مرید حسین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

غازی مرید حسین شہید کا نام مرید حسین تھا اسیر تخلص رکھتے تھے۔

ولادت[ترمیم]

24 فروی1914ء میں کہوٹ قریش قوم کے یہ فرزند بھلہ کریالہ ضلع چکوال میں پیدا ہوئے ان کے والد کا نام عبد اللہ خان اوروالدہ کا نام غلام عائشہ تھا۔[1]

والد کا تعارف[ترمیم]

چوہدری عبد اللہ خان بھلہ کے رہائشی اور نمبردار تھے۔ بڑھاپے میں ملنے والی ان کی اکلوتی اولاد یہی مرید حسین تھا۔ ابھی مرید حسین 5 سال کے تھے کہ والد کا 1919ء میں انتقال ہو گیا۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

قرآن پاک اوردینی کتب کی تدریس سید محمد شاہ خطیب جامع مسجد بھلہ سے حاصل کی۔ عام تعلیم کے لیے قریبی قصبہ کریالہ کے اینگلوسنسکرت مڈل اسکول میں داخل ہوئے مڈل پاس کرنے کے بعد گورنمنٹ ہائی اسکول چکوال سے 1930،31ء میں میٹرک کیا۔

سلسلہ نسبت[ترمیم]

مرید حسین کا سلسلہ نسبت پیر محمد عبد العزیز چشتی المعروف قلندر کریم چاچڑ شریف سرگودھا سے تھا۔

ازدواجی زندگی[ترمیم]

1935ء میں جب ان کی عمر 20 سال تھی ان کی شادی محترمہ امیر بانو سے ہوئی جو چوہدری خیر مہدی نمبر دار بھلہ کی ہمشیرہ تھیں اور 1943ء میں فوت ہوئیں ۔

رام گوپال کا قتل[ترمیم]

1936ء میں زمیندار اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی کہ شفاخانہ حیوانات پلول ضلع گڑگاؤں کے انچارج ڈاکٹر رام گوپال نے گستاخی کرتے ہوئے اپنے شفا خانے کے گدھے کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نام پر رکھا ہے۔ اس خبر کے بعد اپنے مرشد خانہ پر مرشد خواجہ عبد العزیزچشتی کے پاس چاچڑ شریف ضلع سرگودھا گئے۔ اس کے بعد وہ نارنوند گئے کیونکہ رام گوپال پلول سے تبدیل ہو چکا تھا اسے للکار کر کہا "اوہ موذی اٹھ اج محمد دا پروانہ آگیا ای" اور نعرہ تکبیر کے ساتھ خنجر سے ایک ہی وار میں قتل کر دیا یہ واقعہ 8 اگست 1936ء کو ہوا اسے قتل کرنے کے بعد خود ہی گرفتاری پیش کر دی اور شرط یہ رکھی کہ مجھے کوئی مسلمان گرفتار کرے۔ مقدمہ چلا اعتراف قتل کے بعد انہیں سزائے موت ہوئی۔
دوران میں تفتیش اس سوال پر کہ مقتول کا حلیہ کہاں سے معلوم ہوا، اس شہبازِ محبت نے انکشاف کیا:

’’جس عظیم ذات نے مجھے اس کی شناخت کروائی، ان کے حضور تم تو کیا تمہارے خیال کا بھی گزر نہیں ہو سکتا۔ رام گوپال نے میرے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں گستاخی کی اور میرے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کرم فرمایا کہ اسے کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے مجھے چن لیا۔ میری قسمت جاگ اٹھی اور خواب میں آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس گستاخ کی صورت مجھے دکھائی اور میں نے جاگ کر اس کا حلیہ نوٹ کر لیا۔‘‘ اب میں اسے ختم کر چکا ہوں۔ یہ میرے ہنسنے اور ہندوؤں کے رونے کا وقت ہے۔‘‘[2]

شہادت[ترمیم]

آپ نے 22 سال کی عمر میں 18 رجب 24 ستمبر 1937ء کو شہادت پائی۔ بھلہ (موجودہ نام غازی محل) میں مدفون ہیں۔[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سوانح حیات غازی مرید حسین شہید،رائے محمد کمال ،شہیدان ناموس رسالت پبلیکیشنز چاہ میراں لاہور
  2. غازی مرید حسین شہیدؒ
  3. شہیدان ناموس رسالت ،محمد متین خالد۔ صفحہ84