مریم نواز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مریم نواز
Maryam Nawaz Sharif cropped.png
 

معلومات شخصیت
پیدائش 28 اکتوبر 1973 (48 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن)  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات محمد صفدر اعوان  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد نواز شریف  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ کلثوم نواز  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
حسین نواز،  حسن نواز  ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ پنجاب  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد ماسٹر آف آرٹس،  انگریزی ادب  ویکی ڈیٹا پر (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الزام و سزا
جرم جعل سازی  ویکی ڈیٹا پر (P1399) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مریم صفدر (اردو: مریم نواز) جو اپنے اصل نام مریم نواز شریف سے جانی جاتی ہیں۔ ایک پاکستانی سیاست دان ہیں۔ یہ نواز شریف اور کلثوم نواز شریف کی بیٹی ہیں۔[1]

مریم لاہور کے امیر شریف خاندان میں پیدا ہوئی، مریم نواز نے انگریزی ادب میں جامعہ پنجاب سے ڈگری لی۔ مریم نے ابتدائی طور پر 2012ء میں خاندان کے رفاہی ونگ میں کام کا آغاز کیا، مریم نواز کو پاکستان مسلم لیگ نے پاکستان کے عام انتخابات 2013ء کے دوران میں ضلع لاہور کی انتخابی مہم کا منتظم مقرر کیا۔ وزیر اعظم کے دفتر میں اپنے والد کے تیسرے غیر مسلسل انتخابات کے بعد، مریم کو 22 نومبر 2013ء کو وزیراعظم یوتھ پروگرام کا کرسی نشین مقرر کیا گيا، تاہم عدالت عالیہ لاہور میں اس فیصلے پر درخواست کے بعد مریم نواز نے 13 نومبر 2014ء کو استعفی دے دیا۔[2]

6 جولائی 2018ء کو پاکستانی عدالت نے جعلی دستاویزات پیش کرنے اور جرم میں معاونت کے الزام میں 7 سات قید اور 2 ملین پونڈ جرمانے کی سزا سنائی۔

خاندان اور تعلیم

مریم نواز شریف کی پیدائش لاہور، پنجاب، پاکستان میں ہوئی۔[3] ان کے والد، نواز شریف، تین بار اور موجودہ وزیر اعظم پاکستان ہیں، جبکہ، ان کی والدہ، کلثوم نواز شریف، موجودہ خاتون اول ہیں۔ مریم نواز کے دو بھائی، حسین اور حسن نواز اور ایک بہن، عاصمہ ہے۔ ان کے دادا، میاں محمد شریف، ایک صنعت کار اور اتفاق گروپ کے بانی تھے، جبکہ پرنانا، گاما پہلوان (پیدائشی نام غلام محمد)، ایک پہلوان تھے۔ ننھیال اور ددھیال دونوں امرتسر سے تھے، جو تقسیم ہند کے بعد پاکستان ہجرت کر گئے۔[4][5] شہباز شریف، موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب، ان کے چچا ہیں اور حمزہ شہباز شریف، رکن قومی اسمبلی پاکستان، چچا زاد۔[6] مصنفہ تہمینہ درانی، مریم نواز کی چچی ہیں۔[3]

سیاسی زندگی

سیاست میں آنے سے پیشتر، مریم نواز خاندان کی رفاہی تنظیم کے انتظام میں شامل رہیںn[7] اور شریف وقف ( ٹرسٹ)، شریف میڈیکل سٹی اور شریف تعلیمی اداروں کی سربراہ رہیں۔[8]

2012ء میں، مریم نے اپنی سیاست کی طرف آئیں اور 2013ء کے پاکستان کے عام انتخابت میں پاکستان مسلم لیگ ن کی طرف سے انتخابی مہم چلانے کی ذمہ داری سونپ دی گئی اور ان کی کارکردگی کو سراہا گيا۔[9][7] مریم کو نواز شریف کا ظاہری وارث[10][11][12] اور مسلم لیگ ن کا نیا رہنما سمجھا جانے لگا۔[13][14]

تنازعات

اپریل 2016ء میں، مریم نواز، اس کے بھائی حسن نواز شریف اور حسین نواز شریف کے نام پانامہ دستاویزات میں آئے، جو مبینہ طور پر ٹیکس چوری کا معاملہ ہو سکتا ہے۔[15][16][17]

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. "بیٹیوں کا دن". DAWN.COM. 2016-12-23. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 23 دسمبر 2016. 
  2. "PM Youth Loan Programme: Facing court challenges, Maryam calls it quits – دی ایکسپریس ٹریبیون". دی ایکسپریس ٹریبیون (بزبان انگریزی). 2014-11-13. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 23 دسمبر 2016. 
  3. ^ ا ب "Sharif Family". GlobalSecurity.org. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 21 ستمبر 2012. 
  4. Taseer، Sherbano (30 مارچ 2012). "The rebirth of Maryam Nawaz Sharif". The Nation. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 21 ستمبر 2012. 
  5. Habib، Yasir. "Maryam Safdar, PMLN and politics". The Dawn. OnePakistan. اخذ شدہ بتاریخ 21 ستمبر 2012. 
  6. IndiaTimes (16 دسمبر 2013). "Maryam Nawaz Sharif: Rising Star on Pakistan's Political Firmament". دی ٹائمز آف انڈیا. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 21 ستمبر 2012. 
  7. ^ ا ب "Maryam Nawaz makes it to BBC's '100 Women' list of political scions – The Express Tribune". The Express Tribune. 22 مارچ 2017. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 22 اپریل 2017. 
  8. "Maryam Nawaz appointed chairperson of PM's Youth Programme – The Express Tribune". The Express Tribune. 22 نومبر 2013. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 21 اپریل 2017. 
  9. Perasso، Valeria (21 مارچ 2017). "100 Women: Presidential daughters around the world". BBC News. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 22 اپریل 2017. 
  10. "A corruption probe threatens to undo Pakistan's prime minister". دی اکنامسٹ. 13 جولائی 2017. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 جولائی 2017. 
  11. CNN، Sophia Saifi and Judith Vonberg,. "Former Pakistan PM sentenced to ten years in prison". CNN. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 7 جولائی 2018. 
  12. "Pakistan's former PM sentenced to 10 years in prison ahead of elections". 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 7 جولائی 2018. 
  13. "Maryam Nawaz Sharif: A Budding New Political Dynasty In Pakistan?". International Business Times. 27 اگست 2013. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 21 اپریل 2017. 
  14. "'Panama Papers' reveal Sharif family's 'offshore holdings'". Dawn Newspaper (بزبان انگریزی). 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 05 مارچ 2017. 
  15. "Panama Papers: Nawaz family used offshore firms to own UK properties". دی ایکسپریس ٹریبیون (بزبان انگریزی). 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 05 مارچ 2017. 
  16. "Panama Papers: Maryam Nawaz owns properties in Peru and Singapore as well". Daily Pakistan (بزبان انگریزی). 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 05 مارچ 2017.