مرینہ تبسم
| مرینہ تبسم | |
|---|---|
| (بنگالی میں: মেরিনা তাবাসসুম) | |
مرینہ تبسم، 2023ء
| |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سنہ 1968ء (عمر 57–58 سال) ڈھاکہ، بنگلہ دیش |
| قومیت | بنگلہ دیشی |
| عملی زندگی | |
| مادر علمی | بنگلہ دیش یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی |
| پیشہ | معمارہ |
| مادری زبان | بنگلہ |
| پیشہ ورانہ زبان | بنگلہ |
| شعبۂ عمل | معمار |
| تنظیم | Marina Tabassum Architects |
| کارہائے نمایاں | بیت الرؤف مسجد، خودی باڑی |
| اعزازات | |
| آغا خان ایوارڈ برائے فن تعمیر (2016ء، 2025ء)، ثوآنے میڈل (2021ء) | |
| درستی - ترمیم | |
مرینہ تبسم ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ بنگلہ دیشی معمار ہیں جو اپنے جدید مگر مقامی ثقافت اور ماحول سے ہم آہنگ تعمیراتی انداز کے لیے معروف ہیں۔ وہ مرینہ تبسم آرکیٹیکٹس مرینہ تبسم آرکیٹیکٹس (MTA) کی بانی اور سربراہ ہیں۔ انھیں آغا خان ایوارڈ برائے فن تعمیر دو بار اور (Soane Medal) ثوآنے میڈل سمیت کئی بین الاقوامی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔[حوالہ درکار]
ابتدائی زندگی اور تعلیم
[ترمیم]مرینہ تبسم ڈھاکہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کے خاندان نے 1947ء میں تقسیم بنگال کے بعد ہندوستان سے مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) ہجرت کی۔ انھوں نے ہولی کراس گرلز اسکول اینڈ کالج سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں بنگلہ دیش یونیورسٹی برائے انجینئرنگ و ٹیکنالوجی (BUET) سے 1994ء میں فنِ تعمیر میں ڈگری حاصل کی۔[1]
پیشہ ورانہ سفر
[ترمیم]1995ء میں مرینہ تبسم نے ایک شریک معمار کے ساتھ مل کر URBANA اُربانا نامی اسٹوڈیو قائم کیا جو دس برس تک فعال رہا۔[1] 2005ء میں انھوں نے اپنا ذاتی اسٹوڈیو Marina Tabassum Architects مرینہ تبسم آرکیٹیکٹس قائم کیا جس کے تحت وہ ماحول، روشنی، ہوادار فضا اور مقامی مواد کے امتزاج سے ایسی تعمیرات تخلیق کرتی ہیں جو اپنے علاقے کے موسم و معاشرت سے ہم آہنگ ہوں۔[2]
نمایاں منصوبے
[ترمیم]- بیت الرؤف مسجد — ڈھاکہ کے مضافاتی علاقے میں واقع یہ مسجد 2012ء میں مکمل ہوئی۔ اس کا ڈیزائن کسی روایتی مینار یا گنبد سے خالی ہے اور صرف قدرتی روشنی، ہوا اور اینٹ کے سادہ ڈھانچے پر مبنی ہے۔ اس منصوبے پر مرینہ تبسم کو 2016ء میں آغا خان ایوارڈ برائے فن تعمیر دیا گیا۔[3]
- خُدی باری (Khudi Bari) — یہ ایک ماڈیولر موبائل رہائشی یونٹ ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں، سیلاب اور بے دخلی کے شکار خاندانوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ بانس اور ہلکے فولاد سے بنا یہ ڈھانچہ آسانی سے جوڑا یا منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس منصوبے پر انھیں 2025ء میں دوسرا آغا خان ایوارڈ برائے فن تعمیر دیا گیا۔[4]
اعزازات
[ترمیم]- آغا خان ایوارڈ برائے فن تعمیر (2016ء، 2025ء)[5]
- Soane Medal (2021ء)[6]
- Time 100 Most Influential People کی فہرست میں شمولیت (2024ء)[7]
اندازِ فکر
[ترمیم]مرینہ تبسم تعمیر کو محض ایک فن نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری سمجھتی ہیں۔ ان کے نزدیک عمارت کو "سانس لینے کے قابل ہونا چاہیے"، یعنی ایسی ساخت جو مصنوعی نظام پر انحصار نہ کرے بلکہ روشنی اور ہوا کے قدرتی بہاؤ سے ہم آہنگ ہو۔[8]
اثرات و اہمیت
[ترمیم]مرینہ تبسم کا کام بنگلہ دیش اور جنوبی ایشیا میں جدید ماحولیاتی تعمیرات کی نئی سمت متعین کرتا ہے۔ ان کے منصوبے بین الاقوامی سطح پر تدریسی مثال کے طور پر استعمال ہوتے ہیں اور انھیں متعدد جامعات اور عالمی فورمز پر بطور مقرر مدعو کیا جاتا ہے۔[9]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب
- ↑ "Marina Tabassum – Yale Architecture"۔ Yale University۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-10
- ↑ "Bait Ur Rouf Mosque – Marina Tabassum Architects"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-10
- ↑ "Marina Tabassum wins second Aga Khan Award for Architecture"۔ The Daily Star۔ 28 مارچ 2025۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-10
- ↑ "Two-time Aga Khan Award winner architect Marina Tabassum honoured"۔ The Daily Star۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-10
- ↑ "Bangladeshi architect Marina Tabassum wins 2021 Soane Medal in London"۔ The Business Standard۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-10
- ↑ "Bangladeshi architect Marina Tabassum on TIME's 100 Most Influential list"۔ The Daily Star۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-10
- ↑ "Bangladeshi architect Marina Tabassum named on influential global list"۔ Dhaka Tribune۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-10
- ↑ "Shifting Ground: Marina Tabassum"۔ ArchDaily۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-11-10
