریخ جسے مسعودی نے تحریر کیا ہے. اس کتاب کی تصنیف کے لیے مصنف نے بذات خود متعدد ممالک کا سفر کیا اور معلومات اکٹھا کی.

کتاب کا آغاز ابتدائے آفرینش سے ہوتا ہے، اور عباسی خلیفہ مطیع للہ کے دور حکومت پر ختم ہوجاتی ہے. مصنف نے اس کتاب میں تاریخ عالم میں ظاہر ہونے والی اقوام و ملل اقر حکومتوں کے احوال قلمبند کرنے کے ساتھ ان کی معاشرتی و ثقافتی حالات کا بھی دقت نظر سے جائزہ لیا ہے.

مروج الذہب کی پندرہ جلدیں اصلا دو حصوں پر مشتمل ہیں، تاریخ ما قبل اسلام اور ما بعد اسلام.

  1. ماقبل اسلام کی تاریخ میں مسعودی نے ابتداء تخلیق، کرہ ارض کے جغرافیائی حالات اور تقسیمیں بیان کی ہیں، انبیاء کے حالات زندگی کے ساتھ ساتھ گذشتہ یہودی، عیسائی، عرب، ایرانی، یونانی، رومی اور ہندی اقوام کی تاریخ تحریر کی ہے.
  2. مابعد اسلام کی تاریخ کے ذیل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت، خلفاء راشدین کے حالات اور بنو امیہ و بنو عباس کے دور خلافت کی تاریخ 336ھ تک تحریر کی ہے.

کتب تاریخ میں مروج الذہب انتہائی بلند مقام رکھتی ہے، اور متعدد عالمی زبانوں میں اس کے تراجم بھی شائع ہوچکے ہیں.

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  • المسعودی، علی بن حسین، الشافعی، ‏(مروج الذھب ومعادن

الجوھر ‏) دارالاندلس للطباعۃ و النشر : بیروت، سال اشاعت 1985 عیسوی۔ ‏(عربی)

  • کشف الظنون عن ﺃسامی الکتب والفنون، حاجی خلیفۃ،

الناشر : مکتبۃ المثنی - بغداد ودار ﺇحیاء التراث العربی، و دار الکتب الالعلمیہ

بیرونی روابط[ترمیم]