مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی ثالثی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی ثالثی (انگریزی: UN mediation of the Kashmir dispute) کشمیر پر پہلی جنگ کے بعد اس وقت شروع ہوئی جب انڈیا اس مسئلے کو اقوام متحدہ لے گیا۔ اقوام متحدہ کی 13 اگست 1948 ء کی قرارداد میں کہا گیا تھا کہ پہلے پاکستان اپنی فوجیں کشمیر نکالے گا۔ پاکستان نے یہ مطالبہ منظور کیا تھا لیکن 14 مارچ 1950 ء کو سلامتی کونسل نے قرارداد پاس کی تھی کہ اب دونوں ملک بیک وقت فوجوں کا انخلاء شروع کریں گے۔ 13 اگست 1948 ء کی قرارداد میں کہا گیا کہ جب پاکستان اپنی فوج اور قبائلیوں کو نکال لے گا تو یہاں کا انتظام مقامی انتظامیہ سنبھالیں گی اور کمیشن ان کی نگرانی کرے گا۔اس قرار داد میں یہ نہیں کہا گیا تھا کہ بھارت کو یہاں ساری فوج رکھنے کی اجازت ہو گی ۔ بلکہ قرار پایا کہ اس کے بعد بھارت بھی اپنی فوج کا بڑا حصہ "Bulk of its forces" یہاں سے نکال لے گا اور اسے صرف اتنے فوجی رکھنے کی اجازت ہو گی جو امن عامہ برقرار رکھنے کے لیے مقامی انتظامیہ کی مدد کے لیے ضروری ہوں ۔جب اقوام متحدہ کے کمیشن نے دونوں ممالک سے قرارداد پر عملدرآمد کے لیے پلان مانگا تو بھارت نے دو مزید مطالبات کر دیے۔ ایک یہ کہ اسے سیز فائر لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شمال اور شمال مغرب کے علاقوں پر کنٹرول دیا جائے اور دوسرا یہ کہ آزاد کشمیر میں پہلے سے قائم اداروں کو نہ صرف مکمل غیر مسلح کر دیا جائے بلکہ ان اداروں کو ہی ختم کر دیا جائے، اس بات کا اعتراف جوزف کاربل نے اپنی کتاب ’ ڈینجر ان کشمیر ‘ کے صفحہ 157 پر کیا ہے۔جوزف کاربل کا تعلق چیکو سلواکیہ سے تھا اور یہ اقوام متحدہ کے کمیشن کے چیئر مین تھے اور کمیشن میں ان کی شمولیت بھارتی نمائندے کے طور پر ہوئی تھی ۔ جوزف کاربل نے اعتراف کیا کہ بھارتی موقف اقوام متحدہ کی قرارداد سے تجاوز کر رہا تھا ۔ پاکستان نے آزاد کشمیر سے فوج نکالنے پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد کے مطابق بھارت جو ضروری فوج کشمیر میں رکھے گا اس کی تعداد اورتعیناتی کا مقام اقوام متحدہ کمیشن کو پیش کیا جائے۔ بھارت نے اس سے بھی انکار کر دیا ۔اس پر کمیشن نے امریکی صدر ٹرومین اور برطانوی وزیر اعظم کلیمنٹ ایٹلی کی تجویز پر کہا کہ دونوں ممالک اپنا موقف پیش کر دیں جو ایک آربٹریٹر کے سامنے رکھا جائے اور وہ فیصلہ کر دے ۔ اقوام متحدہ کی دستاویزات کے مطابق پاکستان نے یہ تجویز بھی قبول کر لی لیکن بھارت نے اسے بھی رد کر دیا ۔ بھارت کے اپنے نمائندے نے اعتراف کیا کہ اقوام متحدہ کی اس قرارداد پر بھارت کی وجہ سے عمل نہ ہو سکا۔ ان کے الفاظ تھے : "a lack of goodwill on part of India" معاملے کے حل کے لیے سلامتی کونسل نے سلامتی کونسل ہی کے صدر مک ناٹن پر مشتمل ایک یک رکنی کمیشن بنایا ۔ اس کمیشن نے کہا کہ اب دونوں ممالک بیک وقت اپنی فوجیں نکالتے جائیں گے تا کہ کسی کو کوئی خطرہ نہ رہے۔ پاکستان نے یہ تجویز بھی قبول کر لی ۔ بھارت نے اس تجویز کو بھی رد کر دیا . یہاں دل چسپ بات یہ ہے کہ اس تجویز کو سلامتی کونسل نے 14 مارچ 1950 ء کو ایک قرارداد کی شکل میں منظور کر لیا ۔ گویا اب اقوام متحدہ کی قرارداد یہ کہہ رہی ہے کہ دونوں ممالک بیک وقت فوجیں نکالنا شروع کریں گے۔ اقوام متحدہ نے اوون ڈکسن کو جو آسٹریلیا کے چیف جسٹس رہے اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا ۔ انہوں نے فوج کے انخلاء کی بہت سی تجاویز دیں ۔ پاکستان نے سب مان لیں ، بھارتی وزیر اعظم نے ایک بھی نہ مانی ۔ 1951 ء میں بھارت نے کہا ہمیں خطرہ ہے اس لیے ہم فوج نہیں نکالیں گے۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم گورڈن منزیزنے مشترکہ فوج کی تجویز دی بھارت نے رد کر دی ۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں مقامی فورس بنانے کی بات کی بھارت نے اسے بھی رد کر دیا ۔ انہوں نے کہا ہم کامن ویلتھ کی فوج بھیج دیتے ہیں، بھارت نے یہ تجویز بھی رد کر دی ۔ معاملہ ایک بار سلامتی کونسل چلا گیا۔ 30 مارچ 1951 ء کو سلامتی کونسل نے امریکی سینیٹر فرینک پی گراہم کو نیا نمائندہ مقرر کر کے کہا کہ تین ماہ میں فوج کشمیر سے نکالی جائے اور پاکستان اور بھارت اس پر متفق نہ ہو سکیں تو عالمی عدالت انصاف سے فیصلہ کرا لیا جائے۔ فرینک صاحب نے چھ تجاویز دیں بھارت نے تمام تجاویز رد کر دیں ۔ خانہ پری کے لیے بھارت نے کہا وہ تو مقبوضہ کشمیر میں اکیس ہزار فوجی رکھے گا جب کہ پاکستان آزاد کشمیر سے اپنی فوج نکال لے ، وہاں صرف چار ہزار مقامی اہلکار ہوں ، ان میں سے بھی دو ہزار عام لوگ ہوں ، ان کا آزاد کشمیر حکومت سے کوئی تعلق نہ ہو ۔ ان میں سے بھی آدھے غیر مسلح ہوں ۔ گراہم نے اس میں کچھ ردو بدل کیا، پاکستان نے کہا یہ ہے تو غلط لیکن ہم اس پر بھی راضی ہیں ، بعد میں بھارت اس سے بھی مکر گیا ۔ سلامتی کونسل کے صدر نے ایک بار پھر تجویز دی کہ ’’ آربٹریشن ‘‘ کروا لیتے ہیں تا کہ معلوم ہو انخلاء کے معاملے میں کون سا ملک تعاون نہیں کر رہا ۔ پاکستان اس پر بھی راضی ہو گیا ، بھارت نے یہ تجویز بھی ردکر دی ۔[1]


مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]