مزار قائد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مزارِ قائد
MazareQuad.jpeg
مزار قائد
مزار قائد is located in کراچی
مزار قائد
مزار قائد
مقامکراچی، پاکستان
متناسقات24°52′31.53″N 67°02′27.88″E / 24.8754250°N 67.0410778°E / 24.8754250; 67.0410778متناسقات: 24°52′31.53″N 67°02′27.88″E / 24.8754250°N 67.0410778°E / 24.8754250; 67.0410778
رقبہ61 ایکڑ (3100 m²)
قیام2 جون , 1970
زائرین10,000 (ایک دن میں ےتقریباََ)
حکمران ادارہمزارانتظامیہ بورڈ
مزار قائد کا ایک قدیم تصویر
مزار قائد، کراچی

مزار قائد سے مراد بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی آخری آرام گاہ ہے، جو پاکستان کے تجارتی دار الخلافہ کراچی کے وسط میں واقع ہے۔ مزار پوری دنیا میں کراچی کی پہچان ہے، جس کی تعمیر 1960ء کے عشرے میں مکمل ہوئی۔ مزار 54 مربع میٹر احاطہ پر مؤرش طرز کی سفید سنگ مرمری کمانوں اور تانبا کی باڑوں سے بنایا گیا ہے۔ گنبد کا اندرونی حصہ چین کی عوام کے تحفہ کے گئے فانوس کی وجہ سے حصہ سبز جھلک دیتا ہے۔ مزار کے گرد ایک پارک بنایا گیا ہے، جس میں نصب طاقتور ارتکازی روشنیاں رات کے وقت مزار کے سفید سنگ مرمر پر روشنی ڈالتی ہیں۔ جگہ پرسکون ہے اور دنیا کے عظیم شہروں میں سے ایک کے مرکز کی عکاس ہے۔ مزار کا گنبد کئی میل دور سے دیکھا جا سکتا ہے۔ مزار میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم محترم لیاقت علی خان اور جناح کی بہن محترمہ فاطمہ جناح بھی قائد کے ساتھ دفن ہیں۔ خاص مواقع خصوصاً 23 مارچ، 14 اگست، 11 ستمبر، 25 دسمبر، 8 جولائی اور 30 جولائی کو مزار پر خصوصی تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ غیر ملکی معززین اور اعلیٰ عہدہ دار بھی مزار کا دورہ کرتے ہیں۔ مزار قائد کو اب ملک کے قومی مزار کا درجہ دیا گیا ہے۔

طرز تعمیر[ترمیم]

مزار قائد کے عمارت کو معروف معمار یحیی مرچنٹ نے ڈیزائن کیا تھا۔ جن کا تعلق ترکی سے تھا،

تعمیراتی مراحل[ترمیم]

سید ہاشم رضا نے محترمہ فاطمہ جناح کے مشورہ سے موجودہ جگہ کا انتخاب کیا ۔ یہ جگہ اس لحاظ سے منفرد تھی کہ شہر کے عین وسط میں ایک بلند مقام پر واقع تھی اور شہر کی مرکزی شاہراہ کے کنارے تھی

اب یہاں چھ بڑی سڑکیں آکر ملتی ہیں۔موجودہ مقام پر تدفین کے بعد اس بات پر خصوصی توجہ دی گئی کہ بانیء پاکستان کی قبر پر جو بھی مزار بنایا جائے وہ نہ صرف قائداعظم کے شایان شان ہو بلکہ ان کے عظیم تخیلات اور تصورات کی جیتی جاگتی تصویر ہو۔قائداعظم کو کراچی میں پرانی نمائش پر جس جگہ سپرد خاک کیا گیا وہ جگہ 144 ایکڑ رقبہ کا ایک ہموار قطعہ اراضی ہے اس رقبے پر ایک اندازے کے مطابق دو لاکھ مہاجرین نے جھونپڑیاں ڈال رکھی تھیں۔ قائداعظم کے انتقال کے وقت کراچی انتظامیہ کے سربراہ جناب ہاشم رضاصاحب تھے۔لیاقت علی خان صاحب نے ہاشم رضا صاحب سے کہا کہ وہ شہر میں ایسی جگہ کا انتخاب کریں، جہاں قائد اعظم کو سپردخاک کیا جاسکے پھر کچھ روز بعد قائد کے مزار کے لئے جگہ تلاش کرلی گئی سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ یہاں قائد اعظم کی میت کیوں کر لائی جائے، کیونکہ یہاں چاروں طرف دو لاکھ جھونپڑیاں تھیں ، پھر ہاشم رضا صاحب نے لوگوں سے اپیل کی کہ یہ جگہ قائد اعظم کی ابدی جگہ کے لئے منتخب کی جا چکی ہے۔

یہاں کے عوام نے بہت جلد اپنے قائد کے لئے جگہ خالی کردی اور پھر قائد اعظم کو موجودہ جگہ پر سپرد خاک کیا گیا۔ ستمبر 1948ء سے فروری 1960ء تک بابائے قوم کا مزار شامیانے تلے رہا۔مزار کے لیے کل چار نقشے تیار کیے گئے تھے ۔ایک نقشہ ترک آرکیٹیکٹ اے واصفی ایگلی، دوسرا آرکیٹیکٹ نواب زین یار جنگ اور تیسرا برطانوی آرکیٹیکٹ راگلن اسکوائر نے تیار کیا تھا۔ یہ تینوں نقشے رد کر دئیے گئے ۔بالآخر دسمبر 1959میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی خواہش پر نقشے کی تیاری کا کام ایک آرکیٹیکٹ یحیےٰ مرچنٹ کو دیا گیا۔مزار کے ڈیزائن کا بنیادی کام 28جنوری1960کو مکمل ہوگیا تھا۔ تعمیراتی کام کا باقاعدہ آغاز 8فروری 1960کو ہوا 31جولائی 1960کو اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان نے مزار کا سنگ بنیاد رکھا 31مئی 1966کو مزار کا بنیادی ڈھانچہ مکمل ہوکے12جون 1970کو عمارت کو سنگ مرمر سے آراستہ کرنے کا کام پائےتکمیل تک پہنچا۔23دسمبر1970کو چین کے مسلمانوں کی جانب سے بطور تحفہ بھیجا گیا 81فٹ لمبا فانوس گنبد میں نصب کر دیاگیا۔ مزار کی تعمیر پر ایک کروڑ 48لاکھ روپے کی لاگت آئی جو اس زمانے میں ایک خطیر رقم تھی۔ مزار کا کل رقبہ 116ایکڑ مرکزی رقبہ 61ایکڑ اطراف کے 55ایکڑ پر مشتمل ہے۔مزار کے5دروازے ہیں ایم اے جناح روڈ پر واقع دروازے کا نام باب جناح، شاہراہ قائدین پر واقع گیٹ کا نام باب قائدین ،مشرقی جانب واقع دروازے کو باب تنظیم اور شمالی جانب واقع گیٹ کو باب امام ، پرانی نمائش پر واقع گیٹ کو باب اتحاد کا نام دیاگیا ہے۔ مزار کے مشرقی حصے میں ایک کمرے کے اندر پانچ قبریں ہیں۔یہ قبریں معمولی افراد کی نہیں ہیں بلکہ ان کے سیاسی سفر میں شریک رفقائے کار کی ہیں۔ ان میں سب سے پرانی قبر لیاقت علی خان کی ہے،دوسری قبر سردار عبدالرب نشتر کی ہے ،تیسری قبر محترمہ فاطمہ جناح کی ہے، چوتھی قبر محمد نورالامین کی ہے اور پانچویں قبر بیگم رعنا لیاقت علی خان کی ہے۔[1]

مزار کے مرکزی ہال میں گنبد کے بیچ ایک انتہائی خوبصورت فانوس لگایا گیا ہے یہ فانوس پاکستان کے عظیم دوست ملک چین کے سابق وزیر اعظم جناب چو این لائی نے اپنے عوام کی طرف سے خاص طور پر مزار قائد کے لیے بطور تحفہ حکومت پاکستان کو 20 جنوری 1971ء کو پیش کیا۔ فانوس کی لمبائی تقریباً پندرہ فٹ ہے اور اس کا وزن تین ٹن ہے فانوس کے نچلے حصے میں لگے ہوئے ستاروں کی تعداد سترہ ہے

مزید دیکھیے[ترمیم]

فہرست مزارات و مقابر، پاکستان

بیرونی روابط[ترمیم]

  1. https://jang.com.pk/news/714302