مرکز ثقافت سنیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مرکز ثقافت سنیہ
മർക്കസു സ്സഖാഫത്തി സ്സുന്നിയ്യ
دیگر نام
Jamia Markaz, Sunni Markaz, Karanthur Markaz
شعار Markaz Shaping a Culture
قسم جامعہ اسلامیہ
قیام 1978 (1978)
بانی Sheikh Aboobacker Ahmed
چانسلر Sheikh Aboobacker Ahmed
Sayyid Ali Bafaqih Thangal
نائب صدر Sayyid Yusuf Albukhari Vailathur, K.K Ahmmed Kutty Musliyar Kattippara
وائس چانسلر Dr. Hussain Saqafi Chullikkod
ڈائریکٹر Dr. A.P Abdul Hakeem Azhari
GM C. Muhammed Faizy
پتہ Karanthur، کالیکٹ، کیرلا، 673571، India
ویب سائٹ markazonline.com

جامعہ مرکز الثقافتی سنیہ، بھارت کی ریاست کیرلا، شہر کالیکٹ میں واقع ایک شافعی جامعۂ اسلامیہ ہے۔ یہ یونیورسٹی جناب کانتاپورم اے پی ابوبکر مسلیار کی قیادت میں کار انجام ہے۔ اس کا انعقاد 1978ء میں ہوا، جس کی سنگ بنیاد مکہ معظمہ کے اسلامی سکالر سید محمد ابن علوی المالکی نے رکھی۔ اس یونیورسٹی میں تقریباً 20،000 طلبہ علم حاصل کر رہے ہیں، جو قرآن، حدیث، فقہ، فنون، سائنس اور ٹیکنالوجی جیسے شعبہ جات سے تعلق رکھتے ہیں۔

جنوبی بھارت میں یہ ایک اہم ادارے کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ اس کے زیر ماتحت تقریباً 40 شاخیں قایم کی گئی ہیں جو پری پرائمری سے لے کر پی جی تک کے کورسس چلاتے ہیں۔ اسلامی نشاط ثانیہ کے لیے یہ ادارہ سرگرم ہے۔ یہ مرکز ایک چاریٹبل ادارہ ہے جو عوام اور دیگر اداروں کے عطیہ جات پر منحصر ہے۔

اس جامعہ کے کورسس کو جامعہ الازہر قاہرہ نے نشان دہی کی ہے۔ حال ہی میں شہر دوبئی اور دہلی میں بھی اپنی شاخیں قایم کی ہیں۔

ادارے[ترمیم]

  • کالج اور یتیم خانے
  • مراکز برائے اسلامی تحقیق
  • کالج برائے علم شریعہ
  • کالج برائے حفظ القران
  • مرکز انجنئیرنگ کالج
  • مرکز آرٹس اور کامرس کالیج
  • مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی تعلیمی مرکز (اسٹڈی سینٹر)
  • ترکیہ یتیم خانے
  • مزکز یتیم خانے برائے نسواں

صحتی خدمات[ترمیم]

اس مرکز کے زیر ماتحت کیمپس دواخانہ اور ریسرچ سینٹر میں صحتی خدمات انجام دئے جاتے ہیں۔ مریض طلبہ کو یہاں مفت علاج کیا جاتا ہے۔ ایک خصوصی ہسپتال بھی زیر تعمیر ہے۔ اور یونانی ہسپتال بھی خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس سال سے یونانی طبی کالج بھی قایم کرنے کے لیے ادارہ کوشاں ہے۔

فلاحی خدمات[ترمیم]

حاجتمند اور ضرورتمند طلبہ کو مرکز معاشی امداد بھی کرتا ہے۔ اگر کوئی طالب علم بیرونی ممالک میں جیسے روس اور مصر میں تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے معاشی تعاون کے لیے مخصوص فنڈ کا بھی انتظام ہے۔ اسی طرح میڈیکل اور انجنیئرنگ طلبہ جو دیگر ریاستوں میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے بھی سکالرشپ دی جاتی ہے۔ اس کام کو انجام دنے کے لیے دہلی میں ایک بہبودی سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے۔[1][2] اسلامی دعوہ میں اسناد بھی دئے جاتے ہیں، یہ اسناد حاصل کرنے والے مرکز الثقافتی طلبہ دنیا بھر میں دعوت کا کام بھ انجام دیتے ہیں۔

بیرون کیرلا، مرکز[ترمیم]

مرکز کے کئی ذیلی ادارے، علاقائی مراکز اور شاخیں مختلف مقامات پر قائم کیے گئے ہیں۔ خاص طور پر ذیل کے مقامات پر؛

  • دہلی - مرکز برائے اسلامی تعلیمات - لونی
  • اترپردیش - گلشنِ فاطمہ ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ برائے نسواں، نیوریا حسین پور، پھلبھیت۔
  • گجرات - مرکز پبلک اسکول و مدرسہ، گونڈال، راجکوٹ اور مرکز پبلک اسکول و مدرسہ، اپلیٹا۔
  • کرناٹک - النور ایجوکیشن سینٹر، میسور۔۔۔ مرکزالہدا کالج برائے نسواں، کمبرا، پتور۔۔۔۔ مرکز خائکہ ہائر ایجوکیشن سینٹر، بنگلور۔۔۔ مرکز اسکول کوتاموڑی، کوڈاگو۔۔۔ مرکز برائے اسلامی تعلیمات ہبلی۔۔۔
  • ممبئی - مرکز سینٹر، ڈونگری
  • کولکتہ - مرکز سینٹر
  • آسام - مرکز سینٹر
  • تریپورہ - مرکز سینٹر
  • تمل ناڈو - مرکز سینٹر
  • کشمیر - مرکز سینٹر۔۔۔ اور بہار اور لکشادیپ میں علاقائی مراکز

کتب خانے اور ابلاغی وسائل کتب خانے[ترمیم]

کتب خانے (لائبراریز)، ابلاغی وصائل کتب خانے (میڈیا ریسورس لائبراریز)، کافی کار آمد ثانے کی وجہ سے وسیع ترین وسائل فراہم کرکے، تعلیم، مطالعہ اور تحقیقی میدانوں میں ایک نئی جان ڈالنے کی کوشش میں جدید و قدیم کتابوں کے نسقے اس کتب خانے میں دستیاب ہیں۔ اس کتب خانے میں تقریباً 25 ہزار کتابیں موجود ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]